کیفین سے بھرپور مشروبات پینے سے نوجوان کی موت

موت
،تصویر کا کیپشنڈیوس ایلن کرائپ

امریکی ریاست جنوبی کیرولینا میں موت کی تحقیق کرنے والے طبی افسر کے مطابق 16 سالہ نوجوان ڈیوس ایلن کرائپ نے بہت قلیل عرصے میں کیفین سے بھرپور مشروبات نوش کیے جس کے سبب ان کے موت واقع ہو گئی۔

ڈیوس ایلن کرائپ کی موت اپریل میں ہوئی تھی جب انھوں نے اپنے سکول میں میکڈونلڈز کی کافی، ماؤنٹن ڈیو نامی سافٹ ڈرنک اور ایک انرجی ڈرنک دو گھنٹے کے اندر پی لی تھیں جس کے بعد ان کو 'زیادہ کیفین پینے کی وجہ سے دل کا دورہ پڑا تھا۔'

ڈیوس ایلن کرائپ کا وزن 90 کلوگرام تھا اور اس سے پہلے ان کو کوئی دل کی بیماری نہیں تھی۔

موت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانرجی ڈرنکس میں 14 چمچی چینی اور تین کافی کپ جتنی کیفین ملی ہوئی ہوتی ہے

طبی افسر گیری واٹس نے کہا کہ 'یہ موت زیادہ کیفین پینے سے نہیں ہوئی بلکہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ موت زیادہ کیفین بہت قلیل عرصے میں پینے سے ہوئی ہے۔ آخر میں انرجی ڈرنک پینے سے ان کے دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی بڑھ گئی تھی۔'

کیفین کو شاید ڈیوس ایلن کرائپ کی موت کا سبب نہ گردانا جاتا اگر حکام کو یہ علم نہیں ہوتا کہ ڈیوس ایلن کرائپ نے اپنی موت سے پہلے کیا نوش کیا تھا۔

گیری واٹس نے مزید کہا کہ 'ہم کیفین کے خلاف کوئی بات نہیں کر رہے بلکے صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ لوگوں کو کیفین کی مقدار نوش کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے اور خاص طور پر اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ اسے کیسے پی رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے وہ شراب نوشی یا سگریٹ نوشی میں خیال کرتے ہیں۔'