یونائیٹڈ ایئر لائنز اور گھسيٹ كر باہر نکالے گئے مسافر کے درمیان مالی سمجھوتہ طے پا گیا

امریکہ کی یونائیٹڈ ایئر لائنز اورجہاز سے گھسيٹ كر باہر نکالے گئے ایک شخص کے درمیان مالی سمجھوتہ طے پا گیا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں یونائیٹڈ ایئرلائنز کی شگاگو سے جانے والی ایک پرواز کے اڑان بھرنے سے قبل 69 سالہ مسافر کو گھسیٹ کر طیارے سے باہر نکال دیا گیا تھا۔

یہ مسافر ویتنامی نژاد ڈاکٹر ڈیوڈ دؤ تھے جو دو عشروں سے امریکی ریاست کنٹکی میں مقیم ہیں۔

ڈاکٹر دؤ کے وکلا کا کہنا ہے کہ معاوضے کی ادائیگی کے لیے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ رقم کے بارے میں عوام کو نہیں بتایا جائے گا۔

ڈاکٹر دؤ کے وکلا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یونائیٹڈ ایئرلائنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر آسکر منوز کا ’کہنا تھا کہ وہ درست اقدام کریں گے، اور انھوں نے ایسا ہی کیا۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں پیش آنے والے اس واقعے میں جہاز میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کی بکنگ کے بعد جہاز کے عملے نے چار مسافروں کو اپنی مرضی سے سیٹیں چھوڑنے کا کہا تھا۔

جب مسافروں نے رضاکارانہ طور پر سیٹیں چھوڑنے سے انکار کیا تو جہاز کے عملے نے خود چار مسافروں کو چنا لیکن جب ایک مسافر نے سیٹ چھوڑنے سے انکار کیا تو اسے سکیورٹی اہلکاروں کی مدد سے گھسیٹ کر طیارے سے اتارا گیا۔

اس مسافر کو جہاز سے گھسیٹ کر نکالنے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس پر یونائیٹڈ ایئر لائن کو معافی مانگنی پڑی۔

ڈاکٹر ڈیوڈ دؤ کو زبردستی باہر نکالنے کی ویڈیو پر سوشل میڈیا میں غصہ پھیلا اور لاکھوں لوگوں نے اس ویڈیو کو دیکھا۔

ویڈیو سامنے کے بعد یونائیٹڈ ایئرلائنز نے اپنے ملازمین کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسافر ’اڑیل اور جھگڑالو‘ تھا اور اسے ہوائی جہاز سے نکالنے کے لیے طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیا گیا۔

اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد ہوائی کمپنی کی مالک کمپنی کے حصص میں چار فیصد سے زیادہ کمی ہوئی اور اپنی بکنگ پالیسیوں میں تبدیلی بھی کی ہے۔

یونائیٹڈ ایئر لائنز نےاعلان کیا ہے کہ طیارے میں زیادہ مسافروں کی بکنگ کی صورت میں رضاکارانہ طور پر سیٹ چھوڑنے پر دس ہزار ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔