آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یونائیٹڈ ایئرلائن کی جانب سے مسافر کو گھسیٹنے پر سوشل میڈیا پر طنز
امریکی فضائی کمپنی کی جانب سے ایک مسافر کو گھسیٹ کر باہر نکالنے کے معاملے پر دنیا بھر میں شدید ردِ عمل سامنے آ رہا ہے۔
ایک جانب یونائیٹڈ ایئرلائن ہدفِ تنقید ہے تو دوسری جانب ایسے امریکی جو دنیا کے سامنے اس مسافر کا ماضی لانے پر کمر بستہ ہیں۔
اردن کی قومی فضائی کمپنی رائل جارڈینیئن نے، جو سوشل میڈیا پر اپنے انوکھے انداز کی وجہ سے مشہور ہے، یونائیٹڈ کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے ایک میم شیئر کی جس میں لکھا گیا تھا 'ہم یادہانی کروانا چاہتے ہیں کہ ہماری پروازوں پر مسافروں اور عملے کی جانب سے ڈریگز (یعنی کش لینا) سختی سے منع ہے۔'
اس کے اوپر بڑے معنی خیز انداز میں تبصرہ لکھا ہے 'ہم یہاں آپ کو متحد رکھنے کے لیے ہیں۔ اور تمباکو نوشی یعنی ڈریگنگ (جس کے معنے گھسیٹنے کے بھی ہیں) سختی سے منع ہے۔'
رائل جارڈینیئن نے بڑی مہارت سے ’ڈریگنگ‘ کا لفظ استعمال کیا اور اسے پھر اس واقعے سے جوڑا جس پر انھیں ہر جانب سے داد دی جا رہی ہے۔
ایک فیس بُک پیج نے، جو کہ پی آئی اے کا نہیں ہے، پی آئی اے کے عملے کی تصویر کے ساتھ ایک تصویر شائع کی جس میں لکھا ہے کہ 'آپ ہمیں جو مرضی کہیں مگر ہم اپنے مسافروں کو دھکے دے کر باہر نہیں نکالتے'۔
امریکہ ہی کی ایک اور فضائی کمپنی ساؤتھ ویسٹ کے لوگو کے ساتھ ایک میم میں لکھا گیا ہے کہ 'ہم اپنے حریفوں کو پچھاڑتے ہیں، آپ کو نہیں۔'
تاہم اس پیغام کا ساؤتھ ویسٹ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دبئی کی فضائی کمپنی الامارات نے اس موقعے کو غنیمت جانتے ہوئے یونائیٹڈ ایئر لائن کے سی ای او کو ہدفِ تنقید بنایا جنہوں نے ماضی میں کہا تھا کہ الامارات ایک حقیقی فضائی کمپنی نہیں ہے۔
ٹوئٹر پر ایک صارف تنمے ڈیسائی نے لکھا کہ 'مجھے نہیں پتا کہ لوگ یونائیٹڈ پر اتنا آگ بگولا کیوں ہو رہے ہیں کیونکہ یہ واحد فضائی کمپنی ہے جس میں آپ کو سیٹ مل سکتی ہے، بے شک آپ نے بُکنگ نہ کی ہو۔'