جنوبی کوریا میں برطرف صدر کی گرفتاری کے لیے مظاہرے

جنوبی کوریا، صدر

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمظاہرین کے ہاتھوں میں موجود بینرز پر برطرف صدر سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ جیل میں جائیں

جنوبی کوریا کی صدر پارک گن کی برطرفی کے عدالتی فیصلے کے بعد عوام ان کی گرفتاری کے مطالبات کر رہے ہیں تاہم ان کی جانب سے تاحال کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز ملک کی سپریم کورٹ کے سبھی ججوں نے متفقہ طور پر اپنے فیصلے میں پارلیمان کی جانب سے پارک گن کا مواخذہ کرنے کو دورست قرار دیا تھا اور انھیں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔

بدعنوانی کے ایک سکینڈل میں صدر پارک اور ان کی ایک قریبی دوست چوئی سون سل کے ملوث ہونے کی بنا پر پارلیمان نے ان کا مواخذہ کیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے باوجود پارک گن اب بھی صدارتی عمارت میں موجود ہیں۔

سنیچر کو سیئول میں ہزاروں افراد نے ریلیاں نکالیں۔ یہیں تین روز قبل احتجاج کرنے والے تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اگرچہ وہاں موجود کچھ لوگ برطرف صدر کے حق میں بھی مظاہرے کر رہے ہیں تاہم زیادہ تر پارک گن کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دونوں جانب جھڑپوں کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے وہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

برطرف صدر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کی ترجمان چوئی انسوک نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ برطرف صدر کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مارک گن کو صدارتی اثتثنٰی حاصل نہیں ہے اور وہ فوجداری قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا کر سکتی ہیں۔

پارک جنوبی کوریا کی جمہوری طور پر منتخب پہلی رہنما ہیں جنھیں ان کے عہدے سے برطرف کیا گيا ہو۔

ادھر ملک کے الیکشن کمیشن نے 'آزاد و شفاف' انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ ووٹنگ نو مئی کو ہوئی۔

پولز کے مطابق اس وقت ڈومیسٹک پارٹی کے مون جائے اِن اس وقت قائم مقام صدر وانگ یو آن جو کہ پارگ گن کے وفادار ہیں سے 22 فیصد آگے ہیں۔

وانگ یو آن نے عوام سے پرامن رہنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ داخلی انتشار کو بڑھنے سے روکنے کے لیے حکومت کو مستکم رہنا ہوگا۔

جنوبی کوریا، صدر

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبرطرف صدر کے حق میں بھی لوگوں نے مظاہرہ کیا

برطرف صدر کے حامیوں میں سے دو مظاہرین کی ہلاکت کے بعد پولیس بھی کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

صدر پارک کو گذشتہ دسمبر میں ہی صدارتی ذمہ داریوں سے دستبردار کر دیا گیا تھا اور صدر کے فرائض ملک کے وزیراعظم نبھا رہے تھے۔

صدر پارک کی قریبی دوست چوئی سون سل دھوکہ دہی اور اقتدار کے ناجائز استعمال کے الزامات میں زیر حراست ہیں۔ ان پر جنوبی کوریا کی کمپنیوں سے بھی بھاری رقم بٹورنے کے الزامات ہیں۔

مس چوئی کو اختیارات کے غلط استعمال اور فراڈ کی سازش سمیت متعدد الزامات کا سامنا ہے۔

لیکن دونوں خواتین بدعنوانی سکینڈل کے الزامات سے انکار کرتی رہی ہیں۔