’سپین میں ٹھگوں کی ایک اور ریستوران میں واردات ‘

،تصویر کا ذریعہEL RINCON DE PEPIN
سپین میں پولیس ابھی ایک ریستوران میں کھانا کھانے کے بعد بل ادا کیے بغیر فرار ہونے والے گینگ کی تحقیقات میں مصروف تھی کہ ایک اور ریستوران میں ایسا واقعہ پیش آ گیا۔
گذشتہ ہفتے سپین کے شمالی مغربی علاقے بیمبائبر ایک ریستوران کے مالک کے مطابق 120 کے قریب افراد اس کے ریستوران میں کھانا کھانے کے بعد بل ادا کیے بغیر فرار ہو گئے۔
اب اس ریستوران سے تقریباً دس کلومیٹر دور واقع ایک اور ریستوران میں ایسا ہی واقعہ پیش آیا ہے۔
متاثرہ ریستوران کی مالک کے مطابق ان کے خیال میں وہ ایسی گروہ کا نشانہ بنی ہیں جس نے ایک ہفتہ قبل واردات کی تھی۔
ال رینکون ڈی پیپن کی مالک لورا ایرئیس کے مطابق گروپ نے انھیں بتایا کہ وہ شادی کی ایک تقریب کا انعقاد کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے کھانا بھی تقریباً سادہ سا ہی منگوایا۔
گروپ نے ایک ہزار یورو بکنگ کے وقت ادا کیے لیکن کھانے اور مشروبات کی مد میں دس ہزار یورو کا بل بنا۔
لورا ایرئیس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا:' گروپ 160 افراد پر مشتمل تھا اور اچانک ہی غائب ہو گیا، پانچ منٹ کے اندر اندر، اور یہ غیر معمولی چیز ہے۔ عام طور پر لوگ جب جانا شروع ہوتے ہیں تو آپ توقع کرتے ہیں کہ کوئی آپ کے پاس آ کر بات کرے گا کہ وہ بقایا بل اگلی صبح ادا کر دیں گے یا کچھ اور۔ لیکن انھوں نے کچھ نہیں کہا اور غائب ہو گئے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس انوکھے جرم کے بارے میں پولیس کو آگاہ کر دیا گیا ہے لیکن لورا ایرئیس کو کوئی شک نہیں کہ اس میں کون ملوث ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ وہ ہی لوگ تھے اور تصویروں سے پہچان سکتے ہیں۔
بعض اطلاعات کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس گروپ کا تعلق مشرقی یورپ سے ہے۔
ایک مقامی اخبار کے مطابق پولیس نے دو مرکزی ملزمان کی نشاندہی کی ہے اور پولیس دونوں واقعات میں تعلق کے واضح شواہد حاصل کرنے پر کام کر رہی ہے۔
گذشتہ ہفتے کارمین ریستوران کے مالک اینٹونیو روڈرج نے بتایا کہرومینیائی نسل کے لوگوں نے پہلے ہی سے 950 ڈالر کی رقم ادا کر کے ریستوران بک کروایا تھا لیکن کھانا کھانے کے بعد ابھی ڈیزرٹ یعنی مٹھائی کا دور باقی تھا کہ بقایا رقم ادا کیے بغیر ہی سب کے سب بھاگ نکلے۔

،تصویر کا ذریعہGoogle
انھوں نے بتایا: 'یہ سب ایک منٹ کے وقفے میں ہی ہوا۔ یہ سب پہلے ہی منصوبہ سازی کے تحت کیا گيا اور بھگدڑ کی شکل میں فرار ہوئے۔'
اینٹونیو کے مطابق انھیں تقریباً دو ہزار یورو کی مزید رقم ادا کرنا تھی۔
انھوں نے کہا کہ وہ گذشتہ 35 برس سے یہ کاروبار کر رہے ہیں لیکن اس سے قبل ان کے ساتھ کبھی ایسا واقعہ پیس نہیں آیا تھا۔







