آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
موصل میں محصور شہریوں کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کی اپیل
اقوام متحدہ نے عراق کے شہر موصل میں محصور لاکھوں افراد کی جان کی حفاظت کو انتہائی اہم قرار دیا ہے کیونکہ عراقی فوج شہر کے مغربی علاقے پر قابض دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف حملے کی تیاری کر رہی ہے۔
عراق کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی بنیادوں پر تعاون کی رابطہ کار لیز گرانڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ عراق نے جب شہر کے مشرقی علاقے کو واپس حاصل کیا تھا اس وقت بھی اس نے لوگوں کی حفاظت کو اولیت دی تھی۔
عوام کو آگاہ کرنے کے لیے طیاروں سے اس علاقے میں پرچے گرائے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ موصل دولت اسلامیہ کا آخری اہم گڑھ ہے جبکہ شہر سے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کی مہم گذشتہ سال اکتوبر سے جاری ہے۔
گرانڈ نے کہا کہ عراقی فوجیوں کو اس بات کی یقین دہانی کرانی چاہیے کہ آپریشن کے دوران انسانی حقوق کی پامالی نہ ہو اور اس جنگ میں شریک تمام فریقین وہ تمام طریقے اختیار کریں جس سے شہریوں کی جان محفوظ رہے اور وہ جنگ سے بچ سکیں۔
تاہم انھوں نے کہا کہ مغربی موصل کو واپس لینا انتہائی اہم ہے۔
عراقی فوج نے رواں سال کے اوائل میں شہر کے مشرقی حصے پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا اور اب اس نے مغربی حصے کو پوری طرح محصور کر لیا ہے۔
جبکہ امریکہ کی قیادت والے اتحاد کی جانب سے دولت اسلامیہ پر فضائی حملے جاری ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے سیبیٹیئن اشر کا کہنا ہے کہ صرف شہر پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لینا اور دولت اسلامیہ کو اس کے مضبوط گڑھ سے نکال بھگانا ہی اس کے مقاصد میں شامل نہیں بلکہ شہر کے لوگوں کا اعتماد جیتنا ان کے لیے اہم ہے اور اس کے لیے کم سے کم شہریوں کی جان کی ہلاکت اور انتقامی کارروائیوں سے گریز ضروری ہے۔