سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے 900 اہلکاروں کے ٹرمپ پالیسی کے خلاف اختلافی نوٹ پر دستخط

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی وزارت خارجہ کے تقریباٌ 900 اہلکاروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلمان ممالک کے شہریوں اور پناہ گزینوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف اختلافی نوٹ پر دستخط کر دیے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے سینیئر اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اختلافی نوٹ قائم مقام سیکریٹری آف سٹیٹ ٹام شینن کو ڈپارٹمنٹ کے 'ڈسنٹ چینل' کے ذریعے جمع کرا دیے گئے ہیں۔
اختلافی نوٹ اس صورت میں جمع کرایا جاتا ہے جب اہلکاروں کو کسی پالیسی سے اختلاف ہوتا ہے۔
پیر کے روز وائٹ ہاؤس کے ترجمان شون سپائسر نے کہا تھا کہ انھیں اس اختلافی نوٹ کے بارے میں علم ہے لیکن وہ تمام افسران جنھیں اعتراضات ہیں وہ یا تو اس پالیسی پر عمل کریں یا اپنا استعفیٰ جمع کرا دیں۔
اس اختلافی نوٹ کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اس نئی پالیسی سے امریکہ کا ان سات متاثرہ ملکوں سے تعلقات بگڑ جائیں گے اور امریکہ مخالف خیالات کو ہوا ملے گی۔ ساتھ ساتھ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ پالیسی غیر امتیازی سلوک اور انصاف پسندی جیسے امریکی اقدار کے منافی ہے ۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے جمعے کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے بعد ایران، عراق، شام، یمن، سوڈان، لیبیا اور صومالیہ کے باشندوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط سے پہلے بھی صدر ٹرمپ کے متوقع فیصلوں سےسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں بے یقینی کی کیفیت تھی کہ وہ روس کے خلاف لگائی گئی پابندیوں کو کم کر دیں گے۔









