ٹرمپ سائبر سکیورٹی کا سفیر تعینات کریں: اوباما

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر اوباما نے کہا ہے کہ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ امریکہ کو محفوظ رکھنے کے لیے سائبر سکیورٹی کا سفیر تعینات کریں۔
100 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں امریکی سائبر سکیورٹی کی کمزوریوں کو اجاگر کیا گیا ہے اور نجی شعبے سے کہا گیا ہے کہ انھیں ختم کرنے میں مدد کریں۔
یہ رپورٹ صدر اوباما کی جانب سے نئی انتظامیہ کی مدد کے سلسلے میں بنائے گئے ایک کمیشن نے جاری کی ہے۔
صدر اوباما کا کہنا ہے کہ کمیشن کی تجاویز پر ٹرمپ صدارت کے پہلے 100 روز میں عمل ہو جانا چاہیے۔
صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ اگلی انتظامیہ اس مسئلے پر کام کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ سائبر سپیس ترقی، جدت، اور امریکہ سمیت دنیا بھر میں تبدیلی کا اہم ذریعہ رہے۔‘
تاہم یہ رپورٹ نومنتخب صدر ٹرمپ کو صرف تجویز ہی دے سکتی ہے اور وہ چاہیں تو اسے نظر انداز کر سکتے ہیں۔
نیشنل سائبر سکیورٹی کی بہتری کے لیے بنائے گئے صدارتی کمیشن نے الیکٹرانک آلات پر درجہ بندی پر مبنی لیبل جاری کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔ اس لیبل پر استعمال کرنے والے کے لیے اس آلے کو محفوظ بنانے کے حوالے سے ہدایات درج ہوں گی۔
اس سال کے آغاز میں غیر محفوظ ویب کیمروں کو ہیک کر کے ہیکروں نے بوٹ نیٹ اٹیک میں استعمال کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بوٹ نیٹ اٹیک حملہ کرنے کا ایسا طریقہ ہے جس میں انٹرنیٹ سے کسی ایک کمپیوٹر کی جانب انتہائی بڑی مقدار میں ڈیٹا بھیجا جاتا ہےجس سے وہ کمپیوٹر معطل ہو کر رہ جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہThinkstock
انٹرنیٹ سے منسلک کیمرے ویب کیم ہیکروں کو اسی نوعیت کے حملے کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
صارفین کو ان آلات کی بنیادی سکیورٹی کے بارے میں آگاہ کر کے مستقبل میں ایسے حملوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم کمیشن کا کہنا ہے کہ مستقبل میں وہ سائبر سکیورٹی کی ذمہ داری صارفین سے ہٹا کر اسے حکومتی نظام کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔
کمیشن نے سنہ 2021 تک آئی ڈینٹٹی تھیفٹ یعنی کسی کی شناخت چوری کرنے کے واقعات کو ختم کرنے کا ہدف بھی رکھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ایک لاکھ نئے حکومتی اہلکاروں کو سائبر سکیورٹی میں ترتیب دے کر اس کام کے لیے مختص کرنا ہو گا۔
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ میں کمزور سائبر سکیورٹی اور اسی وجہ سے دیگر ممالک کے لیے امریکی نظام میں مداخلت کے حوالے سے خدشات عروج پر ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ صدارت کے پہلے 100 روز میں کوئی بڑا سائبر حملہ متوقع ہے۔
امریکہ میں صدارتی انتخاب کے دوران روس پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے ڈیموکریٹک پارٹی کے کی ای میل ہیک کیں جن سے یہ ظاہر ہوا کہ ڈیموکریٹک پارٹی نے مبینہ طور پر امیدوار برنی سینڈرز کو دبانے کی کوشش کی۔









