واشنگٹن میں نئی امریکی انتظامیہ کے ارکان سے متعلق قیاس آرائیاں

امریکہ میں صدارتی انتخابات کے نتائج کے بعد دارالحکومت واشنگٹن میں ہر محفل میں گفتگو کا یہ ہی محور ہے کہ ٹرمپ کی حکومت میں کسے کون سا عہدہ ملے گا۔

کامیابی کے بعد اپنی تقریر میں ٹرمپ نے اپنے بعض خاص وفادار رپبلکن رہنماؤں کی تعریف کی تھی اور امکان ہے کہ وہی افراد ان کی کابینہ کے اہم عہدوں پر فائز ہوں گے۔

ان کے بعض ساتھیوں نے انتخابی مہم کے دوران ہی ایسے بعض لوگوں کے نام بھی ظاہر کر دیے تھے۔ یہاں ایسے افراد کا ذکر کیا گیا ہے جن کے ٹرمپ کی انتظامیہ میں شامل ہونے کا زیادہ امکان ہے،

نیوٹ گنگرچ

سخت گیر نظریات کے حامل قدامت پسند رہنما نیوٹ گنگرچ ابتدا ہی سے ٹرمپ کے حامی رہے ہیں اور وہ ان کی کابینہ میں وزیرِ خارجہ کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔

کانگریس کے سپیکر کی حیثیت سے سنہ 1994 میں انھوں نے ایوان نمائندگان میں رپبلکنز کی اکثریت کے لیے کافی محنت کی تھی اور کامیاب ہوئے تھے۔

73 سالہ گنگرچ کا تعلق جورجیا سے ہے جو بعض اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی کی بنیاد پر اس وقت سپیکر کی حیثیت سے مستعفی ہوگئے تھے۔

سنہ 2011 میں وہ رپبلکنز کی جانب سے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں بھی شامل ہوئے تھے لیکن اس میں انھیں ناکامی ہاتھ آئی تھی۔

روڈی جولیانی - اٹارنی جنرل

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک اور بڑے حامی روڈی جولیانی ہیں جن کے متعلق یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ ٹرمپ کی کابینہ میں اٹارنی جنرل کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔

نائن الیون کے حملے کے وقت مسٹر جولیانی ہی نیو یارک کے میئر تھے اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے اور اس کے بعد کی مشکل صورت حال میں انھوں نے بڑی ثابت قدمی کا ثبوت دیا تھا۔

انھوں نے ہی نیو یارک پولیس میں کسی بھی شخص کو روک کر تلاشی لینے کے عمل کو متعارف کروایا تھا جس پر بہت سے لوگوں نے یہ کہہ کر تنقید کی تھی کہ یہ نسلی بنیادوں پر ایک طرح کی پروفائلنگ ہے۔

اپنے آپ کو قانون کا علمبردار ثابت کرنے کی کوشش میں ٹرمپ نے اس طریقے کی بھرپور حمایت کی تھی۔

روڈی جولیانی 2008 میں ریپبلکنز کی جانب سے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل بھی ہوئے تھے لیکن جان مکین اور مٹ رومنی سے پیچھے رہ جانے کے باعث وہ اس دوڑ سے دستبردار ہوگئے تھے۔

رینس پرائبس

44 سالہ نوجوان دکھنے والے رینس پرائبس وہائٹ ہاؤس میں چیف آف سٹاف یعنی ٹرمپ کے مشیر خاص کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔

انھوں نے رپبلکن نیشنل کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی اور پارٹی کے بڑے رہنماؤں، جو خود اپنے ہی امیدوار کے بیانات سے پریشان تھے، کے درمیان روابط قائم رکھنے میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

مسٹر پرائبس کانگریس کے سپیکر پال رائن سے قریب تصور کیے جاتے ہیں جو کانگریس میں مختلف قوانین کی منظوری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

کرس کرسٹی

ریاست نیو جرسی کے گورنر کرس کرسٹی کو وزارت تجارت کا عہدہ ملنے کا امکان ہے۔ کرس کرسٹی پہلے خود صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل تھے پھر اس سے دستبردار ہوگئے اور ٹرمپ کی حمایت کا اعلان کیا۔

54 سالہ کرسٹی اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی وہائٹ ہاؤس میں منتقلی سے متعلق تمام ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

وزارت تجارت سمیت ان کے متعلق ٹرمپ کی کابینہ میں کئی عہدوں کی باتیں کہی جاتی رہی ہیں۔ نیو جرسی اور نیو یارک کے درمیان ایک پل کی تعمیر میں ہونے والے سکینڈل کے حوالے سے بھی ان کا نام آیا تھا۔

کابینہ میں کسی بھی شخص کی شمولیت تبھی ہو سکتی ہے جب سینیٹ بھی اس کے نام کی منظوری دے اور اس حساب سے ان کے بارے میں ابھی کچھ بھی کہنا آسان نہیں ہے۔

جیف سیشنز

جیف ریاست الاباما سے سینٹ کے رکن ہیں اور ان کا نام وزیرِ دفاع کے لیے لیا جا رہا ہے۔

جیت کے بعد اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ 'چونکہ جیف بہت سمارٹ ہیں اس لیے واشنگٹن میں وہ بہت ہی محترم شخص ہیں۔'

59 برس کے جیف سیشنز نے 2003 میں عراق پر حملے کی حمایت کی تھی لیکن ٹرمپ نے عراق پر حملے کو خطرناک بیوقوفی سے تعبیر کیا تھا۔

جیف سینیٹ کی آرمڈ سروس کمیٹی، عدالتی کمیٹی اور بجٹ کمیٹی میں حصہ لیتے ہیں۔

مائیکل فلن

مائیکل فلن امریکی فوج میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں اور انھیں قومی سلامتی کا مشیر مقرر کیا جا سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا فوج کا کوئی تجربہ نہیں ہے لیکن فلن ہی تھے جنھوں نے انتخابی مہم کے دوران ان سے امریکی فوجیوں سے رابطہ کروانے میں کامیابی دلوائی۔

ان کا کہنا ہے کہ ریڈیکل اسلام کے تعلق سے ان کے جو نظریات ہیں اسی کی وجہ سے انھیں سنہ 2014 میں ڈیفینس انٹیلیجنس ایجنسی کے ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

انتخابی مہم کے دوران نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے متعلق اوباما انتظامییہ کی جو پالیسیاں تھیں اس پر انھوں نے سخت نکتہ چینی کی۔

سٹیون مینچن

ٹرمپ کی کابینہ میں سٹیون منچن وزیر خزانہ بن سکتے ہیں۔

دیکھنا یہ ہوگا کہ ٹرمپ کے اس قدم کو ان کے حامی تسلیم کرتے ہیں یا نہیں کیونکہ ان کا تعلق وال سٹریٹ سے اور بہت سے لوگوں کو یہ بات پسند نہیں آئے گی۔

گولڈ مین سیکس میں 17 برس تک کام کرتے ہوئے انھوں نے خوب رقم جمع کی اس کے بعد انھوں نے فلم بنانے کے لیے کمپنی لانچ کی تھی۔

اسی کمپنی نے ایکس مین فرینچائز اور امریکن سنائپر جیسی سپر ہٹ فلمیں بنائی ہیں۔