آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
صدر اوباما سے ملاقات، میرے لیے اعزاز کی بات: ٹرمپ
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صدر براک اوباما سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ صدر اوباما سے ملاقات ان کے لیے ’اعزاز کی بات‘ تھی۔ صدر براک اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کو ’شاندار‘ قرار دیا۔
اوول آفس میں ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ ملاقات کے دوران ملکی اور غیر ملکی معاملات زیر بحث آئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ اور ان کی ٹیم مسٹر ٹرمپ کی کامیابی کے لیے ہر ممکن امداد فراہم کرے گی کیونکہ ان کی کامیابی امریکہ کی کامیابی ہے۔
اس موقع پر مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ وہ صدر اوباما کے ساتھ مزید ملاقاتوں کے خواہشمند ہیں۔
صدر اوباما سے 90 منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو گئے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق ایسا دکھائی دیتا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے اپنے ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر خوشگوار ماحول میں ملاقات کی ہے۔
’دونوں رہنماؤں نے اپنی ٹیموں کے بنیادی معاملات پر اکٹھے کام کرنے کی بات کی ہے جبکہ مسٹر ٹرمپ نے تو مستقبل میں صدر اوباما سے مشورے لینے کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھا۔‘
نامہ نگاروں کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں نہ مسٹر ٹرمپ اوباما کیئر اور ایران سے جوہری معاہدے سمیت صدر اوباما کے دور میں کیے گئے زیادہ تک اقدامات کو ختم وعدہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نیویارک سے اپنے ذاتی طیارے کے ذریعے ریگن نیشنل ایئرپورٹ پر اترے۔ ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ میلانیا بھی ہیں جن کی خاتون اول مشیل اوباما سے ملاقات ہوئی۔
رپبلکن پارٹی کے نو منتخب صدر نے باراک اوباما کی امریکی شہریت پر سوالات اٹھائے تھے اور ان کی ان کی کئی اہم پالیسیوں کو ختم کرنے کا وعدہ بھی کر چکے ہیں۔
دوسری جانب صدر اوباما نے بھی انتخابی مہم کے دوران ’بے مثال نااہل‘ قرار دیا تھا لیکن اب ان ہھی کا کہنا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ’راہ ہموار‘ کر رہے ہیں۔
ادھر امریکہ کے متعدد شہروں میں ہزاروں افراد نے ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد مظاہرے کیے ہیں۔
ان مظاہروں میں شریک افراد 'یہ میرا صدر نہیں' کے نعرے لگا رہے تھے اور انھوں نے ٹرمپ کے پتلے بھی نذرِ آتش کیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ منگل کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں تمام اندازوں کے برعکس ڈیموکریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن کو شکست دے کر امریکہ کے 45ویں صدر منتخب ہوئے ہیں۔
جمعرات کو ان کی صدر اوباما سے ملاقات ایک مشکل ملاقات ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ٹرمپ نے نہ صرف اوباما کی امریکی شہریت پر سوال اٹھایا تھا بلکہ وہ ان کی کئی اہم پالیسیوں کو ختم کرنے کا وعدہ بھی کر چکے ہیں۔
صدر اوباما نے بھی ٹرمپ کے خلاف انتہائی سخت انتخابی مہم چلائی تھی اور انھیں صدراتی منصب کے لیے ناموزوں قرار دیا تھا تاہم اب انھوں نے تمام امریکیوں پر انتخابی نتائج تسلیم کرنے پر زور دیا ہے۔
اوباما نے کہا: 'اب ہم سبھی ان کے امریکہ کو متحد رکھنے اور اس کی قیادت سنبھالنے کی کامیابی کے متمنّی ہیں۔'
اوباما نے لوگوں کو متحد رہنے کی بات کہی ہے جبکہ ہلیری کلنٹن نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ ٹرمپ کو قیادت سنبھالنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
تاہم ان بیانات اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کے خلاف امریکہ کی کئی ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔
نیویارک میں ہزاروں افراد نے ٹرمپ ٹاور کی جانب مارچ کیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن، ہم جنس پرستی اور اسقاطِ حمل کے بارے میں پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔
پولیس نے پہلے ہی اس عمارت کے آس پاس سکیورٹی سخت کر دی تھی اور روکاٹیں کھڑی کر دی تھیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اس احتجاج میں شریک 15 افراد کو پولیس نے حراست میں بھی لیا ہے۔
امریکہ کا صدارتی انتخاب: ریاستوں نے کسے ووٹ دیا
امریکہ کے دیگر شہروں میں ہونے والے مظاہرے زیادہ تر پرامن رہے تاہم کیلیفورنیا کے علاقے اوکلینڈ میں کچھ مظاہرین نے دکانوں کے شیشے توڑے اور پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس پھینکی۔
لاس اینجلس اور اوریگن کے شہر پورٹ لینڈ میں ٹرمپ مخالف مظاہرین نے اہم شاہراہیں بند کر دیں جبکہ شکاگو میں ہجوم نے ٹرمپ ٹاور کے داخلی دروازے پر دھرنا دے دیا اور 'نو ٹرمپ، نو کے کے کے، نو فاشسٹ یو ایس اے' کے نعرے لگاتے رہے۔
اس کے علاوہ فلاڈیلفیا، بوسٹن، سیاٹل اور سان فرانسسکو میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں جہاں کچھ علاقوں میں بطور احتجاج لوگوں نے امریکی پرچم بھی جلائے۔
واشنگٹن ڈی سی میں مظاہرین نے شمعیں روشن کیں۔ اس مظاہرے کے منتظم بین وکلر کا کہنا تھا کہ 'ہم یہاں اس لیے جمع ہیں کہ یہ تاریک ترین لمحات ہیں، ہم اکیلے نہیں ہیں۔'
بدھ کو جیت کے بعد اپنے پہلے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لوگوں کو متحد رکھنے کی بات کہی تھی اور زور دیا تھا کہ وہ سبھی امریکیوں کے صدر ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا ہے کہ صدر اوباما ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار کی ہموار منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ ہیں تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ جمعرات کو ہونے والی ملاقات 'ایک آسان ملاقات نہیں ہوگی۔'
ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ وائٹ ہاؤس میں ان کی اہلیہ ملانیا بھی ان کے ہمراہ ہوں گی جو مشیل اوباما سے علیحدہ ملاقات کریں گی۔
نومنتخب صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو براک اوباما کو روزانہ دی جانے والی سکیورٹی بریفنگ تک رسائی کے بھی حقدار بن گئے ہیں۔ اس بریفنگ میں امریکہ کے خفیہ آپریشنز اور ملک کی 17 خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے جمع کردہ دیگر ڈیٹا شامل ہوتا ہے۔