آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
روس میں ٹرمپ کی کامیابی پر جشن کیوں منایا جا رہا ہے؟
- مصنف, سارہ رینزفورڈ
- عہدہ, بی بی سی، ماسکو
روس کی پارلیمان میں ارکان نے امریکہ کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کی خبر ملتے ہی مسرت کا اظہار کیا جبکہ روسی صدر نے بغیر کسی تاخیر کے ٹرمپ کو مبارکباد کا پیغام بھیجا۔
اس کے علاوہ سرکاری ٹی وی چینلز پر امریکی انتخاب میں دھاندلی کے الزامات اچانک غائب ہو گئے اور ان کی جگہ پر ٹرمپ کی تعریف کی جانے لگی ۔انتخاب میں ٹرمپ کی کامیابی واضح طور پر ماسکو کو فائدہ مند لگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کی تقریر کے فوری بعد صدر پوتن کی جانب سے انھیں ارسال کیے جانے والے پیغام میں انھوں نے روس اور امریکہ کے تعلقات کو بحران کی کیفیت سے نکالنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی امید ظاہر کی۔
اس کے علاوہ انھوں نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ عالمی بحرانوں سے نمٹنے اور عالمی سطح پر سکیورٹی چیلنجوں کے موثر جواب کے لیے ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تعمیراتی بات چیت کی ضرورت ہے جو کہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہو۔
روسی صدر کے حامی تجزیہ کاروں اور سیاست دانوں نے ٹرمپ کی کامیابی کو کھلے عام مسرت افزا قرار دیا ہے۔
ٹی وی چینل رشیا ٹو ڈے کی ایڈیٹر مارگریٹا سیمونین نے ٹویٹ کی کہ'میں ماسکو بھر میں اپنی گاڑی کی کھڑکی میں امریکی جھنڈا لہراتے ہوئے گاڑی چلانا چاہتی ہوں، آپ بھی آئیں اور میرے ساتھ شامل ہوں۔'
پوتن کی حامی یونائیٹیڈ رشیا پارٹی کے ایک رکن یشاوشوک نکووف نے ٹرمپ کے ووٹرز کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا:'وہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ اور روایتی واشنگٹن کے ساتھ لڑ رہے ہیں جبکہ تمام وی وی چینلز سے جھوٹ باہر نکل رہا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یشاوشوک نکووف نے امریکی انتخاب کی بھرپور کوریج کرنے والے سرکاری ٹی وی چینل رشیا 24 کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ' یہ انتخاب احتجاج کا ووٹ تھا۔ جو موجودہ طریقۂ کار اور موجود وائٹ ہاؤس کے خلاف تھا۔'
لیکن روس میں ہر کوئی ٹرمپ کی کامیابی پر خوش نہیں ہے
اس میں حزب مخالف کی جماعت پیپلز فریڈم پارٹی کی کارکن نتیلیا پیلوینا نے ٹویٹ کی کہ' میں ان کی تقریر دیکھ رہی تھی اور مجھے خود کو چٹکی بھرنا پڑی، یہ گرفتار ہو جانے جیسا تھا، شروع میں بہت ڈرامائی تھا لیکن بعد میں یہ نقشہ کھینچنا شروع کر دیتے ہیں کہ کس طرح رہنا اور جیل بنا دیتے ہیں۔'
امریکہ نے روس پر الزامات عائد کیے تھے کہ وہ ایسے سائبر حملے کرنے میں مدد کر رہا ہے جس سے ہلیرری کلنٹن کی انتخابی مہم کو کمزور کیا جا سکے۔
اس پر حال ہی میں صدر پوتن نے روسی مداخلت کے الزامات پر قہقہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ آیا امریکہ ایک بنانا رپبلک ہے۔
لیکن ہلیری کلنٹن سے عداوت کی جڑیں بہی گہری ہیں۔ وزیر خارجہ کے طور پر انھوں نے 2011 میں روس کے پارلیمانی انتخابات میں مبینہ خامیوں پر سخت نکتہ چینی کی تھی جبکہ صدر پوتن نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ان کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے پیچھے ہیں۔
روسی میڈیا میں ہلیری کی انتخابی مہم کو بھی منفی انداز میں پیش کیا گیا تھا جس میں انھیں جرائم پیشہ، جھوٹی اور روس کے خلاف جارجانہ رویہ رکھنے والی خاتون کے طور پر دکھایا گیا۔
امریکہ میں انتخاب کے دن روس کے ایک اخبار میں ہیڈ لائن تھی کہ' ہلیری ہمیں جوہری ہتھیاروں سے گھیر لیں گی جبکہ ٹرمپ کرائیمیا کو تسلیم کر لیں گے۔'
روسی صدر کے حمایتی تجزیہ کار سرگئی مارکوف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بہت خوشی ہے کہ روس کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں گے اور واشنگٹن، لندن جو دنیا کو مصنوعی سرد جنگ کی جانب دھکیل رہے ہیں وہ رک جائیں گے۔ ہم خوش ہیں کہ نئے صدر ٹرمپ ہوں گے جو ولادی میر پوتن کی عزت کرتے ہیں اور کرائیمیا کو روس کا حصہ تسلیم کرتے ہیں۔'
اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ جب امریکی ایک تلخ انتخاب کے نتائج سے چکرائے ہوئے ہیں تو روس شامی فوج کے ساتھ مل کر شامی شہر حلب کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ایک اور کارروائی کرنے جا رہا ہے۔
اس طرح سے روس اس بات کو یقینی بنائے گا کہ صدر پوتن ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جس تعمیراتی بات چیت شروع کرنے کے بارے کہہ رہے ہیں وہ طاقتور پوزیشن کے ساتھ شروع ہوں۔