امریکی انتخاب:ٹرمپ کا ہدف ’ڈیموکریٹک پارٹی کے مضبوط گڑھ‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ انتخاب سے دو روز قبل ڈیموکریٹک پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھی جانے والی ریاستوں کو نشانہ بنائیں گے۔
اطلاعات کے مطابق مسٹر ٹرمپ پنسیلوینیا، مشی گن اور مینیسوٹا کا دورہ کریں گے جہاں سنہ 1972 سے رپبلکن پارٹی کو کامیابی نہیں ملی۔
جوں جوں امریکہ کے صدراتی انتخاب کی تاریخ نزدیک آتی جا رہی ہے اور انتخابی جائزوں میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن کے مابین فرق کم ہو رہا ہے، انتخابی مہم میں تیزی آ رہی ہے۔
سنیچر کی شام ڈونلڈ ٹرمپ کو ریاست نیواڈا میں ایک ریلی کے دوران ہنگامی طور پر سٹیج سے اتار لیا گیا۔ تاہم چند ہی منٹ کے بعد وہ واپس آئے اور تقریر دوبارہ شروع کر دی۔ سیکریٹ سروس نے اس واقعے کے حوالے سے اس افواہ کو رد کر دیا کہ ایک شخص پستول لے کر ریلی میں آگیا تھا۔
خیال رہے کہ امریکہ میں آٹھ نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے مہم آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے اور اب تک تین کروڑ 30 لاکھ افراد عام ووٹنگ کے دن سے قبل ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حالیہ دنوں میں لیے جانے والے رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہلیری کلنٹن کو برتری تو حاصل ہے لیکن ان کے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کچھ جائزوں کے مطابق ستمبر میں انھیں اپنے حریف پر چھ پوائنٹس کی برتری تھی جو کہ اب تقریباً ایک پوائنٹ تک رہ گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ ایف بی آئی کی جانب سے یہ اعلان ہے کہ ادارہ ہلیری کلنٹن کے ای میلز کی تفتیش دوبارہ شروع کر رہی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دونوں امیدواروں کی ٹیم اب ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ اپنے حامی ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دے رہی ہیں۔
ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کے دوران کئی نامور شخصیات ان کے ساتھ دکھائی دے رہی ہیں جن میں جینیفر لوپیز اور ان کے شوہر مارک اینتھونی،جے زی اور بیونسے شامل ہیں۔
جبکہ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ بار بار یہ کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ انھیں نامور شخصیات کی کوئی ضرورت نہیں۔
ہو سکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلیری کلنٹن امریکی تاریخ کے سب سے غیر مقبول صدارتی امیدوار ہوں لیکن دونوں ایسی شخصیات ہیں جو کہ جہاں بھی جاتی ہیں عوام کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔
امریکی صدر براک اوباما کی اہلیہ مشیل اوباما اس وقت صدراتی امیدوار ہلیری کلنٹن کے حق میں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف میدان میں آگئی ہیں اور انھیں ہلیری کلنٹن کا سب سے موثر ہتھیار تصور کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی ریاست فلوریڈا میں لاطینی امریکیوں کی بڑی تعداد آباد ہے جن میں کئی ریپلکن پارٹی کے حامی بھی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جنرل‘ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکی اخبار نیشنل انکوائرر نے ڈونلڈ کے سابق پلے بوائے ماڈل سے 2006 میں معاشقے کی خبر کو ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالر کے عوض حاصل کی لیکن پھر اسے شائع نہیں کیا۔ نیشنل انکوائرر کو ڈونلڈ ٹرمپ کا حامی تصور کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کے تفتیشی ادارے ایف بی آئی اور نیویارک پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں جس کے مطابق القاعدہ امریکہ میں الیکشن سے ایک روز قبل دہشت گرد کارروائی کر سکتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے تفتیشی افسران ان اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن سے ایک روز قبل نیو یارک، ٹیکسس اور ورجینیا کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ اطلاع حکام کو کس طرح ملی۔
ایف بی آئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر ان اطلاعات کی تفتیش کر رہی ہے اور تمام انٹیلیجنس رپورٹس شیئر کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ آٹھ نومبر کو امریکہ میں صدارتی انتخاب ہے اور رپبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ جماعت کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن دونوں ہی نیو یارک میں ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہAP









