’دولتِ اسلامیہ شہریوں کو زبردستی موصل لے گئی ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عراق میں کم از کم 200 خاندانوں کو جبری طور پر موصل میں لے جایا گیا ہے اور نام نہاد تنظیم دولتِ اسلامیہ انھیں بطور انسانی ڈھال استعمال کر سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کا دعویٰ ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے 200 خاندانوں کو ایک قریبی گاؤں سے پیدل موصل روانہ کیا۔
اقوام متحدہ کا مزید کہنا تھا کہ وہ ان اطلاعات کی بھی تفتیش کر رہے ہیں کہ دولتِ اسلامیہ نے ایک ہی گاؤں میں 40 افراد کو ہلاک کیا۔
یاد رہے کہ عراق میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے مضبوط گڑھ موصل پر حکومتی فورسز کی کارروائی کے جواب میں جنگجوؤں نے شمالی شہر کرکوک میں سرکاری عمارات پر حملہ کر کے کم از کم چھ پولیس اہلکاروں اور 16 عام شہریوں کو ہلاک کر دیا۔
جمعے کو صبح سویرے کیے جانے والے جنگوؤں کے اس حملے کے خلاف سرکاری اہلکاروں کی کارروائی میں 12 جنگجو بھی مارے گئے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق حملے کے گھنٹوں بعد بھی شہر کے اس علاقے سے گولیوں کی آوازیں آ رہی تھیں اور دہشتگرد سڑکوں اور گلیوں میں کُھلے عام پھر رہے تھے۔
دوسری جانب کرکوک کے شمال میں عراقی حکومت کے حامی دستوں نے موصل کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے چھڑانے کے لیے ایک اور حملہ کیا ہے۔
خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم سے منسلک ایک خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجو شہر کے ٹاؤن ہال میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور انھوں نے ایک ہوٹل پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری اہلکار دولت اسلامیہ کے ان دعوؤں کی تردید کر رہے ہیں۔
کرکوک کے گورنر کا کہنا ہے کہ سرکاری عمارات پر حملہ دولت اسلامیہ کے ایک 'سلیپر سیل' یا ان جنگجوؤں نے کیا ہے جو چھپ کر بیٹھے ہوئے تھے۔
عراقی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملے کے بعد کرکوک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور مسجدیں بند ہونے کی وجہ سے جمعے کے خطبے بھی منسوخ کر دیے گئے۔
اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے جمعرات کو موصل کے جنوب میں واقع ایک کیمیکل پلانٹ کو آگ لگا دی تھی۔
ذرائع کے مطابق دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نےالمشرق نامی کیمیکل پلانٹ کو اس وقت جان بوجھ کر آگ لگا دی تھی جب عراقی فوج جنگجوؤں کو شہر سے باہر دھکیل رہی تھی۔
کرکوک کی سرکاری عمارات کو نشانے بنانے کے علاوہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شہر کے شمال میں واقع ایک بجلی گھر کو بھی آگ لگا دی ہے۔ کرکوک کے ایک میئر کا کہنا تھا کہ اس حملے میں 16 افراد ہلاک ہوئے۔ کہا جا رہا ہے کہ مارے جانے والے لوگوں میں بجلی گھر کے وہ ملازمین بھی شامل ہیں جن کا تعلق ایران سے تھا۔
مذکورہ بجلی گھر زیر تعمیر ہے اور اس کا ٹھیکہ ایک ایرانی کمپنی کے پاس ہے۔
کرکوک میں حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے پولیس کے ایک ضلعی سربراہ، برگیڈیئر جنرل سرحد قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی خود کش حملہ آوروں اور جنگجوؤں نے پولیس کی تین عمارتوں اور ایک سیاسی جماعت کے مرکزی دفتر پو دھاوا بول دیا تھا۔
برگیڈیئر جنرل سرحد قادر کا کہنا تھا کہ 'پولیس کی ایمرجنسی سروس کی عمارت اور پولیس ڈائریکٹوریٹ کی قدیم عمارت پر حملہ کرنے والے تمام دہشتگردوں کو مار دیا گیا ہے، تاہم کئی دہشتگرد ابھی تک شہر کے دمیز نامی علاقے میں موجود ہیں۔'
لیکن کرکوک کے گورنر نجم الدین کریم نے کُرد خبر رساں ادارے رُودا کو بتایا کہ صورت حال مکمل طور پر کُرد پیشمرگاہ اور انسدادِ دہشتگردی کے دستوں کے قابو میں ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
گورنر کا کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے سلیپر سیل سے منسلک حملہ آووروں کے حملے اور ان کے عزائم کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔
'چونکہ موصل میں دولت اسلامیہ کے خلاف سرکاری دستوں کی کارروائیاں جاری ہیں، اس لیے ہو سکتا ہے جنگجو ایسی صورتِ حال پیدا کرنا چاہ رہے تھے کہ موصل سے سرکاری فورسز واپس بلا لی جائیں اور ان کی توجہ کرکوک کی جانب ہو جائے۔ جنگجو یہ سب کچھ اسی وجہ سے کر رہے ہیں کہ انھیں موصل میں شکست ہو رہی اور وہ کرکوک جیسی کارروائیاں کر کے اپنے جنگجوؤں کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔'
حکومتی دستوں کی موصل میں جاری کارروائی کے حوالے جمعے کو حکومت کا کہنا تھا کہ سرکاری فورسز نے موصل کے شمال میں دو دیہاتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے 65 گھرانوں کو بحفاظت نکالنے کے علاوہ دولت اسلامیہ کے 15 دہشتگردوں کو مار دیا ہے۔
کرکوک بغداد سے 290 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ یہ شہر شمالی عراق میں تیل کی صنعت کا اہم مرکز ہے اور اس کی آبادی میں کرد، عرب، عیسائی اور ترکمان شامل ہیں۔








