میری بیوی کی جگہ باورچی خانہ ہے: نائجیریا کے صدر کا جواب

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نائجیریا کے صدر محمدو بوہاری نے اپنی اہلیہ کی خود پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جگہ صرف باورچی خانے میں ہے۔
جرمنی کے دورے پر انھوں نے کہا: 'مجھے نہیں معلوم کہ میری بیوی کس پارٹی سے تعلق رکھتی ہے، لیکن اس کی جگہ میرا باورچی خانہ ہے، لِونگ روم اور وہ دوسرا کمرہ ہے۔'
بوہاری اس وقت جرمن چانسلر انگلیلا میرکل کے پاس کھڑے تھے جو انھیں گھور رہی تھیں۔
عائشہ بوہاری نے کہا تھا کہ اگر ان کے خاوند نے اپنی حکومت پر گرفت درست نہ کی تو وہ اگلے انتخابات میں ان کی حمایت نہیں کریں گی۔
نامہ نگاروں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے صدر بوہاری کا کہنا تھا کہ انھوں نے تین بار صدارتی انتخابات میں حصہ لیا ہے اور چوتھے میں کامیاب ہوئے ہیں، اس لیے ان کا علم اپنی بیوی سے زیادہ ہے۔
عائشہ بوہاری نے بی بی سی کی ہوسا زبان کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے خاوند کی حکومت کو کچھ لوگوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
'صدر خود اپنے فائز کردہ 50 میں سے 45 لوگوں کو نہیں جانتے۔'
ابوجا میں بی بی سی کے نامہ نگار نذیرو میکائلو کہتے ہیں کہ عائشہ بوہاری کے اپنے ہی خاوند کے خلاف بیان سے بہت سے لوگوں کو حیرت ہوئی تھی، لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نائجیریا میں لوگ حکومت سے کس قدر نالاں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر بوہاری کے 'باورچی خانہ اور وہ دوسرا کمرہ' کے بیان کو سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ معاشرے میں عورتوں کے مقام کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
بعض لوگوں نے 'وہ دوسرا کمرہ' پر خوب حاشیہ آرائیاں کی ہیں، اور بیڈروموں کی تصویریں شیئر کی ہیں۔ نائجیریا میں ہیش ٹیگ #TheOtherRoom ٹرینڈ کر رہا ہے۔
صدر کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صدر معاشرے میں عورتوں کے مقام کی قدر کرتے ہیں اور ان کی صلاحیتوں کے قائل ہیں۔
نائجیریا کے لیے نیا موڑ؟
عائشہ بوہاری نے گذشتہ برس ہونے والے صدارتی انتخابات میں گرم جوشی سے مہم چلائی تھی۔ تاہم اس نے بعد سے وہ زیادہ تر پس منظر میں رہی ہیں اور ان کی توجہ اپنے فلاحی کاموں پر رہی ہے، جن میں شمالی نائجیریا میں بوکو حرام کی جانب سے اغوا ہونے والی لڑکیوں کی بازیابی کی کوششیں شامل ہیں۔
خود ان کا تعلق بھی شمالی نائجیریا سے ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا ذریعہTwitter
یہی وجہ ہے کہ اس انٹرویو نے لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ صدر بوہاری کے لیے خاصا بڑا دھچکہ ہے، جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ خاصے سخت مزاج اور دوٹوک بات کرنے والے شخص ہیں۔
عائشہ بوہاری کے بیان سے ان الزامات کو ہوا ملی ہے کہ ان کے خاوند کی حکومت کو ایک چھوٹے سے گروہ نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
اس دوران حکومت معاشی بحران کا سامنا کرنے کی جدوجہد کرتی رہی ہے اور خود حکمران پارٹی کے اندر پھوٹ کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
صدر بوہاری نے گذشتہ برس بدعنوانی کا سامنا کرنے اور حکومت میں اقرباپروری ختم کرنے کے وعدے پر انتخابات لڑے تھے۔







