چین میں مقید اویغور مسلمان رہنما کے لیے انسانی حقوق کا ایوارڈ

،تصویر کا ذریعہAP
چین کی جیل میں قید ایک اویغور مسلمان رہنما کو منگل کے روز انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ان کے کردار پر مارٹن اینلز ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
چین کی حکومت نے انھیں ایوارڈ دینے کے اقدام کی مذمت کی ہے۔
الحام توحتی چین کے مغربی صوبے سنکیاناگ میں بسنے والی اویغور اقلیت کے بارے میں چینی پالیسیوں کے بہت بڑی نقاد ہیں۔
چین نے اویغور اقلیت کے خلاف حالیہ سالوں میں فوجی کارروائیاں بھی کی ہیں جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
سنہ 2014 میں الہام توحتی کو ’علیحدگی پسندی‘ کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کے خلاف یہ کارروائی چین کی سرکاری پالیسیوں کے خلاف ایک ویب سائٹ چلانے کی وجہ سے کی گئی۔
مارٹن اینلز فاؤنڈیشن کے چیرمین ڈِک اووسٹنگ نے ایک بیان میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ایک معتدل آواز کو دبا کر چینی حکومت اس انتہا پسندی کی بنیادیں رکھ رہا ہے جس کو وہ روکنا چاہتا ہے۔
فاؤنڈیشن کا نام ایمنسٹی انٹرنیشنل کے پہلے سیکریٹری جنرل کے نام پر رکھا گیا ہے اور اس ایوارڈ کا فیصلہ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر تنظیموں کے مشورے سے کرتی ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے ایوارڈ دینے کے اس فیصلے کی مذمت کی اور کہا کہ یہی الہام توحتی کے جرم کے بارے میں واضح ثبوت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترجمان نے کہا کہ الہام توحتی ایک یونیورسٹی پروفیسر ہوا کرتے تھے اور انہوں نے اپنی ایک کلاس میں دہشت گرد حملوں میں ملوث ایک شخص کی ہیرو کے طور پر تعریف کی اور انھیں علیحدگی پسندی کے جرم میں چینی نظام انصاف نے سزا سنائی۔
’ان کے کیس کا تعلق کسی طور بھی انسانی حقوق کے ساتھ نہیں ہے‘۔







