بلاگر کو ’مذہبی دل آزاری‘ کے جرم میں سزا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنگاپور میں ایک نوجوان بلاگر کو 'مذہبی دل آزاری' کے جرم میں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
17 سالہ ایموس یی کو جان بوجھ کر انٹرنیٹ پر اسلام اور عیسائی مذاہب کے خلاف ویڈیوز اور پیغامات شائع کرنے کے جرم میں چھ ہفتے جیل میں رہنا پڑے گا۔
ایموس یی کو سزا سناتے ہوئے جج نے کہا 'آپ کی اس حرکت سے معاشرے میں بد امنی پھیلنے کا اندیشہ ہے۔'
خیال رہے کہ یہ دوسرا موقع ہے جب ایموس یی کو جیل کی سزا ہوئی ہے۔
سنہ 2015 میں بھی اس نوجوان بلاگر کو عیسائی مذہب کی توہین کے جرم میں چار ہفتے قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
سنگاپور میں مذہب اور نسل کی توہین کو سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے اور اس طرح کے جرائم کو برداشت نہیں کیا جاتا۔
عدالت کی جانب سے سزا سنانے بعد نوجوان بلاگر کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا مجھے ملنے والی سزا ' منصفانہ' ہے اور وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں۔
خیال رہے کہ اس مقدمے پر انسانی حقوق کی تنظیمیں گہری نظر رکھی ہوئی تھیں اور ان کا موقف تھا کہ اس مقدمے سے آزادی رائے کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ سے وابستہ فل رابٹسن کا کہنا ہے کہ سنگاپور کو ایسے مقدمات سے نمٹنے کے عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور ایموس کو اس مقدمے سے مذید شہرت ملے گی۔







