آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کابل کا وہ ریستوران، جہاں دنبے کا روایتی سالن چینک میں پیش کیا جاتا ہے
- مصنف, کانیکا گپتا
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
کابل کی مصروف پرندہ مارکیٹ ’کافروشی‘ شہر کے دل میں واقع ہے۔ مٹی کے مکانوں سے گھری اس پرندہ مارکیٹ میں رنگوں کی ایک بہتات ہے۔ رنگ برنگے پرندے اپنے پنجروں میں پھڑپھڑا رہے ہیں۔
ان پرندوں کی آوازیں لوگوں کو بازار کی گلیوں میں کھینچ کر لے جاتی ہیں جہاں باچا بروٹ کے نام سے ایک 70 سال پرانا ریستوران ہے جہاں دنبے کے روایتی سالن ’چینکی‘ کی مہک لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔
یہ شاید کابل کی واحد عمارت ہے جو افغانستان میں عشروں سے جاری جنگ کے دوران بھی اپنی اصلی حالت میں موجود رہی ہے۔
خستہ حال عمارتوں کے درمیان موجود اس چائے خانہ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے تیل میں پکے دنبے کی مہک یہاں آنے والوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
باچا بروٹ کی خستہ حال میز کرسیاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ اس ریستوران کے مالک کی ساری توجہ اپنے گاہکوں کو بہترین چینکی مہیا کرنے پر ہی موکوز ہے۔
باچا بروٹ جس کا دری زبان میں مطلب ہے مونچھ والا لڑکا ،صرف ایک ڈش والا ریستوران ہے جہاں صرف روایتی انداز میں تیار کردہ چینکی، چائے کے برتن چینک میں مہیا کی جاتی ہے۔
اس ریستوران کے مالک میر مرزا، جو اپنی مونچھوں کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے، وہ چینکی پکانے کے ماہر تھے۔ ریستوران کے موجودہ مالک وحید الدین باچا، میر مرزا کے بیٹے ہیں اور وہ آج بھی روایتی انداز میں چینکی کو پیش کرتے ہیں۔
ہیلن صابری جو کھانوں کی تاریخ کے بارے میں لکھتی ہیں، نے افغانستان کے کھانوں کے بارے میں اپنی کتاب ’نوشے دجان‘ میں افغانستان میں چائے خانوں کی اہمیت کا ذکر کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اپنی کتاب ’ٹی ٹائم‘ میں لکھا ہے کہ ’یہ پورے ملک میں پائے جاتے ہیں جہاں طویل سفر کر کے آنے والے تھکے ہارے مسافروں کو کھانا مہیا کیا جاتا ہے۔ یہ چائے خانے افغان مردوں کے میل ملاقات کی جگہ بھی ہیں، جہاں وہ جمع ہو کر خبروں کا تبادلہ کرتے ہیں اور گپ شپ لگاتے ہیں۔‘
وحید اللہ باچا ہر روز اپنے والد میر مزرا کی ترکیب پر چینکی پکاتے ہیں۔ پنجشیر وادی سے تعلق رکھنے والے میر مرزا المعروف باچا بروٹ ایک ان پڑھ اور غریب شخص تھے، جن کا کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا۔ البتہ وہ چینکی تیار کرنے کے ماہر تھا۔
میر مرزا نے سات عشرے پہلے اپنا ریستوران کھولا جہاں وہ چینکی چائے والے برتن چینک میں گاہکوں کو پیش کرتے تھے۔
چینکی کے اجزا بہت اہم ہیں لیکن سب سے زیادہ اہمیت اس برتن کی ہے، جس میں اسے تیار کیا جاتا ہے۔ روایتی انداز میں چینکی کو مٹی کے برتن میں تیار کیا جاتا ہے۔ افغانستان میں بہت سے لوگ چینکی کو مختلف برتنوں میں تیار کرتے ہیں۔
وحیداللہ باچا کہتے ہیں کہ اگر آپ چینکی کو عام برتنوں میں تیار کریں تو یہ شوربہ بن جائے گا اور یہ مٹی کا برتن ہی ہے جو اسے اس کا مستند ذائقہ مہیا کرتا ہے۔ چائے الگ برتن میں تیار کی جاتی ہے اور گاہک چینکی کے ساتھ چائے کا آرڈر بھی دے سکتا ہے۔
باچا بروٹ پر دن سورج نکلنے سے پہلے شروع ہوتا ہے۔ وحیداللہ کہتے ہیں کہ ہم گوشت کو کاٹنے کا کام رات تین بجے شروع کرتے ہیں اور انھیں چائے دانیوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ 200 گرام دنبے کے گوشت، ٹماٹر، پیاز اور مٹروں میں خاص مصالحے مکس کر دیے جاتے ہیں۔
خاص مصالحوں سے مراد وہ مصالحے ہیں جو باچا خاندان نے گزشتہ ستر برس میں تیار کیے ہیں اور اسے وہ ایک خاندانی راز کی طرح کسی کو نہیں بتاتے۔ پھر اس چینک کو پانچ گھنٹے تک تندور میں ہلکی آنچ پر پکایا جاتا ہے۔ وحیداللہ باچا بتاتے ہیں کہ ’میں صبح تین بجے سے رات نو بجے تک کام کرتا ہوں۔ یہ بہت مشکل کام ہے۔‘
باچا بروٹ میں روزانہ ایک سو گاہک چینکی کھاتے ہیں۔ دو کمروں کے اس ریستوران میں پردے کا بھی اہتمام ہے۔ ایک کمرے میں مردوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے جبکہ دوسرے حصے میں عورتیں چینکی کھانے کے لیے وہاں آتی ہیں۔
جب میں مئی 2021 میں وہاں گئی تو میں نے دیکھا کہ ریستوران کا مردانہ حصہ گاہکوں سے بھرا ہوا تھا جہاں مرد سیاست سے لے کر ہر معاملے پر بات چیت کر رہے تھے۔ وہاں ایک ٹی وی سیٹ بھی تھا جس پر خبریں اور مقامی گانے چلتے ہیں۔
عورتوں والا حصہ اتنا مصروف نہیں تھا۔ عورتیں پرانے قالینوں پر بیٹھی چینکی کے مزے لینے کے ساتھ ساتھ گپ شپ میں مصروف تھیں۔
طالبان کی آمد کے بعد باچا بروٹ ریستوران میں اب خبروں اور گانوں کی جگہ ’نشید‘ بجایا جاتا ہے۔ اس ریستوران میں اب خواتین صرف اپنے محرم کے ساتھ ہی آ سکتی ہیں۔
مجھے چینکی انتہائی گرم چینک میں دی گئی جس کے ساتھ ایک پیالہ اور نان تھا۔ اس کو روایتی انداز میں کھانے کے لیے آپ نان کو توڑ کر پیالےمیں ڈالتے ہیں اور پھر اس کے اوپر چینکی ڈال لیتے ہیں۔
میرے لیے گھنٹوں تک تندور میں پکنے والی چینکی سے آنے والی خوشبو اتنی محسور کن تھی کہ پیالے میں ڈالے گئے نان کے ٹکڑے ابھی چینکی سے صحیح طرح گیلے بھی نہیں ہوئے تھے، کہ میں نے انھیں کھا لیا۔
صابری کہتے ہیں کہ نان کے نوالے، جن میں شوربے کا ذائقہ جذب ہو جاتا ہے، انھیں آپ ہاتھ یا چمچ سے کھا سکتے ہیں۔
باچا بروٹ خاندان نے چینکی کی تیاری مشکل سے مشکل حالات میں جاری رکھی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
وحید اللہ باچا نے بچپن سے ہی اپنے والد کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ جب افغانستان پر روس کے حملے کے بعد شروع ہونے والے جہاد اور پھر طالبان کے دور میں، کابل پر راکٹوں کی بارش ہو رہی ہوتی تھی تب بھی باچا بروٹ ریستوران کھلا رہا اور لوگوں کے لیے کھانا تیار کیا جاتا رہا۔
وحید اللہ باچا بتاتے ہیں کہ بعض اوقات ہم نے اس وقت بھی چینکی تیار کی جب باہر گلی میں راکٹ فائر ہو رہے ہوتے تھے۔
’ایک روز ایک راکٹ ہمارے ریستوران کے پیچھے گرا لیکن خوش قسمتی سے پھٹا نہیں۔ ہم دوسرے روز پھر آئے اور اپنا کام شروع کر دیا۔‘
وحید اللہ اپنے ریستوران کو جاری رکھنے کے بارے میں پرعزم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں چینکی بیچتے رہنا چاہتا ہوں کیونکہ میں اپنے والد کی وراثت کو زندہ رکھنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے اس جگہ کو بنانے کے لیے زندگی میں بہت محنت کی تھی۔ مجھے ان لوگوں سے محبت ہے جو ہمارے ریستوران پر چینکی کھانے آتے ہیں۔ میں ان کی خدمت جاری رکھنا چاہتا ہوں۔‘
15 اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد بھی باچا بروٹ نے لذیذ چینکی تیار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
وحید اللہ باچا کے چھوٹے بھائی فریدون کہتے ہیں کہ ’ہم خوش قسمت ہیں کہ پچھلے سال کے واقعے سے ہمارے کاروبار پر کوئی اثر نہیں پڑا۔‘
برسوں کی بدامنی کے باوجود وحیداللہ پرامید ہیں کہ ایک دن افغانستان پرامن ہو گا اور وہ بغیر کسی خوف کے اپنے کاروبار کو جاری رکھ سکیں گے۔ وہ اپنی وارثت کو اپنے بچوں کو منتقل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
وحید اللہ باچا کہتے ہیں کہ برسوں سے جاری جنگ نے نہ صرف لوگوں کو ہلاک کیا بلکہ کھانوں کی روایتی ترکیبوں کو بھی ختم کر دیا۔
’اب افغانستان میں بہت کم ایسے افغان باقی ہیں جو اصلی چینکی بنانا جانتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ چینکی افغانستان کی غذائے راحت بن جائے۔‘