بھوٹان میں صحت مند زندگی کا تین سو سال پرانا نسخہ

،تصویر کا ذریعہSimon Urwin
- مصنف, سائمن ارون
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
چھاتی سے برہنہ ایک عورت پھلوں کے ایک کھیت میں ایک ٹانگ پر کھڑی تھی۔ اس کے سر پر ایک سنہرا تاج اور گلے میں قیمتی پتھروں کا ایک ہار تھا۔ اس کے دائیں ہاتھ میں جلتی ہوئی ایک چھڑی تھی۔
بھوٹان کے دارالحکومت ٹمپو میں اپنے دفتر میں لگی ایک سکرین پر بنی دیوتاوں کی تصویروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نڈو نے بتایا کہ ’یہ بدھ مت کی دگپویما دیوی ہیں جن کو خوشبو کی دیوی کہا جاتا ہے۔‘
’کہا جاتا ہے کہ بدھا نے پہلے خوشبو تخلیق کی تھی اور پھر ان کے دگپویما جیسے پیروکاروں نے دنیا بھر میں اسے پھیلایا تھا۔ میں بھی اپنے آپ کو ان کے پیروکاروں میں محسوس کرتا ہوں اور میں بھی یہ ہی کام کر رہا ہوں۔‘
نڈو کا صرف ایک نام ہے کیونکہ بھوٹان میں لوگ اپنے خاندان کا نام اپنے نام کے ساتھ نہیں لگاتے۔ نڈو نے مجھے اگربتیاں اور خوشبودار سفوف بنانے کی ورک شاپ ’نڈو پوائزوکنگ‘ دکھانے کی پیشکش کی۔
ہمالیہ کی اس بادشاہت میں جہاں اگربتیوں اور خوشبودار سفوف کی ہر گھر اور خانقاہ میں مانگ ہے نڈو کی ورکشاپ سب سے پرانی اور سب سے بڑی ہے۔
حتیٰ کہ بادشاہ اپنے محل کی فضا کو معطر کرنے کے لیے ذاتی طور پر نڈو کی ورکشاپ سے اگربتیاں اور خوشبودار سفوف منگواتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نڈو نے اپنے گودام کا دروازہ کھولتے ہوئے جہاں بے شمار جڑی بوٹیاں، مصالحے اور خشک پودے رکھے ہوئے تھا، کہا کہ ان کے خیال میں ان کی بنائی ہوئی اگربتیاں اور سفوف انتہائی خوشبودار ہیں۔ ان کی خوشبو اس قدر تیز اس لیے ہے کیونکہ یہ ناقابل یقین حد تک قدرتی اور خالص اجزا سے بنائے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہRoberto Schmidt/Getty Images
’ہر چیز سو فیصد خالص ہے، پھولوں کی کشید سے لے کر انتہائی نازک مانسی کے پھولوں تک۔ دوسرے اگربتیاں اور سفوف تیار کرنے والے اپنی لاگت کم رکھنے کے لیے غیر قدرتی اجزا مثلاً کیمیکل اور غیر معیاری چیزیں استعمال کرتے ہیں جس سے ان کی شفا بخشنے کی تاثیر ختم ہو جاتی ہے اور ان کو جلائے جانے سے آپ کے سر میں درد ہو سکتا ہے یا آپ کا مزاج برہم ہو سکتا ہے لیکن ہم خالص اجزا استعمال کرتے ہیں۔‘
نڈو جو پودے اور پتے استعمال کرتے ہیں وہ گلہ بان پہاڑوں کی بلندیوں پر اگاتے تھے تاکہ وہ زہریلے اثرات اور وباؤں سے محفوظ رہ سکیں۔ وہ خانہ بدوش ایک انتہائی دشوار زندگی گزارتے تھے لیکن ان جڑی بوٹیوں اور پودوں سے انھیں اضافی آمدن ہو جاتی تھی۔
بھوٹان میں اگربتیوں اور خوشبودار سفوف جلانے کی روایت بہت عام اور پرانی ہے۔
کاشت کا وقت بہت اہم ہوتا ہے۔ نڈو نے بتایا کہ بہتریں وقت ’تھور باب‘ یعنی رحمت کی بارشوں کے بعد کا مہینہ ہے جو مون سون کے ختم ہونے کی نوید دیتا ہے۔
’اُن دنوں سورج کی گرمی سے پھول اور پتے طویل بارشوں کے بعد نکھر جاتے ہیں اور ان سے مجھے خوشبودار عطر تیار کرنے میں مدد ملتی ہے اور اس عطر سے اگربتیوں کی ڈنڈیوں اور سفوف کو خوشبودار بنایا جاتا ہے تاکہ ان میں وہ روایتی جادوئی تاثیر پیدا ہو سکے۔‘
بھوٹان کی ثقافت میں دھونی اور خوشبو کی روایات بہت قدیم ہیں جہاں دن میں دو مرتبہ ان کا استعمال کیا جانا لازمی ہے۔
دوسرے ملکوں میں اگربتیوں کو صرف مذہبی اور ثقافتی تقریبات کے موقع پر ہی استعمال کیا جاتا ہے لیکن بھوٹان میں دن کا آغاز اور اختتام ان سے ہی کیا جاتا ہے۔ نڈو نے کہا کہ یہ ایک لازمی چیز ہے۔

،تصویر کا ذریعہSimon Urwin
آج بھی اگربتیاں اور سفوف ایسے ہی استعمال کیے جاتے ہیں جس طرح یہ صدیوں پہلے کیے جاتے تھے۔ یا تو ان کا سفوف استعمال کیا جاتا ہے یا انھیں اگربتیوں کی طرح جلایا جاتا ہے۔
خوشبودار سفوف گھروں، خانقاہوں اور مندروں میں دھکتے ہوئے کوئلوں پر ڈال کر جلایا جاتا ہے جس سے دھواں اٹھتا ہے۔
اس کا استعمال دیوتاؤں پر چڑھاوے اور مقدس کمروں اور تبرکات کو صاف رکھنے، بدروحوں اور آسیبی سایوں کو دور کرنے کے لیے دھونی کے طور پر کیا جاتا ہے لیکن ان کو ان کی طبی خصوصیات کے لیے بھی جلایا جاتا ہے۔
نڈو نے کہا کہ ان سے اٹھنے والا خوشبودار دھواں دماغ کھولتا ہے اور اعصاب کو سکون بخشتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان کی اگربتیاں بنانے کی ترکیب بہت مؤثر ہے جو آپ کی توانائی بحال کرتی ہے اور کئی بیماریوں سے بھی بچاتی ہے۔
نڈو کا قدرتی اجزا سے اگربتیاں بنانے کا فرحت بخش اور صحت بخش طریقہ ایک راز ہے جس کے بارے میں صرف انھیں اور ان کی بیٹی لیمڈن کو علم ہے۔
انھوں نے بتایا کہ یہ ترکیب تبت کی ساڑھے تین سو سال پرانی ایک خانقاہ سے لی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس ترکیب میں کچھ ردوبدل کی گئی ہے کیونکہ اصل ترکیب میں بڑی مقدار میں زعفران استعمال ہوتا تھا اور اگر آج اسی مقدار میں زعفران استعمال کیا جائے تو اس کی قیمت بہت زیادہ ہو جائے گی اور کوئی بھی اس کو خرید نہیں سکے گا۔

،تصویر کا ذریعہSimon Urwin
’میں نے اس میں بدھ مت کے دروکپا کاگیو فرقے سے لی گئی ایک ترکیب سے ملا کر نئی ترکیب بنائی جس سے اس کی خوشبو اور تاثیر دونوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ میں اپنی عام اگربتیوں اور مذہبی رسومات کے دوران استعمال کے لیے بنائی اگربتیوں میں 30 سے زیادہ اجزا استعمال کرتا ہوں۔ اس کا نمبر 108 ہے جو بدھ مت میں ایک مبارک ہندسہ ہے اور یہ خاص اگربتیاں بدھ مت کے کلینڈر کے مطابق صرف مقدس دن کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔‘
اگربتیاں بنانے کے لیے مختلف اجزا جن میں درختوں کی چھال، پھول، پتے اور جڑی بوٹیاں شامل ہوتی ہیں انھیں ورکشاپ میں پیس کر ایک سفوف تیار کر لیا جاتا ہے۔
نڈو نے بتایا کہ جو ورکر تیاری کے اس مرحلے میں شامل ہوتے ہیں انھیں صرف یہ علم ہوتا ہے کہ کیا کیا چیز استعمال ہوتی ہے لیکن انھیں ان چیزوں کے صحیح تناسب کے بارے میں علم نہیں ہوتا۔
نڈو نے بتایا کہ انھیں یہ علم نہیں ہوتا کہ کپ میں کیا ہے جو میں آخر میں اس میں ملاتا ہوں۔
وہ صرف اتنا بتاتے ہیں کہ جو سفوف جلانے کے لیے تیار کیا جاتا ہے اس کو پیکنگ کے لیے بھیجنے سے پہلے اس میں کچھ طبی جڑی بوٹیاں شامل کی جاتی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے اس سے زیادہ دھواں پیدا ہو گا لیکن اگربتیوں کے لیے بنایا جانے والے مصالحے میں پانی، شہد اور قدرتی کاسنی رنگ ملا کر گوندھ لیا جاتا ہے اور اسے ایک بڑے برتن میں ڈال کر خمیر اٹھنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
اگربتیوں کو جلانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ کھانا کھانا، پانی پینی اور سانس لینا۔
نڈو نے آہستگی سے ایک برتن کا ڈھکن اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’میرے لیے یہ خزانے کا ڈبہ ہے۔‘ انہوں نے مجھے اس میں جھانکنے اور اس خمیر سے اٹھنے والی خوشبو سونگھنے کا موقع دیا۔ نڈو اور ان کے کارکن اس خمیر پر مستقل نظر رکھتے ہیں کیونکہ ذرا سی بے احتیاطی سے یہ خراب بھی ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسی وجہ سے یہاں سب کچھ ہاتھوں سے کیا جاتا ہے اور مشینوں کا استعمال نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ ایک فن ہے صنعتی پیدوار نہیں۔

،تصویر کا ذریعہSimon Urwin
نڈو اس کے بعد مجھے ایک بیرونی کمرے میں لے گئے جہاں اگربتیاں تیار کرنے کا کام ہوتا ہے۔ یہاں پر نڈو کی ٹیم 12 خواتین پر مشتمل ہے۔ ٹیم میں شامل ایک خاتون گیزنگ تیار شدہ خمیر کو ایک مشین میں ڈال کر ان کے لچھے بنا لیتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس کو دل سے تخلیق کیا جاتا ہے۔ گیزنگ نے کہا کہ ان سب کو یہ کام بہت پسند ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان میں سے کسی نے بھی تعلیم حاصل نہیں کی اور اگر نڈو نہ ہوتے تو انھیں کوئی اور کام نہ ملتا۔
انہوں نے لچھوں کی ٹرے اپنی ایک ساتھی یشہی کی طرف بڑھا دی۔ انھوں نے کہا اس کام سے انھیں خود انحصاری کا احساس ہوتا ہے۔ ’ہم پیسے کمانے سے اپنے خاندان اور شوہروں پر بوجھ نہیں بنتے۔‘
ان لچھوں کو سیدھا کر کے لمبے لمبے دھاگوں کی صورت دے دی جاتی ہیں جنھیں سوکھنے کے لیے چھت پر بچھا دیا جاتا ہے۔ آخری مرحلے میں انھیں کاٹ کر ان کے بنڈل بنا کر فروخت کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔
نڈو نے بتایا کہ وہ ہر مہینے تقریباً ساڑھے تین سو کلو گرام سفوف اور 20 ہزار کے قریب اگربتیاں تیار کرتے ہیں۔
نڈو کی تیار کردہ اگربتیاں اور سفوف چین، امریکہ اور برطانیہ بھی برآمد کیا جاتا ہے۔ نڈو نے کہا کہ ان کا مقصد محض پیسہ کمانا نہیں بلکہ اس سے انھیں روحانی سکون بھی ملتا ہے۔
’یہ میرا فیصلہ ہے اور جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ لوگ کس طرح اس سے مستفید ہو رہے ہیں تو مجھے اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے۔ آئیں میں آپ کو دکھاتا ہوں کہ لوگ اسے کیسے استعمال کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہSimon Urwin
نڈو پہاڑی سے نیچے ٹمپو شہر کے مرکز کی طرف چل پڑے اور راستے میں انھوں نے مجھے بتایا کہ کسی طرح انھیں اپنی زندگی کا مقصد مل گیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ پندرہ سال کی عمر میں بدھ راہبوں میں شامل ہو گئے اور دس سال تک ان کے ساتھ رہے۔
انھوں نے کہا ’میں نے خطاطی میں مہارت حاصل کر لی اور بھوٹان کے بادشاہ نے بدھ مت کے اصولوں کو سنہری لفظوں میں لکھنے کا کام سونپا۔ جب میں نے یہ کام مکمل کر لیا تو میں ایسا ہی کوئی کام کرنا چاہتا تھا کہ جس سے اتنا سکون حاصل ہو اور میں اگربتیاں تیار کرنے کے کام کی طرف چل پڑا۔‘
ٹمپو شہر کے مرکزی حصے میں ہم ایک قدیم بازار میں داخل ہوئے۔ پہلی منزل پر پھل اور سبزیاں فروخت ہو رہے تھے لیکن دوسری منزل اگربتیاں اور خوشبودار سفوف بیچنے کے لیے مخصوص تھی جس میں ایسی اگربتیاں بھی فروخت کی جا رہی تھیں جو آپ کو پیٹ کے درد سے نجات دلانے میں مدد دیتی ہیں یا آپ کو سکون بخشتی ہیں اور بہت سی آسیبی سایوں سے نجات دلانے کے عمل کے دوران بھی جلائی جاتی ہیں۔
ایک سٹال پر ہم نے ایک خاتون سے بات کی جو خود بھی نڈو کی اگربتیاں استعمال کرتی تھیں اور یہ اگربتیاں بھی فروخت کرتی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ’میں صبح جب اپنے دانت صاف کرتی ہوں تو یہ اگربتیاں جلاتی ہوں اور رات کو سونے سے پہلے بھی انھیں سلگا لیتی ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہSimon Urwin
انھوں نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا لازمی جزو بن گیا ہے۔ ’میرے والدین نے یہ عادت مجھ میں ڈالی اور اب یہ عادت میں اپنے بچوں میں ڈال رہی ہوں۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہم کھانا کھاتے ہیں یا سانس لیتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا امیر اور غریب ہر شخص یہ استعمال کرتا ہے۔
ہم خانقاہ کی طرف چل پڑے جس کو نڈو اگربتیاں سپلائی کرتے ہیں۔ سورج کی روشنی سے منور عبادت کرنے کے ایک کمرے میں ایک راہب آہستہ آہستہ ایک کوٹری کو ہلا رہا تھا جس میں سے خوشبودار دھواں کمرے کو معطر کر رہا تھا۔
اس راہب نے ہمیں بتایا کہ جب وہ پوجا یا عادت کرتے ہیں تو خوشبودار سفوف جلانے سے بدی کی قوتیں دور ہو جاتی ہیں اور اس خوشبو سے جسمانی، روحانی اور ذہنی طور پر پاک ہو جاتا ہوں۔
’مجھے اپنے عبادت پر توجہ مرکوز رکھنے اور اچھا انسان بننے میں مدد ملتی ہے۔‘
راہداری کے ایک کونے پر مطالعہ کے لیے ایک کمرہ تھا جہاں چند راہب، جن کے سر منڈے ہوئے تھے اپنی مذہبی کتابوں پر جھکے ہوئے، نہایت انہماک سے مطالعہ کر رہے تھے۔ ہر ایک کے برابر ایک اگربتی سلگ رہی تھی۔
وانگچک نامی ایک راہب نے ہمیں بتایا کہ ایک اگربتی میں بہت بہت تاثیر ہوتی ہے۔
’یہ بدی کی قوتوں کو آپ سے دور کر دیتی ہے اور آپ کی زندگی کی تمام رکاوٹیں ہٹا دیتی ہے۔ اس سے لوگوں میں ایک دوسرے کے لیے ہمدردی اور صلح کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور یہ آپ کے لیے خوشیوں کے دورازے کھول دیتی ہے۔‘








