چنگویٹی: صحرائے صحارا میں لائبریریوں کا شہر جہاں صدیوں پرانی کتابیں محفوظ ہیں

،تصویر کا ذریعہDorSteffen/Getty Images
- مصنف, اولگا خروستالیوا
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
موریطانیہ کے عظیم ریت کے ٹیلوں کے کنارے بسا چنگویٹی شہر 1200 برسوں سے مسافروں کی پناہ گاہ رہا ہے۔
صحرائے صحارا کے درمیان اس شہر کی بنیاد آٹھویں صدی میں رکھی گئی تھی۔
زیارت کے لیے مکہ جانے والے مسافروں کے کارواں یہاں رکا کرتے تھے۔
لال پتھروں والا یہ شہر آہستہ آہستہ مغربی افریقہ میں سائنس، مذہب اور ریاضی کے سب سے بڑے مقامات میں سے ایک بن گیا۔
یہاں قانون، طب اور فلکیات کے ماہر رہتے۔ مکہ جانے والے مسافر اور مختلف علوم کے ماہر یہاں آتے جاتے رہے۔

،تصویر کا ذریعہHomoCosmicos/iStock/Getty Images
قدیم تحریروں کا تحفظ
چنگویٹی میں مذہبی کتابیں، سائنسی تحقیقات اور تاریخی اہمیت کی کتابیں تیار ہوتی رہی ہیں۔
تیرہویں صدی سے لے کر سترہویں صدی تک چنگویٹی میں 30 لائبریریاں تھیں جہاں تحریروں کو سنبھال کر رکھا جاتا تھا۔
آج بھی ان میں سے پانچ لائبریریاں موجود ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لائبریری میں کتابوں کو محفوظ کرنے کے کام پر مامور افراد قرآن کی قرون وسطیٰ سے تعلق رکھنے والی 1000 سے زائد کاپیوں کو صحارا کی ریت سے محفوظ رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDorSteffen/iStock/Getty Images
سیف الاسلام ایسی ہی ایک لائبریری سے منسلک ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 'ہمارے آباؤ اجداد نے مختلف موضوعات، مثال کے طور پر مذہب، فلکیات اور علم نجوم پر کتابیں اور تحریریں لکھی ہیں۔‘
شہر میں لال پتھروں سے بنی عمارتوں کی دیواریں چوڑی ہیں۔ ان کے درمیان لکڑی کے چھوٹے چھوٹے دروازے ہیں۔
اندر داخل ہونے پر ہزاروں کتابیں ملتی ہیں، جن کو صندوقوں میں سنبھل کر رکھا گیا ہے۔
سیف الاسلام کتابوں کو چھونے سے پہلے ہاتھوں میں دستانے پہنتے ہیں، پھر فلکیات کی ایک کتاب نکالتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ 'یہ ایک سائنسی کتاب ہے۔ دیکھیے اس میں سرطان اور میزان (برج) کے ستاروں کے جھرمٹ کے بارے میں لکھا ہے۔'
انھوں نے کہا کہ 'کوپرنکس اور گیلیلیو سے پہلے مسلمان جانتے تھے کہ دنیا گول ہے۔'

،تصویر کا ذریعہJean-Luc MANAUD/Gamma-Rapho via Getty Images
مردوں کا حق
سف الاسلام بچپن سے ہی لائبریری میں قدیم کتابوں کے حصوں کے تحفظ کا کام کرنے کے خواب دیکھتے تھے۔ وہ دوسروں کی اس کام میں مدد کرتے تھے۔
انھوں نے بتایا 'میرا نصیب اچھا تھا کہ میں مرد ہوں۔ کوئی خاتون لائبریری میں ان کتابوں کے تحفظ کا کام نہیں کر سکتی۔ کئی خواتین اس کے قابل ہیں، جو یہ کام اچھی طرح کر سکتی ہیں۔ لیکن جب ان کی شادی ہوتی ہے تو ان کے شوہر کل تحریروں کے مالک ہو جاتے ہیں۔ اس طرح خاندانی جائیداد دوسرے خاندان کے پاس چلی جاتی ہے۔'

صحارا ریگستان وسیع ہو رہا ہے۔ جیسے جیسے یہ جنوب کی جانب بڑھ رہا ہے، چنگویٹی کی عمارتوں کی چھتوں پر بھی ریت جمع ہونے لگی ہے۔
سیف الاسلام نے بتایا کہ '1930 سے 1995 کے درمیان کئی خاندان بڑے شہروں میں جا کر بس گئے کیوں کہ یہاں ان کے اونٹوں کے لیے گھاس نہیں بچی اور کوئی نوکری بھی نہیں تھی۔'
نقل مکانی کرنے والے خاندان اپنی خاندانی تحریریں بھی ساتھ لے گئے۔ چنگویٹی میں اب 30 میں سے محض 12 لائبریریاں بچی ہیں۔ اور ان میں سے بھی پانچ یا چھ ہی کھلتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMaremagnum/Getty Images
ماحولیاتی تبدیلی کے سبب بادل پھٹنے اور شہر میں سیلاب آنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے بھی متعدد دستاویزات برباد ہو رہی ہیں۔
ایسے میں اسلامی معلومات کے اس انمول خزانے کا مستقبل غیر یقینی نظر آتا ہے۔
سیف الاسلام کہتے ہیں 'کچھ کتابیں ایک گھر کی اوپری منزل پر رکھی تھیں۔ بارش ہوئی تو وہ برباد ہو گئیں۔ کچھ تحریروں کو بکریاں کھا گئیں۔ کچھ کتابوں کو بچوں نے کھیل کھیل کر پھاڑ دیا۔'

،تصویر کا ذریعہJean-Luc MANAUD/Gamma-Rapho via Getty Images
آمدنی کا ذریعہ نہیں
چنگویٹی میں کسی لائبریری کا مالک ہونا معاشرے میں بڑی عزت کی بات ہوتی ہے۔ اسے آمدنی کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا ہے۔
انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ سائنس کے بیچر المحمد نے بتایا 'تحریروں کے زیادہ تر مالکان کو پتا نہیں ہے کہ ان کا کرنا کیا ہے۔ ان کے بزرگوں کو یہ بات معلوم تھی۔ یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔'
لائبریریوں کے مالکان کو محض اتنا پتا ہے کہ ان کے پاس کوئی وراثنی خزانہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہJean-Luc MANAUD/Gamma-Rapho via Getty Images
بیچر المحمد نے کہا 'یقیناً ان کے پاس خزانہ ہے، لیکن انھیں یہ نہیں پتا کہ اس خزانے میں کیا کیا ہے۔ ہم ان کو بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ چیزیں کتنی اہمیت رکھتی ہیں۔ اس خزانے کو رکھنا ہی کافی نہیں ہے۔ انھیں ہوا، پانی اور نمی سے پچانا بھی ضروری ہے۔'
چنگویٹی کے اچھے دن نہیں رہے۔ اس شہر میں اب سیاح کم آتے ہیں۔ لوگ کتابوں کو بھولنے لگے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہHomoCosmicos/iStock/Getty Images
سیف الاسلام اب کچھ بچوں کو تربیت دے رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ 'ان بچوں میں سے دو یا تین قابل ہیں۔ لیکن میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ لائبریری کی حفاظت کر پائیں گے یا نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ نئی نسل کو اس میں دلچسپی نہیں ہے۔'

،تصویر کا ذریعہJean-Luc MANAUD/Gamma-Rapho via Getty Images
کتابوں کے تحفظ کے لیے رقم نہیں
بیچرال محمد کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس بڑی بڑی لائبریریاں ہیں لیکن کتابوں کے تحفظ کے لیے ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ یہ بڑا مسئلہ ہے۔'
انھوں نے بتایا 'میں دو لائبریریوں کو جانتا ہوں جن کے مالک سعودی عرب میں رہتے ہیں۔ ہمیں کتابوں کو اچھی حالت میں محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کو چنگویٹی کی ریت میں یوں ہی لاوارث نہیں چھوڑنا ہے۔ ہمیں یہ کرنا ہی ہوگا، ہمیں ہار نہیں ماننی ہے۔'

کتابوں کا تحفظ کرنے والوں نے کتابوں کو بچانے کے لیے چنگویٹی سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔ لیکن شہر کے لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ کتابیں ان کے بزرگوں کی جائیداد ہے۔
سیف الاسلام کہتے ہیں 'اپنے گھر، اپنے ہاتھ پیر، اپنی آنکھوں کو خود سے الگ کر کے ان کی حفاظت کرنا ناممکن ہے۔ اگر ہمیں مدد دی جائے تو ہم منظور کر لیں گے۔ لیکن ایسا کرنے میں موریطانیہ کی حکومت یا یونیسکو کوئی بھی کامیاب نہیں رہا ہے۔ ان کے پاس اس وراثت کی حفاظت کا حق بھی نہیں ہے۔ یہ ہماری وراثت ہے۔'










