امریکہ کے ایک پُر اسرار صحرا کا تمدن

،تصویر کا ذریعہVisions of America, LLC / Alamy Stock Photo
امریکہ کے عظیم قدیمی خزانوں میں سے ایک شمال مغربی نیو میکسیکو کے سان یوان طاس کے وسط میں واقع ہے۔ خیال ہے کہ قابل ذکر حد تک اپنی اصلی حالت میں موجود یہ عمارتیں 850 سے 1250 بعد از مسیح میں تعمیر کی گئی تھیں اور ان میں تقریباً پانچ ہزار افراد سکونت اختیار کیے ہوئے تھے۔
چیکو کینین یا آبی درّے کے بلند حصے پر واقع اس صحرا میں شدید سردی اور جھلسا دینے والی گرمی پڑتی ہے اور سال میں صرف 22 سینٹی میٹر بارش ہوتی ہے۔ اس کے باوجود یہ ایک پھلتے پھولتے مگر پر اسرار تمدن کا گہوارہ تھا جس میں پیوبلونز کے اجداد چکیونز آباد تھے۔
سنہ 1907 میں 53 مربع میل پر محیط اس صحرا کو نیشنل ہسٹاریکل پارک کا درجہ دیا گیا۔ یہاں 13 بڑے کھنڈرات اور 400 سے زیادہ آثار قدیمہ موجود ہیں۔ پیوبلو بونِیٹو جو یہاں نکالی جانے والی سب سے بڑی سائٹ ہے دو ایکٹر پر مشمل ہے جس میں انگریزی حرف ڈی کے شکل میں 800 کمرے بنے ہوئے ہیں۔
یہاں پانی کی فراہمی کا نہایت عمدہ انتظام ہے اور راہداریاں بہت سلیقے سے بنائی گئی ہیں تاکہ آمد و رفت میں سہولیت ہو۔ محققین کا خیال ہے کہ اس میں لگ بھگ دو ہزار لوگ رہتے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہUS National Park Service
یہاں آنے والے آج اسی طرح سے کمروں کی بھول بھلیوں میں گھوم سکتے ہیں جیسے ایک ہزار سال پہلے یہاں رہنے والے چلتے پھرتے تھے۔ چھتوں اور منزلوں کو سہارنے والا ڈھانچہ تو اب نہیں رہا مگر اس کی باقیات موجود ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ اسے کس طرح تعمیر کیا گیا ہوگا۔ اس کے بنانے میں لکڑی کے دو لاکھ ستون استعمال کیے گئے تھے جنھیں غالب امکان ہے کہ 112 کلومیٹر دور واقع چُسکا ماؤنٹینز اور ماؤنٹ ٹیلر سے ہاتھوں میں اٹھا کر لایا گیا ہو گا۔
اس احاطے کی ایک اور متاثر کن خاصیت یہاں کی سڑکیں ہیں۔ ان کی مجموعی طوالت 650 کلومیٹر ہے اور بعض تو نو میٹر چوڑی ہیں۔ سڑکیں سیدھی ہیں اور انھیں سیدھا رکھنے کے لیے ناہموار سطح زمین کو کاٹا گیا ہے۔ یہ آبادی کے مرکزی حصے کو کسی اہم قدرتی مقام، مثلاً جھیل یا پہاڑ وغیرہ، کو ملاتی ہیں، جو انسان اور فطرت کے باہمی تعلق کی علامت ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ان سڑکوں پر چلنا ان کے اطراف کے دشوار راستوں سے زیادہ آسان تھا۔

،تصویر کا ذریعہSmoke & Apple
برسوں پر محیط تحقیق کی مدد سے ماہرین آثار قدیمہ نے چیکو کی وجہ تعمیر کے بارے میں مختلف نظریات قائم کیے ہیں۔ اگرچہ بظاہر لگتا ہے کہ یہ ایک اہم تجارتی مرکز تھا، مگر عمارتوں کی ساخت سے پتا چلتا ہے کہ یہ رسومات کی ادائیگی کے لیے بھی ایک اہم مقام تھا اور چیکونز کے متاثر کن علم فلکیات کا مرکز بھی۔
اس کی دیواروں کو طلوعِ آفتاب کے محور سے ہم آہنگ بنایا گیا ہے اور شمالی راہداری بالکل شمال کے رخ پر ہے۔ نیو میکسیکو کے پیوبلو قبائل جن میں زونی قبیلہ بھی شامل ہے چیکو کینین کو ایک مقدس مقام مانتے ہیں اور رسومات کی ادائیگی کے لیے وہاں جاتے ہیں۔
سنہ 1987 سے چیکو کلچرل نیشنل ہسٹوریکل پارک اور دیگر چیکو مقامات یونیسکو کے عالمی ورثہ کا حصہ ہیں۔ مگر گذشتہ چند برس سے اس جگہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہاں تیل اور گیس کے لیے کی جانے والی کھدائی اور چیکو کینین میں کان کنی ہے۔
سنہ 2019 میں چیکو کلچرل ہیریٹیج ایریا پروٹیکشن ایکٹ کے نام سے ایک قانون امریکی سینیٹ میں پیش کیا گیا، جو اگر منظور ہو جائے تو اس مقام کے 16 کلومیٹر نصف قطر میں ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد ہو جائے گی۔












