سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہماری دوستی کے معیار کو کمزور بناتا ہے؟

ڈیجیٹل دوستی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ربیکا روچ
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر کے لیے

فلسفی ریبیکا روچ لکھتی ہیں کہ گذشتہ ایک دو برسوں میں ڈیجیٹل رابطوں کی اہمیت بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ لیکن اِن کی وجہ سے لوگوں کی دوستی کی نوعیت میں کیا تبدیلی آئی ہے؟

کووڈ-19 لاک ڈاؤن کے دوران میں نے اس حقیقت کا مشاہدہ کیا کہ میرے بچے اپنے دوستوں کو ذاتی طور پر دیکھ نہیں سکتے تھے تو اس پر ان کا ردعمل کیا ہوتا تھا۔ بات چیت آمنے سامنے نہیں ہوتی ہے، نہ ہی آپس میں بالمشافہ عشق، نہ ایک دوسرے کے گھر آنے جانے والے دوست۔ اگر لاک ڈاؤن چند دہائیاں پہلے ہوا ہوتا تو ان لوگوں سے شاید کوئی بھی رابطہ نہ ہوتا جن کے ساتھ ہم رہتے نہیں ہیں، تاہم اُن سے رابطہ فون کالز، ای میل یا خط لکھنے کے ذریعے ہوتا۔

لیکن سنہ 2020 کی دہائی میں حالات بدل چکے ہیں۔ میری بیٹی اور اس کی دوستوں نے ایک واٹس ایپ گروپ میں اپنی سٹریٹیجی پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے فون پر ایک گیم کھیلی۔

میرا بیٹا ابھی اتنا بڑا نہیں ہے کہ اُسے اس کا اپنا سمارٹ فون دیا جائے۔ تو اُس نے ’گوگل کلاس روم‘ ایپ کے ذریعے اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ بات چیت کی۔ لاک ڈاؤن کے دوران دونوں بچوں میں آپس میں رابطے بنانے کے دوران واضح قسم کی شرم دیکھی گئی، لیکن ان دوستوں سے بات کرنے کے بارے میں ان کی گھبراہٹ جن سے وہ کافی عرصے سے مل نہیں سکے تھے، وہ گھبراہٹ ’بلٹ ان گیمز‘ کے ساتھ ویڈیو کالنگ پلیٹ فارم استعمال کرنے سے ٹھیک ہو گئی۔

چند منٹوں کے بے معنی ہنسی مذاق کے بعد جس میں وہ ایک یونیکارن اور ’ڈونٹ‘ (میٹھے آٹے کا بن) پکڑنے کا کھیل کھیلتے رہے، وہ ایک دوسرے کے دوست بن گئے، اس کے بعد وہ 'پوکیمون' اور 'ماریو کارٹ' جیسے سنجیدہ معاملات پر بلا جھجک بات کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے۔

ایک نسل پہلے ایسی ٹیکنالوجی وجود میں نہیں آئی تھی۔ جب میں ان کی عمر کی تھی تو دوستوں کے ساتھ ایسا میل جول جس میں ہم ایک دوسرے کے سامنے نہ بیٹھے ہوں وہ گھر کے نیچے دالان میں فون پر بات چیت کے ذریعے ہوتا تھا جہاں ہر کوئی ہماری باتیں سن سکتا تھا کہ میں کیا کہہ رہی ہوں اور جہاں میں زیادہ دیر تک بات چیت بھی نہیں کر سکتی تھی۔

اور اگر میں 10 منٹ سے زیادہ گفتگو کرتی تو والدین غصے میں فون کے بل کے بارے میں بڑبڑانا شروع کر دیتے اور ’ٹیلی فون لائن پر پابندی' لگا دیتے۔ وہاں کوئی ڈونٹ پکڑنے والے ایک یونیکارن جیسی گیمز نہیں تھیں۔ دوستوں کے ساتھ فون کالز کبھی کبھار کی دعوت تھی، روزمرہ کا معمول نہیں تھا۔ اگر لاک ڈاؤن میرے بچپن کے دور میں ہوتا تو یہ ایک بہت ہی مختلف سماجی تجربہ ہوتا۔

ڈیجیٹل دوستی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآج کے بچے آپ کو سکرینز پر مصروف نظر آئیں، لیکن وہ عموماً سوشالائزنگ کر رہے ہوتے ہیں

لیکن اب سب کچھ کتنا بدل گیا ہے! کیا آج ہمارے دوستوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے طریقوں میں فرق بمقابلہ ایک نسل پہلے کے حالات سے محض سطحی ہے، کیا جس کا موازنہ کسی دوست کو خط لکھنے کے لیے لائن والے صفحے اور بغیر لائن والے صفحے کے درمیان کیا جا سکتا ہے؟

یا کیا آج کی دوستی کے بارے میں کوئی ایسی چیز ہے جو پرانے دور کی دوستی سے بنیادی طور پر مختلف ہے اور اگر ایسا ہے تو مستقبل میں دوستی کی نوعیت کیسے بدلتی رہے گی؟

آج کل یہ شکایت عام ہے کہ آج کی دوستی پہلے جیسی نہیں رہی۔ اب ریستوران لوگوں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں جس میں لوگ ایک دوسرے سے بات چیت کرنے کے بجائے اپنے فونز پر نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس سیلفی کلچر نے ہمیں نرگسیت پسند بنا دیا ہے جس میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ موجود رہنے کی بجائے اپنی پبلک ریلیشننگ کی زیادہ فکر کرتے ہیں۔

آج کی دوستیاں ماضی کی نسبت کسی حد تک مشروط ہیں کیونکہ ہم اپنے آپ کو ہم خیال افراد کے ’ایکو چیمبر‘ میں آن لائن منظم کرتے ہیں اور مخالف یا اپنے سے مختلف نظریات کو مسترد کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ لفظ ’دوست‘ کے معنی کو بھی سوشل میڈیا نے تبدیل کر دیا ہے، ایک نیا مفہوم ہے جس میں کسی کے ساتھ دوستی کا مطلب صرف یہ ہے کہ ان کی دوستی کی درخواست پر بغیر ہیلو کہے ’قبول کریں‘ پر کلک کریں۔

اس کی وجہ سے بہت زیادہ پریشانی ہے کہ حقیقی دوستی زوال پذیر ہے، اور ٹیکنالوجی اس کی قصوروار ہے۔ ’دی ایرا آف سوشل سوشل میڈیا‘ اور ’آپ کا سمارٹ فون آپ کو بیوقوف، غیر سماجی اور غیر صحت بخش بنا رہا ہے‘ جیسی سرخیاں جانی پہچانی ہیں۔

یہ سب کچھ بالآخر کہاں جا کر ختم ہونے والا ہے۔ شاید ہم اپنے آپ کو ایک گھٹیا درجے کی دنیا میں پائیں گے جہاں ہم صرف ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں جو ہماری خدمت کرتے ہیں، جہاں ہم اپنے دوستوں کو ان کے سنیپ چیٹ فلٹرز کے بغیر نہیں پہچانتے اور جہاں ہم کسی کے ساتھ حقیقی رابطے نہیں بناتے ہیں۔

لیکن کیا یہ خدشات واقعی جائز ہیں؟

دوستی پر نئی ٹیکنالوجی کے خوفناک اثرات کے بارے میں تشویش اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ لکھے ہوئے الفاظ کی تاریخ ہے۔ درحقیقت سقراط کے لیے لکھا ہوا لفظ بذات خود مسئلے کا حصہ تھا۔ ٹھیک 2,000 سال سے زیادہ عرصہ پہلے سقراط نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ آمنے سامنے مباحثوں میں بات چیت کی حمایت کرتے ہوئے خط لکھنے کے ذریعے علم و دانش حاصل کرنے کے طریقے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔

اور 20ویں صدی کے آغاز میں یہ خدشات پیدا ہوئے کہ لینڈ لائن ٹیلی فون آپس میں میل جول کو کمزور کر دیں گے یا غیر صحت مند سماجی رویوں کو فروغ دیں گے۔

ہمارے عصری نقطہ نظر سے جس میں خطوط یا ٹیلی فون اتنے ہی مہذب ہیں جتنا کہ ٹیکنالوجی کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔ اس طرح کے خدشات ہمیں عجیب و غریب لگتے ہیں۔ یقیناً وہ دوستی کو کمزور نہیں کرتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ دور دراز کے دوستوں کے درمیان خطوط اور فون بالکل ایسے ہی صحت بخش راستے ہیں جن کے بارے میں سوشل میڈیا کو استعمال کرنے والے ڈرتے ہیں کہ وہ طریقے شاید مستقبل میں ختم ہو جائیں گے۔

ڈیجیٹل دوستی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنخط لکھنا ایک پرانا فیشن لگتا ہے، لیکن یہ ٹیکنالوجی کے ذریعے رابطوں کے سلسلے سے مختلف نہیں ہے

تو کیا سوشل میڈیا سے دوستی کو خطرہ ہے یا وہ اسے فروغ دیتا ہے؟ سنہ 2012 کے ایک مقالے میں شینن ویلر نے غور کیا کہ فیس بک پر جس طرح کی لوگوں کی دوستیاں ہیں کیا ویسی ہی حقیقی دنیا میں دوستیاں ہو سکتی ہیں؟ اور اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بالکل ایسا ہی ممکن ہے۔

اس کی دلیل دوستی کے بارے میں نئے الجھے ہوئے خیالات پر منحصر نہیں ہے۔ بلکہ وہ ارسطو کا تصور استعمال کرتی ہے جو 2000 سال سے زیادہ پرانا ہے۔ ارسطو کے لیے دوستی کے لیے کچھ خوبیوں کی ضرورت ہوتی ہے جن میں باہمی تعاون، ہمدردی، خود شناسی (دنیا میں اپنے مقام کو سمجھنے کے معنی میں، دوسروں کے ساتھ ہمارے تعلقات میں ہمارے مقام سمیت)، اور اس کے علاوہ مشترکہ سماجی زندگی میں حصہ لینا بھی شامل ہیں۔

کیا دوستی پر سوشل میڈیا کے اثرات کے بارے میں شکوک و شبہات تعصب کا شکار ہو سکتے ہیں؟ بہر حال ایسے تعصب کا اظہار اکثر ایسے لوگوں کی طرف سے کیا جاتا ہے جن کی ابتدائی دوستی سوشل میڈیا پر نہیں بنتی تھی، جس کی وجہ سے ان کے مثبت پہلوؤں کو نظر انداز کرنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

ہم جیسے لوگ

یہاں تک کہ اگرچہ سکرین کے ذریعے بات چیت کرنا دوستی کو تباہ نہیں کر رہا ہے، تاہم بہت سے لوگ ڈرتے ہیں کہ جس طریقے سے ہم اپنے دوستوں کو منتخب کرنے اور ان سے دوستی بڑھانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں وہ کم معیار کے سماجی رابطوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

ایسا ہی ایک خوف ’ایکو چیمبرز‘ سے متعلق ہے۔ ہم خیال افراد کے وہ گروہ جن میں ہم اپنے روابط تشکیل دیتے ہیں، اس کے نتیجے میں خیالات کی کراس فرٹیلائزیشن کم ہو جاتی ہے، یعنی مختلف خیالات کا عمل کم ہو جاتا ہے، اور لوگ زیادہ پولرائزڈ ہو جاتے ہیں، یعنی گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں، اور اپنے ہم خیال لوگوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔

کچھ سکالرز کا دعویٰ ہے کہ آن لائن ایکو چیمبرز کے لبرل جمہوریت کے لیے سنگین مضمرات ہیں۔ لیکن دوستی کے نقطہ نظر سے وہ کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ انٹرنیٹ سے بہت پہلے لوگوں کے سماجی میل جول زیادہ تر ہم خیال لوگوں تک محدود تھے۔ اسی طرح اب بھی مذہبی عبادت کی جگہوں، بازاروں، کھیلوں کی ٹیموں، کام کی جگہوں اور تعلیمی اداروں، اور طبقاتی، جنس اور نسلی خطوط پر مختلف کمیونٹیز منظم ہوں گی۔

پھر یہ بالکل درست نہیں ہے کہ ڈیجیٹل رابطوں کے دور سے پہلے کی دوستی کے دنوں میں لوگ زندگی کے تمام شعبوں میں اپنے دوست بناتے تھے۔ شاید ہم سب اس کے نتیجے میں کہیں گم ہو رہے ہیں۔ لیکن اگر ہم گم بھی ہو رہے ہیں تو بھی حقیقت یہ ہے کہ انٹرنیٹ ہمیں اپنے سے ملتے جلتے لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے اور ہم خیال لوگوں سے دوستی کے کچھ بڑے فائدے ہوتے ہیں۔

یہ ہمیں مدد اور یکجہتی کو استعمال کرنے کے قابل بناتا ہے جو شاید دوسری صورت میں ایسا کرنا ممکن نہ ہو۔ یا تو اس وجہ سے کہ صحیح قسم کے مشترکہ تجربات والے لوگوں کو آف لائن تلاش کرنا مشکل ہو گا، یا اس لیے کہ زیر بحث مشترکہ تجربات اتنے قریبی ہیں کہ ہم بات کرنے سے گریزاں ہیں۔

ڈیجیٹل دوستی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجوانی میں بنائی گئی دوستیاں زندگی کے طویل سفر کے بعد تبدیل ہوتی ہیں

یہ بات قابل فہم لگتی ہے کہ یہ نظریہ کہ 'ایکو چیمبرز (اپنے جیسے خیالات کی بازگشت کے کمرے) دوستی کے لیے خراب ہیں، یہ جزوی طور پر اس نظریے پر مبنی ہے کہ دوستی مشترکہ مفادات اور مشترکہ تجربات کی بدولت زیادہ گہری ہوتی ہے یا ہونی چاہیے۔

ہم طویل عرصے سے متنوع، اکثر متضاد، گروہوں کے لوگوں کے درمیان دوستی اور رومانس کی کہانیوں سے متاثر ہیں۔ شاید سب سے مشہور رومانوی جوڑے، رومیو اور جولیٹ، آپس میں لڑنے والے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔

نیلسن منڈیلا، کو جب جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں قید کیا گیا تھا، اور سفید فام جیل کا ایک محافظ نوجوان، ابتدائی طور پر نسل پرستی کا حامی، کے درمیان دوستی نے عوام کی توجہ حاصل کر لی اور یہ دو مخالفین کے درمیان دوستی ایک فلم، 'گڈ بائی بافنا' کا مرکزی موضوع تھی۔

یہ بھی پڑھیے

سنہ 2014 میں عرب-امریکی صحافی سلوم اینڈرسن نے اپنے یہودی بوائے فرینڈ جیریمی کو چومتے ہوئے اپنی ایک تصویر ٹویٹ کی جو وائرل ہو گئی جس میں لکھا تھا ’یہودی اور عرب دشمن ہونے سے انکار کرتے ہیں۔‘

یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ ہم اپنے دوستوں کے خیالات اور دلچسپیوں سے مختلف انداز میں دیکھنے اور ان کے پیچھے موجود شخص سے محبت کرنے کے خیال سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ یقینی طور پر سچ ہے کہ بہترین دوستیاں مشترکہ مفادات کے ساتھ کھڑی یا گرتی نہیں ہیں۔

اگر آپ ابتدائی طور پر اپنے قدیم ترین دوست سے 90 کی دہائی کے امریکی بینڈ کے ساتھ اپنی مشترکہ محبت کی وجہ سے جڑے ہوئے تھے لیکن جب آپ میں سے کسی کی 'بوائز II مین' میں دلچسپی ختم ہو گئی تو آپ اس سے الگ ہو گئے، تو یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں ہوگا کہ آپ کی دوستی بہت گہری نہیں تھی۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مشترکہ مفادات کی بنیاد پر کنکشن تلاش کرنے میں کوئی حرج ہے۔ کئی برسوں کی گہری، محبت کرنے والی معاون دوستی کو کم گہرا، پیار کرنے والا، اور معاون نہیں بنایا جاتا کیونکہ زیر بحث دوست شروع میں اپنے بوائے بینڈ کے جنون کے ذریعے جڑے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ہر جگہ دوستیاں ہی دوستیاں …

اس خیال کے بارے میں کیا سوچ ہے کہ ہم اب ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جس میں دوستی کو بدنام کیا جاتا ہے؟ جس میں سوشل میڈیا ہمیں معیار پر مقدار کو اہمیت دینے اور گہرے روابط بنانے کی قیمت پر دوستیوں کی شوخ شکلیں پیش کرنے کی ترغیب دیتا ہے؟

یہ تشویش کہ دوستوں کی زیادہ تعداد اس کے معیار کی قیمت پر حاصل ہوتی ہے، دوسرے خدشات کی طرح جن پر ہم نے اب تک بات کی ہے، بالکل نئی نہیں۔

’بہت سے دوست رکھنے پر‘ کے عنوان سے ایک مضمون میں پہلی صدی کے یونانی فلسفی پلوٹارک نے لکھا تھا کہ ’تو پھر دوستی کی کسوٹی کیا ہے؟ یہ خیر خواہی اور احسان ہے جو خوبی کے ساتھ ملا ہوا ہے، جس سے بڑھ کر قدرت کے پاس کوئی چیز نایاب چیز نہیں ہے۔ اس کے بعد یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کے ساتھ مضبوط باہمی دوستی ناممکن ہے، لیکن بالکل جیسے دریا جن کا پانی ندی نالوں میں تقیسم ہو کر کمزور اور چھوٹے حجم کا ہوتا جاتا ہے، اسی طرح لیے پیار جو اپنی روح میں قدرتی طور پر مضبوط ہوتا ہے، لیکن اگر وہ بہت سے لوگوں میں تقسیم ہو جاتا ہے تو وہ بالکل کمزور ہوتا جاتا ہے۔‘

چند ہزار سال بعد ’ایبا‘ نے ایک گیت گایا تھا ’اپنے 20,000 دوستوں کا سامنا کرتے ہوئے، کوئی اتنا تنہا کیسے ہو سکتا ہے؟‘ ان کے سنہ 1980 کے سنگل 'سپر ٹروپر' میں۔ اور سنہ 2009 میں، ای ہوگن کویگ- برطانوی ٹیلنٹ شو دی ایکس فیکٹر کے ایک سابق فنکار نے ایک سنگل '28,000Friends '، ان بولوں کے ساتھ یوٹیوب، فیس بک، مائی سپیس اور آئی ایم پر ریلیز کیا: ’You and your 28,000 Friends‘ اور 'کیا یہ اکیلا محسوس ہوتا ہے؟ اتنے سارے دوست جنہیں آپ نہیں جانتے۔‘

ڈیجیٹل دوستی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا زیادہ دوست بنائے رکھنا مشکل کام ہے

کیا 150 سے زیادہ دوست بنانا ممکن ہے؟

ہمارے ڈیجیٹل ٹائم سکیلز کے مطابق، کوئگ کا مائی سپیس کا حوالہ ایک اپنی نوعیت کا قدیم برانڈ ہے، لیکن ہم سوچ سکتے ہیں کہ کیا پچھلی دو دہائیوں میں ابھرنے والی ٹیکنالوجی ہمیں اپنی دوستی کو پہلے سے کہیں زیادہ کمزور طور پر پھیلانے کی ترغیب دیتی ہے۔ کیا کوئگ کے پاس پلوٹارک کے مقابلے میں زیادہ مقناطیسیت ہے؟ جواب یہ ہے کہ اگرچہ تجرباتی شواہد اس دعوے کی تائید کرتے ہیں کہ ہم بہت زیادہ قریبی دوستی کرنے سے قاصر ہیں، لیکن یہ بات واضح نہیں ہے کہ ہمارے سماجی رابطوں کو بڑھانے کے لیے سوشل میڈیا کی صلاحیت ہماری دوستی کے معیار کو کم کر رہی ہے یا زیادہ۔

ماہر بشریات (اینتھروپولوجسٹ) رابن ڈنبر نے صدیوں کے دوران سماجی گروہوں کا مطالعہ کیا اور دریافت کیا کہ مستحکم سماجی رابطوں کی تعداد جو افراد برقرار رکھ سکتے ہیں وہ تقریباً 150 ہے۔

یہ تعداد 'دنبر نمبر' کہلاتی ہے اور یہ کم و بیش اُس تعداد کو ظاہر کرتی ہے جو 'اگر آپ کسی بار میں ان سے ٹکرا جاتے ہیں تو آپ بغیر بلائے مشروب میں شامل ہونے میں شرمندگی محسوس نہیں کریں گے۔‘

اس کے اندر ذیلی تقسیمیں ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک میں تین سے پانچ افراد ہوتے ہیں جو 'واقعی اچھے دوستوں کا ایک چھوٹا مرکز ہوتا ہے جن کے پاس آپ مصیبت کے وقت جاتے ہیں'، اور 12 سے 15 لوگوں کا 'ہمدردوں کا گروپ' ہوتا ہے 'جن کی موت آپ کو پریشان کر دے گی‘ لیکن ڈنبر کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ان گروہوں کو بڑھانے کے لیے علمی صلاحیت کی کمی ہے۔

ڈنبر بتاتے ہیں کہ 'اگر کوئی نیا شخص آپ کی زندگی میں آتا ہے تو کسی کو ان کے لیے جگہ بنانے کے لیے اگلے درجے میں اترنا پڑتا ہے۔‘ چونکہ ہمارے پاس دوستوں کی تعداد ہماری علمی صلاحیت کے لحاظ سے محدود ہے، یہاں تک کہ آن لائن کنکشن بنانے میں آسانی بھی ہمیں اس کو بڑھانے کے قابل نہیں بنا سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈنبر نے ریمارکس دیے کہ 'اس بارے میں ایک مسئلہ ہے کہ دوست کے طور پر کیا شمار ہوتا ہے۔' وہ مزید کہتے ہیں کہ 'وہ لوگ جن کی تعداد بہت زیادہ ہے - یعنی کہنے کا مطلب ہے کہ تقریباً 200 سے زیادہ - اپنی فہرست میں شامل افراد کے بارے میں ہم ہمیشہ بہت کم یا کچھ نہیں جانتے ہیں۔‘

حقیقت یہ ہے کہ ڈنبر کا نمبر ہے، جیسا کہ ڈنبر اسے دیکھتے ہیں کہ ہماری علمی صلاحیتوں سے محدود ہونا اس ممکنہ طریقے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں مستقبل میں دوستی مختلف نظر آ سکتی ہے۔ علمی صلاحیتیں، بشمول توجہ، یادداشت، ادراک، اور فیصلہ سازی - معلومات کی ذہنی پروسیسنگ سے متعلق ہیں۔ ہم ان صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد کے لیے مختلف حکمت عملیوں اور ٹولز کا استعمال کرتے ہیں۔

ہم توجہ مرکوز کرنے کے لیے کافی پیتے ہیں، اپنی بینائی کو بہتر بنانے کے لیے چشمہ پہنتے ہیں، چیزوں کو یاد رکھنے میں ہماری مدد کے لیے ہم فہرستیں لکھتے ہیں، وغیرہ۔ اس کے نتیجے میں ہم جو بہتری کرتے ہیں وہ نسبتاً معمولی اور اکثر قلیل المدتی ہوتی ہیں۔ تاہم بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مستقبل قریب میں ہم ادویات، 'ٹرانسکرینیئل الیکٹریکل سٹیمیولیشن'، دماغی امپلانٹس، اور جینیاتی انجینئرنگ جیسی ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے اپنی علمی صلاحیتوں میں کہیں زیادہ زبردست بہتری لانے کے قابل ہو جائیں گے۔

نتائج دیکھ سکتے ہیں کہ انسانی علمی صلاحیتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں جو ہم نے پہلے دیکھی ہیں۔

اس صورت میں شاید ہم نمایاں طور پر زیادہ لوگوں کے ساتھ قریبی دوستی برقرار رکھنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ دیکھتے ہوئے کہ خود کے علمی طور پر بہتر ورژن بھی ہمارے پاس سوشلائزنگ کے لیے گھنٹوں کی تعداد کی وجہ سے محدود ہوں گے، ہمیں اپنے قریبی دوستوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے لیے ہم ہر دوست کے ساتھ گزارے جانے والے وقت سے زیادہ اُس سے قربت کے معاملے کو شامل کرنے کی ضرورت ہو گی۔

یا یہ ہو سکتا ہے کہ علمی طور پر بہتر دنیا دوسری تبدیلیوں کے ساتھ آئے، جیسے کام کے اوقات میں کمی، جو دوستوں کے لیے زیادہ وقت مہیا کر سکتی ہے۔ دوسری طرف زیادہ قریبی دوستی رکھنے کی علمی صلاحیت کے باوجود شاید بہت سے لوگ کم دوست رکھنے کی قدر کریں گے۔

رومانوی تعلقات اس کی مثال ہیں۔ ایک سے زیادہ شراکت داروں کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کا بظاہر نتیجہ یہ نہیں ہوتا ہے کہ زیادہ تر لوگ غیر شادی شدہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ لہذا دوستی کا علمی طور پر بہتر مستقبل دوستی کے اب نظر آنے والے انداز سے مختلف نظر آ سکتا ہے، لیکن یکساں طور پر ایسا نہیں ہو سکتا۔

ڈیجیٹل دوستی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکیا مستقبل میں ٹیکنالوجی اور سمجھنے کی صلاحیت میں تبدیلی ہمیں زیادہ تعداد میں دوستیاں بنانے اور انھیں برقرار رکھنے کی بہتر صلاحیت دے سکتی ہے؟

ایسا لگتا ہے کہ ہمیں سینکڑوں یا اس سے بھی ہزاروں لوگوں کا حوالہ دینے کے لیے 'دوست' کی اصطلاح استعمال کرنے کی ترغیب دے کر، جن کے ساتھ ہمارے صرف انتہائی سطحی روابط ہیں، سوشل میڈیا (پلوٹارک کا استعارہ استعمال کرنے کے لیے) دوستی کی کسوٹی کی پرکھ کی قدر کو کم کر رہا ہے۔

فیس بک کے دوست، بہر حال اکثر صرف نام کے دوست ہوتے ہیں - خاص طور پر ان صارفین کے لیے جن کے دوستوں کی تعداد سینکڑوں یا ہزاروں میں ہے۔ لیکن جن لوگوں کو خاص طور پر اچھی طرح سے معلوم نہیں ہے ان کا حوالہ دینے کے لیے 'دوست' کا استعمال کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 18 ویں صدی کے انگلینڈ میں سماجی رابطوں کے اپنے مطالعے میں نومی ٹڈمور بتاتی ہیں کہ چند صدیاں پہلے ایک شخص نہ صرف ان لوگوں کو دوست سمجھتا تھا جن کے ساتھ اس کے نسبتاً گہرے جذباتی تعلقات ہوتے تھے، بلکہ خاندان، گھریلو عملہ، آجر وغیرہ بھی اُسی فہرست میں شامل ہوتے تھے۔ پر وہ اصطلاح کے اس وسیع تر استعمال کی ایک مثال کے طور پر دوستوں کی انجمن (Society of Friends) کی اصطلاح کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کئی برسوں کے دوران تبدیلیوں کے باوجود کہ آیا کچھ لوگ جن کے ساتھ ہمارے نسبتاً معمولی سے سماجی روابط ہیں، ان کا شمار دوست کے طور پر ہوتا ہے، وہاں ایک مستحکم مرکز موجود ہے۔ مٹھی بھر لوگ جو ڈنبر کے 'چھوٹے نیوکلئس' کو تشکیل دیتے ہیں اور درجن بھر یا اس سے زیادہ لوگ جو ہمدردوں کا گروپ' بناتے ہیں ہمیشہ دوستوں میں شمار ہوتے ہیں۔

لیکن ہمارے دوستوں کے بارے میں ہمارے خیالات میں تبدیلی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان چھوٹے میل ملاپ والے گروپوں کا کیا بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر وفاداری کے بارے میں ہمارے خیالات پر غور کریں۔ اپنے دوستوں کے ساتھ وفادار رہنا اچھا ہے - لیکن پیشہ ورانہ سیاق و سباق میں ہم دوستوں کے ساتھ وفاداری کی مذمت کرنے کے لیے 'کرونی ازم' اور 'اقربا پروری' جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔

ٹڈمور وضاحت کرتی ہے کہ ماضی میں چیزیں مختلف تھیں۔ 18ویں صدی میں اپنے دوستوں کی خدمت کرنا ایک خوبی کے طور پر دیکھا جاتا تھا یہاں تک کہ سیاست میں بھی۔ جس طرح تین صدیاں پہلے اپنے دوستوں کو سیاست میں مدد دینا ایک اچھا کام سمجھا جاتا تھا وہ آج قابل اعتراض سمجھا جاتا ہے، شاید آج کے دور کے بعض اعمال جو اچھے سمجھے جاتے ہیں وہ ایک دن قابل اعتراض تصور کیے جائیں گے۔

آج کوئی بھی ایسے وکیل پر اعتراض نہیں کرتا ہے جو دوستوں (لیکن اجنبیوں کو نہیں) کو مفت مشورہ دیتا ہے یا ایسے ہیئر ڈریسر پر جو اپنے دوستوں کے بالوں (لیکن اجنبیوں کے بال نہیں) کو مفت میں بناتا ہے۔ اجنبیوں کو بلا معاوضہ اس قسم کی مدد فراہم کرنا جس کے لیے انہیں دوسری صورت میں ادائیگی کرنی پڑے گی، لیکن اس کی توقع یا ضرورت نہیں ہے۔ مستقبل میں چیزیں بدل سکتی ہیں۔ شاید اجنبیوں کو انکار کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا فائدہ دوستوں کو دینا آنے والی صدیوں میں بدتمیزی کے طور پر دیکھا جائے گا۔

شاید دوستی کی بعض باتیں جنھیں آج اچھا سمجھا جاتا ہے، مستقبل میں انھیں قابل اعتراض سمجھا جائے

ہم اپنے دوستوں کے کس بات کے مقروض ہیں اس بارے میں آج سے مختلف خیالات کے ساتھ مستقبل کی دنیا کیسی نظر آئے گی؟ ٹھیک ہے شاید آج کی دنیا سے بہت زیادہ مختلف نہ ہو۔ یہ بھی ایسا نہیں ہے کہ ہم عصر دوستی پوری دنیا میں ایک جیسی ہے۔

انفرادیت پسند ثقافتوں میں دوستی - انگریزی بولنے والے ممالک اور مغربی یورپ کے زیادہ تر حصے کی طرح - عرب، مشرقی ایشیائی، افریقی، اور لاطینی امریکی ممالک میں دوستی سے کئی اہم طریقوں سے مختلف ہے جہاں زیادہ اجتماعی ثقافت ہے۔ مثال کے طور پر دوستوں کے درمیان باہمی تعلقات کو اجتماعی ثقافتوں کی نسبت انفرادی طور پر زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

افراد پسند نہیں کرتے کہ احسانات واپس نہ کر کے دوستوں کا مقروض ہو۔ اجتماعیت پسند اس طرح کے تعامل کو پسندیدگی کے لحاظ سے نہیں دیکھتے ہیں اور اس کے بجائے ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جو دوستوں سے مدد قبول کرنے کی مخالفت کرتے ہیں وہ الگ تھلگ اور مغرور ہیں۔

دوستوں کے درمیان رویہ جو کہ انفرادیت پسند ثقافتوں میں نامناسب مداخلت کے طور پر دیکھا جاتا ہے - جیسے کسی دوست کے کلاس کے نوٹوں کو درست کرنا - کو اجتماعی ثقافتوں میں خیال رکھنے والا سمجھا جاتا ہے۔ اجتماعی ثقافتوں میں رہنے والوں کو یقین ہوتا ہے کہ ان کی قریبی دوستی مثبت باتیں کہے بغیر برقرار رہے گی۔ نتیجے کے طور پر وہ اپنے دوستوں سے بے تکلفی کے ساتھ بات کرتے ہیں جسے انفرادیت پسند ثقافتوں میں بہت اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے۔

ماہر نفسیات راجر بومگارٹ - جن کے بین الثقافتی دوستی کی تحقیق کے سروے سے میں نے یہ مشاہدات اخذ کیے ہیں - کہتے ہیں کہ یہ ثقافتی اختلافات ظاہر کرتے ہیں کہ قریبی دوست ہونے کا مطلب ثقافت کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔

دوستی کا مستقبل

اس سب سے ہمارے لیے سبق کیا ہونا چاہیے؟ دوستی پیدا کرنے والے میڈیم اور ٹیکنالوجیز بدل سکتی ہیں، لیکن بہت کچھ پہلے جیسا ہی رہتا ہے۔ چند دہائیوں پہلے کی فون کالز اور ہاتھ سے لکھے گئے خطوط شاید آج کے واٹس ایپ ٹیکسٹ سے زیادہ بھرپور معلوم ہوتے ہیں، لیکن ان دونوں کا کام ایک جیسا ہے۔

یہ پریشان کن ہو سکتا ہے جب میں اپنے بچوں کو اپنے آئی پیڈ پر بیٹھے دیکھتی ہوں تو مجھے اپنے آپ کو یاد دلانا پڑتا ہے کہ اگرچہ وہ جسمانی طور پر فعال نظر نہیں آتے ہیں اور تنہا سے لگتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کا زیادہ تر سکرین پر وقت دوستوں کے ساتھ بات چیت میں صرف ہو رہا ہوتا ہے۔

ان کے الیکٹرانکس کو ہمیشہ کے لیے بند کر دینا اور انھیں اچھلنے والی رسی کے ساتھ باہر بھیج دینا بہتر نہیں ہوگا۔ لیکن خدشہ یہ ہے کہ ایسا کرنے کے نتیجے میں ممکنہ طور پر آپ اپنے بچوں کو ایک اہم کمیونٹی سے الگ کردیں گے - اور شاید ان کی زندگی کا ہر گھنٹہ سمارٹ فون پر گزارنے سے ان کی زندگی بھرپور نہ ہو۔

تاہم ماضی کی طرح روایتی انداز میں خطوط لکھنے سے بھی انھیں کوئی خاص فائدہ نہ ہو۔ بہرحال بچے بالکل ٹھیک ہیں۔

ربیکا روچ لندن میں رائل ہولوے، لندن یونیورسٹی میں ایک فلسفی اور اکیڈمک امپرفیکشنسٹ پوڈ کاسٹ کی میزبان ہیں۔ یہ مضمون فیوچر مورالٹی (ایڈ ڈیوڈ ایڈمنڈز) کے ایک مضمون سے اخذ کیا گیا ہے، جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا ہے۔