بچے پالنے کے دباؤ سے متعلق ارتقا کا عمل اور دیگر جانور ہمیں کیا سکھا سکتے ہیں

    • مصنف, نکولا ریحانی
    • عہدہ, پروفیسر اور محقق، بی بی سی فیوچر کے لیے

میں نے اپنے بچوں سے زبردستی ریموٹ کنٹرول چھینا اور صوفے پر بیٹھ کر آنے والے پروگرام کے لیے خود کو تیار کرنے لگی۔ یہ مارچ 2020 تھا، اور یہاں برطانیہ میں خطرناک کورونا وائرس کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے تھے۔ ہمارے وزیر اعظم لاک ڈاؤن کا اعلان کرنے والے تھے۔ سکول اور نرسریاں بند ہونے جا رہی تھیں۔ لاکھوں دوسرے والدین کی طرح میں اپنے چھوٹے بچوں کی ’ڈی فیکٹو‘ سکول ٹیچر بننے ہی والی تھی۔ اس خیال نے ہی مجھے خوف سے ہلا کے رکھ دیا۔

اس طرح سوچنے والی میں اکیلی نہیں تھی۔ میرے فون میں سکول کے واٹس ایپ چینل پر پیغامات کا سیلاب آیا ہوا تھا اور والدین حیران تھے کہ وہ بچوں کی سکول کی تعلیم کے اردگرد اپنی روزمرہ کی ملازمتوں کے تقاضوں کو کیسے پورا کریں گے۔

اس کے بعد آنے والے مہینوں میں بہت سے والدین نے اپنی ذہنی اور جسمانی صحت پر بہت زیادہ بوجھ محسوس کیا۔ مزید لاک ڈاؤن اور سکول بند ہونے کا سلسلہ شروع ہوا اور اس کے ساتھ ہی والدین کے تناؤ، اضطراب اور ڈپریشن کی سطح میں تشویشناک اضافے کی اطلاعات بھی موصول ہوتی رہیں۔ بہت سے لوگ خود سے پوچھتے ہیں کہ یہ اتنا مشکل کیوں تھا۔ کیا ہمیں بیرونی مدد کے بغیر ہی اپنے بچوں کی پرورش میں قدرتی طور پر اچھا نہیں ہونا چاہیے؟ کیا ماضی میں انسان سکولوں اور ڈے کیئر سینٹرز کے بغیر نہیں رہتے تھے؟

ایک ارتقائی ماہر حیاتیات کے طور پر میرے پاس وبائی امراض سے متعلق تمام خاندانی مسائل کے جوابات نہیں ہیں، لیکن میں ایک بات یقین سے کہہ سکتی ہوں: ایک سپیشی یا نوع کے طور پر، انسانوں کو تنہائی میں بچے پالنے کے عمل سے نمٹنے کے لیے بالکل مہارت نہیں ہے۔

ارتقائی نقطہ نظر سے یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ بہت زیادہ جذباتی نظر آئے۔ اس عام خیال کے باوجود کہ جدید خاندانی زندگی چھوٹی چھوٹی آزاد اکائیوں پر مشتمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اکثر اپنی اولاد کی پرورش کے لیے دوسروں کی مدد کا سہارا لیتے ہیں۔

انسانی تاریخ کے بیشتر حصے میں توسیع شدہ خاندانوں نے یہ مدد فراہم کی۔ آج کے دور کے صنعتی معاشروں میں جہاں چھوٹی خاندانی اکائیاں عام ہیں، اساتذہ، بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں اور دیگر کیئر مہیا کرنے والوں نے ہمیں اس قدیم سپورٹ نیٹ ورک کے استعمال کو دہرانے کی اجازت دی ہے۔

بچوں کی پرورش کا یہ باہمی تعاون کا طریقہ ہمیں گریٹ ایپس یا عظیم بندروں سے منفرد بناتا ہے۔ اسے ’کوآپریٹو بریڈنگ‘ کہا جاتا ہے اور یہ تقریباً اسی طرح ہے جیسے کہ بظاہر دور دراز کی سپیشیز مثلاً میرکات اور یہاں تک کہ چیونٹیاں اور شہد کی مکھیاں رہتی ہیں۔ اور اس نے ہمیں اہم ارتقائی فوائد فراہم کیے ہیں۔

باہمی تعاون سے افزائش نسل کرنے والی سپیشیز بڑے خاندانی گروہوں میں رہتی ہیں جہاں مختلف افراد مل کر اولاد کی پرورش کرتے ہیں۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ شاید چمپینزی جیسے دوسرے بندر اس طرح بچے نہیں پالتے۔ اگرچہ انسان اور چمپینزی دونوں پیچیدہ سماجی گروہوں میں رہتے ہیں، جن میں رشتہ دار اور غیر رشتہ دار شامل ہوتے ہیں، لیکن ان کا قریب سے معائنہ کرنے سے اس حوالے سے کچھ سخت اختلافات بھی سامنے آتے ہیں۔

چمپینزی مائیں اپنے نوزائیدہ بچوں کو اکیلے پالتی ہیں، کسی اور کی بہت کم یا کوئی مدد نہیں ہوتی، یہاں تک کہ باپ کی بھی نہیں۔ یہی حال گوریلا، اورنگوتان اور بونوبو کا بھی ہے۔ مزید براں یہ کہ مادہ ایپس (بندر) کو مینوپاز نہیں ہوتا، یعنی وہ ساری زندگی بچے پیدا کر سکتی ہیں۔ نتیجاتاً، یہ بہت عام ہے کہ ماں اور بیٹی ایک ہی وقت میں اپنی اپنی اولاد کی پرورش کر رہی ہوں۔ اس کی وجہ سے ایک ممکنہ دادی کے لیے اپنے پوتے پوتیوں کی پرورش میں مدد کرنے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔

ہم واضح طور پر مختلف ہیں۔ زمین پر اپنے زیادہ تر وقت کے دوران انسان توسیع شدہ خاندانی اکائیوں میں رہتے ہیں، جہاں ماؤں کو خاندان کے بہت سے دوسرے افراد سے مدد ملتی ہے۔ آج کل کے انسانی معاشروں میں اب بھی ایسا ہوتا ہے۔ انسانوں میں باپ اکثر اولاد کی پرورش میں ہاتھ بٹاتے ہیں، حالانکہ پدرانہ سرمایہ کاری کی حد مختلف معاشروں میں مختلف ہوتی ہے۔

شیر خوار بچوں کی مدد مختلف قسم کے دیگر رشتہ دار بھی کرتے ہیں، جن میں بڑے بھائی بہن، خالہ اور چچا، کزن اور یقیناً دادا دادی بھی شامل ہیں۔ یہاں تک کہ چھوٹے بچے بھی دوسرے چھوٹے بچوں کی حفاظت اور ان کی نشو و نما میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایسے ماحول میں بچوں کی دیکھ بھال کا بوجھ بہت کم ہی کسی اکیلے فرد پر پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایبے پیج ایک حیاتیاتی اینتھروپولوجسٹ (ماہر بشریات) ہیں جنھوں نے فلپائن کی ایک شکاری سوسائٹی ’اگتا‘ کے ساتھ بڑا کام کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہم نے ابھی صرف اس طرح کے روایتی سپورٹ نیٹ ورکس کو مکمل طور پر سمجھنا شروع کیا ہے۔‘ مثال کے طور پر اگتا جیسے معاشروں میں چار سال تک کی عمر کے بچے بھی اکثر خاندان کے کام کرنے والے افراد میں شامل ہوتے ہیں۔

پیج کہتی ہیں کہ بچوں کی طرف سے ڈالے گئے حصے کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کام اور کھیل کے متعلق سخت تصورات کی وجہ سے محققین اس بات پر توجہ نہیں دیتے تھے کہ کوئی بچہ ایک لمحے کھیل رہا ہے اور اگلے ہی لمحے جھاڑی سے پھل حاصل کر رہا ہے۔

اگتا میں بچے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو خطرے سے بچانے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ پیچ ایک واقعہ بتاتی ہیں جب وہ اگتا خاندان کے ایک چار سالہ لڑکے اور اس کی شیر خوار بہن کے ساتھ ایک جھونپڑی میں بیٹھی تھیں۔ تینوں فرش پر بیٹھے تھے کہ ایک بچھو آ گیا۔

پیج اعتراف کرتی ہیں کہ وہ پریشان ہو گئی تھیں۔ ’میں ذرا بھی مددگار نہیں تھی۔‘ خوش قسمتی سے، وہاں موجود چھوٹے بچے کو پتا تھا کہ ایسے وقت میں کیا کرنا ہوتا ہے۔ ’اس نے فوراً چھلانگ لگائی، آگ سے سلگتی ہوئی لکڑی اٹھائی اور بچھو کو مسل دیا، اور اس کے بعد وہ اس کے اوپر چند بار اچھلا بھی۔‘ اس سادہ سے عمل سے ممکنہ طور پر اس کی بہن کی جان بچ گئی۔

اس تجربے نے پیچ کو اس بات پر غور کرنے کی ترغیب دی کہ بچے کی بامعنی دیکھ بھال کیا ہوتی ہے۔ مغربی معاشرے میں بچوں کی نگہداشت کا عام طور پر مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک ذمہ دار بالغ، اکثر والدین میں سے کوئی، نہ صرف چھوٹے بچے کی نگرانی کرتا ہے، بلکہ اس کو بھرپور طریقے سے مشغول اور محرک رکھتا ہے۔

جب والدین ایسا کرنے سے قاصر رہتے ہیں، مثلاً جیسے وہ وہ کام میں مصروف ہوتے ہیں، تو وہ خود کو مجرم یا نااہل محسوس کر سکتے ہیں۔ لیکن پیج کی تحقیق نے بہت سے دوسرے طریقوں سے پردہ اٹھایا ہے جن میں والدین پر شدید توجہ مرکوز کیے بغیر بچوں کی دیکھ بھال اور ترقی کی منازل طے کی جا سکتی ہیں۔

درحقیقت، بہن بھائی کی دیکھ بھال، جس میں بڑی عمر کے بچے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش میں مدد کرتے ہیں، باہمی تعاون کے ساتھ افزائش نسل کی ایک واضع خصوصیت ہے۔ میرکات ادھر ادھر سے کھانا ڈھونڈ کر لاتے ہیں جو چھوٹے بچوں کے ساتھ بانٹا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ چھوٹے میرکات کی دیکھ بھال بھی کرتے ہیں۔

وہ بچوں کو سکھاتے ہیں کہ خطرناک اشیا سے کیسے محفوظ رہنا ہے۔ یہاں تک کہ مادہ میرکات اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو اپنا دودھ بھی پلاتی ہیں۔ بالکل اس بچے کی طرح جس نے اپنی بہن کو بچھو سے بچایا۔ ان کوآپریٹو سوسائٹیز میں دیکھ بھال کی کچھ اہم ترین شکلوں میں کم عمر جانوروں کی حفاظت بھی شامل ہے، تاکہ انھیں شکاریوں سے محفوظ اور مصیبت سے دور رکھا جائے۔

کوآپریٹو بریڈنگ کو بچوں کی پرورش کی زیادہ تنہا شکلوں پر ایک اہم افادیت حاصل ہے: یہ ایک نوع کو زیادہ لچکدار بنا سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر خراب موسمی حالات کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

تعاون کے ساتھ افزائش نسل کرنے والی بہت سی انواع کرہ ارض کے گرم ترین، خشک ترین علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔ ابتدائی انسان بھی ایسے سخت علاقوں میں آباد تھے جہاں کھانا تلاش کرنا مشکل ہوتا، اور اسے جمع کرنے، ڈھونڈ نکالنے یا مارنے کی ضرورت پڑتی۔

اس طرح تعاون بقا کے لیے ایک ایسی شرط تھی جو کہ آج کل گریٹ ایپس (عظیم بندروں) کے لیے نہیں ہے۔ ہمارے تمام ایپ (بندر) کزن نسبتاً مستحکم، بے ضرر ماحول میں رہتے ہیں، جو کہ بنیادی طور پر وہ جگہیں ہیں جہاں کھانا ہوتا ہے اور جہاں انھیں اپنے آپ کو اور اپنے چھوٹے بچوں کو پالنے کے لیے خوراک زیادہ آسانی سے دستیاب ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بظاہر انسان ہی واحد ایپ تھا جو اس طرح کے مشکل ماحول میں زندہ رہ سکتا تھا۔ عظیم بندر کا ان علاقوں سے فوسل ریکارڈ نہیں ملتا۔

ہو سکتا ہے کہ ہمارے تعاون پر مبنی رجحان نے، جس نے ہمیں اتنے عرصے تک زندہ رہنے اور ترقی کی منازل طے کرنے کی صلاحیت دی، موجودہ بحران کو نفسیاتی اور عملی نقطہ نظر سے بہت مشکل بنا دیا ہو۔

لاک ڈاؤن کے دوران ہمارا اپنے سپورٹ نیٹ ورکس سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا، جن میں نہ صرف دادا دادی، آنٹی اور انکل شامل تھے بلکہ سکول، نرسری اور پلے گروپس بھی جو سبھی مل کر ہمارے قدیم انسانی گروپ کے ڈھانچے کی شکل بنانے میں مدد دیتے تھے۔ نہ صرف یہ، بلکہ ہم سے توقع کی جاتی تھی کہ ہم اپنی چھوٹے خاندانی اکائیوں پر واپس لوٹ جائیں، جیسے کہ یہ کوئی فطری چیز تھی۔

ہم میں سے بہت سے لوگوں کو یہ تقریباً ناممکن چیز محسوس ہوئی، اور اس کی کوئی حقیقی وضاحت نہیں تھی کہ ایسا کیوں محسوس ہوا۔ بہر حال، خاندان کے بارے میں ہمارا مغربی تصور ماں کی طرف سے دیکھ بھال پر بہت زیادہ زور دیتا ہے اور خاندان کے دیگر افراد کی شراکت پر بہت کم۔ توقع یہ تھی کہ مائیں اور باپ، یا صرف اکیلی مائیں، دیکھ بھال کرنے والوں کے طور پر کافی ہوں گی۔

تاہم، لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن میں ارتقائی آبادی کی پروفیسر ریبیکا سیئر کے مطابق خود کفیل نیوکلیئر (انفرادی) خاندان کا یہ خیال تاریخی حقیقت کے بجائے مغربی محققین کے تجربات اور عالمی نظریات کی عکاسی کرتا ہے۔ انفرادی خاندان کا خیال، جس میں ایک مرد کمانے والا ہوتا ہے، خاص طور پر جنگ کے بعد کے دور میں کافی مقبول ہوا۔ سیئر کے مطابق یہ وہ وقت تھا جب ’اکیڈمیا امیر، سفید فام، مغربی مردوں سے بھری پڑی تھی، جو صرف اپنے خاندان کو دیکھتے تھے اور یہ سوچتے تھے کہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔‘

’نیوکلیئر خاندان‘ کی اصطلاح 1920 کی دہائی میں سامنے آئی تھی۔ خاندانی ڈھانچہ خود، جو دو والدین اور نسبتاً کم بچوں پر مرکوز ہے، کافی پرانا ہے، اور ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق صنعتی انقلاب سے ہو، جس میں کھیتی باڑی سے مینوفیکچرنگ کی طرف شفٹ تھی جو زیادہ آزاد طرز زندگی کی اجازت دیتا تھا۔

اس کی ایک متبادل وضاحت قرون وسطیٰ میں مغربی چرچ کی پالیسیاں ہیں، جو کزنز اور خاندان کے دیگر افراد کے درمیان شادیوں پر پابندی کی وجہ سے خاندانی اکائیوں کے سکڑنے کا سبب بنی تھیں۔ لیکن اگرچہ 20ویں صدی کی مغربی تحقیق اور مقبول ثقافت میں جس میں لاتعداد ناول، فلمیں اور ٹی وی شوز بھی شامل ہیں، نیوکلیئر خاندان کا تصور ہر جگہ موجود ہے، لیکن سیئر کہتی ہیں کہ حقیقت میں یہ انوکھا اور بے قاعدہ ہے، یہاں تک کہ مغرب میں بھی۔

سیئر کہتی ہیں کہ دنیا بھر میں صرف والدین کا بچوں کے ساتھ رہنا نسبتاً کم ہے۔ ’دنیا بھر میں خاندان کے ڈھانچے میں بہت زیادہ تبدیلیاں آ چکی ہیں، لیکن جو سب میں مشترک ہے وہ یہ ہے کہ والدین بچوں کو پالنے کے لیے مدد حاصل کرتے ہیں اور یہ مغربی مڈل کلاس (خاندانوں) میں بھی ہوتا ہے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ انسانوں کے لیے عام ترتیب یہ نہیں کہ ایک جوڑا ہو جو تنہا بچوں کی پرورش کرے۔ اس کے بجائے، جب بچوں کی پرورش کی بات آتی ہے تو ہمیں عام طور پر مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ حاصل بھی ہوتی ہے۔ نہ ہی خواتین کا بطور مائیں اور گھر چلانے والیوں کا تصور اتنا روایتی ہے جیسا کہ کبھی کبھی سمجھا جاتا ہے۔ تاریخی اور آج کے معاشروں میں، خواتین اپنے خاندانوں کے لیے پیداوار میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ خواتین گھر چلانے کے لیے کماتی بھی ہیں۔

انسانی خاندان کے بارے میں اس مختلف نقطہ نظر کے ساتھ شاید وبائی امراض کے دوران بچے پالنے کے متعلق ہماری توقعات شاید ذرا مختلف ہوتیں۔ یہ فرض کرنے کے بجائے کہ والدین اور خاص طور پر ماؤں کو یہ بوجھ اٹھانا چاہیے، ہم کو خاندان کے دیگر افراد اور دیکھ بھال کرنے والوں کے اہم کردار کو بھی تسلیم کرنا چاہیے تھا۔

انسانوں سے یہ توقع کرنا کہ وہ چمپینزی کی طرح بچے پالیں، اسی طرح ہی ہے کہ ایک چیونٹی کو اس کی کالونی سے الگ تھلگ کردیا جائے۔ ہم اس طرح نہیں بنے اور اکثر ایسا ٹھیک بھی نہیں ہوتا۔ یہ ماننا کہ ہمیں دوسروں کی ضرورت ہے ناکامی کی علامت نہیں ہے، بلکہ یہ وہی چیز ہے جو ہمیں انسان بناتی ہے۔

نکولا ریحانی یونیورسٹی کالج لندن میں ارتقاء اور طرز عمل کی پروفیسر ہیں، اور کتاب دی سوشل انسٹنکٹ: ہاؤ کواپریشن شیپڈ دی ورلڈ کی مصنفہ ہیں۔