کچھ لوگ نامناسب رویوں کو افشا کرنے کے لیے ہر چیز قربان کرنے کا خطرہ مول کیوں لیتے ہیں؟

    • مصنف, کیتھرائین سینڈرسن
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

بعض لوگوں میں اتنی جرات ہوتی ہے کہ وہ بدمعاشی، برے سلوک اور بدعنوانی کو چیلینج کرتے ہیں یہاں تک کہ اس کے لیے اپنی ذات کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ ان میں اتنی جرات کیسے پیدا ہو جاتی ہے اور کیا دوسرے لوگ ان کی جرات سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟

امریکی ریاست یوٹاہ سے سینیٹر مِٹ رومنی نے اس برس فروری میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر طاقت کے غلط استعمال کے الزام کی وجہ سے مواخذے کے وقت ان کے خلاف ووٹ دیا تھا، اس طرح وہ پہلے امریکی سینیٹر بن گئے جس نے اپنی ہی جماعت کے صدر کے خلاف مواخدے کی تحریک میں ووٹ ڈالا ہو۔

امریکہ کی ایک ہیلتھ ٹیکنالوجی کمپنی ’تھرانوز‘ کے دو ملازمین، اریکا چیونگ اور ٹائلر شولٹز نے اس کمپنی کے کاموں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا باوجود اس کے کہ انھیں طویل عرصے تک اپنے پیشہ ورانہ کیریئر پر اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے تھے۔

ہالی ووڈ کی اداکارہ ایشلی جیوڈ اور روز میک گوان نے پبلک میں آکر فلموں کے بہت امیر پروڈیوسر ہاروی وائین سٹائین کے خلاف ہراساں اور جنسی حملے کرنے کے الزامات لگائے باوجود اس کے کہ ایسا کرنے پر ان کے فلمی کیریئر تباہ کر دینے کی انھیں دھمکیاں دی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

ان تمام افراد نے ایک برے رویے کے خلاف بات کرنے کی جرات دکھائی باوجود اس کے کہ انھیں زبردست دباؤ کا سامنا تھا۔ اگرچہ ان میں سے ہر واقعہ کی تفصیلات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں لیکن ان سب میں جو بات مشترک ہے وہ ان کی کچھ کرجانے کی جرات ہے۔

اعلیٰ اخلاقی اقدار میں یقین رکھنے کی وجہ سے بغاوت کرنے والے یہ افراد ’مورل ریبلز‘ یا ’اخلاقیات پسند باغی‘ تمام منفی نتائج کے باوجود، جن میں یہ کہ سماج ان کے خلاف کھڑا ہو جائے، معاشرہ انھیں اپنے سے الگ کر دے یا ان کے کیریئر کو نقصان پہنچے، یہ ہر حال میں اپنے اصولی مؤقف کا دفاع کرنے کے عزم پر قائم رہیں گے۔

’مورل ریبلز‘ یا اخلاقیات پسند باغی ہر قسم کے حالات میں جراتِ اظہار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ ایک بدمعاش کو روکنے کی جرات رکھتے ہیں، یہ اپنے دوست کو نسلیت پسندی کی باتوں پر اس کو جھڑک سکتے ہیں، اپنے ساتھی کی کارپوریٹ فراڈ کرنے پر شکایت کر سکتے ہیں۔

وہ کیا سوچ ہے کہ کچھ لوگ برے کردار کی نشاندہی کرنے کی جرات کرتے ہیں چاہے انھیں اس کی کتنی ہی قیمت کیوں نہ دینی پڑے؟

سب سے پہلے تو یہ اعلیٰ اخلاقی اقدار میں یقین رکھنے کی وجہ سے بغاوت کرنے والے یہ افراد ’مورل ریبلز‘ یا اخلاقیات پسند باغی اپنے بارے میں بہت اعلیٰ سوچ رکھتے ہیں، اپنے آپ کو ایک بڑا انسان سمجھتے ہیں۔

ان میں اتنی زیادہ خود داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی رائے، فیصلوں، اقدار اور صلاحیت کے بارے میں مکمل پُراعتماد ہوتے ہیں۔

انھیں اس بات کا بھی یقین ہوتا ہے کہ ان کے خیالات دوسروں سے زیادہ بہتر ہیں اس لیے ان کی یہ سماجی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے خیالات کے بارے میں دوسروں کو آگاہ کریں۔

’مورل ریبلز‘ میں دوسروں کی نسبت جھجک عموماً کم ہوتی ہے۔ ان کو اس بات کی قطعی پریشانی نہیں ہوتی ہے کہ کوئی ان کی سُبکی کرسکتا ہے یا وہ کسی سے بحث میں غلط طریقے سے الجھ جائیں گے۔

شاید سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایسے افراد اپنے ارد گرد کے ہجوم کی باتوں سے بہت ہی کم متفق ہوتے ہیں۔

اس لیے جب انھیں لوگوں سے متفق ہو کر ان کے ساتھ رہنے اور اختلاف کر کے حق گوئی کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ یہ حق گوئی کا انتخاب کریں گے۔

نیوروسائینس (علمِ الاعصاب) کی ریسرچ یہ ظاہر کرتی ہے کہ لوگوں کی سماجی دباؤ کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت ان کے دماغ کی اناٹومی کی ساخت میں فرق میں نظر آتی ہے۔

جو لوگ کسی جگہ متفق ہونے کے بارے میں تشویش رکھتے ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے دماغ کے ایک حصے میں سیاہ مائل مادہ (گرے میٹر) زیادہ ہوتا ہے، دماغ کا یہ حصہ ’اوربیٹوفرنٹل کورٹیکس‘ کہلاتا ہے جو سر کے سامنے کی ہڈی کے پیچھے بھیجے کی بیرونی تہ کی ایک جانب ہوتا ہے۔

یہ جگہ جو کہ آپ کی بھنووں کے بالکل پیچھے ہوتی ہے، واقعات کی یادوں کی تخلیق کرتی ہے جس کا نتیجہ نفی کی صورت میں نکلتا ہے۔

یہ کیفیت آپ کو ان باتوں سے دور رہنے میں مدد دیتی ہے جن سے آپ آئیندہ گریز کرنا چاہتا ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہ آب کو آپ کے ساتھی مسترد کر دیں۔

جن لوگوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ گروہ کی اقدار سے کسی نہ کسی طرح جڑے رہیں ان کے دماغ کے دو اور حصوں (سرکٹوں) میں تیز سرگرمیاں نظر آتی ہیں، ایک وہ جو سماجی تکلیف پر ردعمل ظاہر کرتی ہے۔

مثال کے طور پر جب آپ کو ایک گروہ سے مسترد کیے جانے کا تجربہ۔۔۔ اور دوسرا حصہ (سرکٹ) وہ ہے جو دوسروں کے احساسات اور سوچ کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں وہ لوگ جو اپنے گروہ سے علحیدہ کیے جانے کو بہت برا محسوس کرتے ہیں تو وہ اس سے جڑے رہنے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں۔

دماغ کی یہ کیفیت ’مورل ریبلز‘ کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟

بعض افراد کے لیے یہ احساس کہ آپ باقی لوگوں سے مختلف ہیں انھیں بہت برا احساس دلاتا ہے اور یہ احساسات نیورولوجیکل سطح پر بھی ہوتا ہے۔ دوسرے افراد کے لیے شاید یہ بات اہم ہی نہ ہو، جس کی وجہ سے سماجی دباؤ کے خلاف مزاحمت کرنا ان کے لیے بہت آسان ہو جاتا ہے۔

یہ خصوصیات ایک ’مورل ریبل‘ کو اس لحاظ سے مطلق ملحدانا خیالات کے قریب لے جاتی ہیں کہ وہ کس مقصد کے لیے قیام کر رہا ہے۔ (ملحدانہ سوچ یعنی ایسی سوچ جو ایسے عقیدے سے جنم لیتے ہیں جن میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ نہ ہم خدا کا علم رکھتے ہیں اور نہ ہی رکھ سکتے ہیں۔)

آپ شاید آزاد سوچ رکھنے والے خاندان میں ایک واحد آواز ہوں جو حمل گرانے کے حق کے خلاف ہوں یا ایک ایسی تنہا آواز ہوں جو ایک قدامت پسند خاندان میں ہوتے ہوئے حمل گرانے کے حق کی وکالت کرتے ہوں۔

ہر دو صورتوں میں بات دراصل اپنے اردگرد کے سماج کے مقابلے خاموش رہنے کے بجائے اس کے خلاف اپنے موقف پر قیام کرنا ہے اور بے شک یہ دباؤ کسی بھی قسم کا ہو سکتا ہے۔

وہ کیا باتیں ہیں جو اصولی مؤقف کی بنیاد پر سماج سے بغاوت کرواتا ہے یعنی ’مورل ریبل‘ بناتا ہے؟

اخلاقی جرات کی بنیاد پر عملاً کچھ کرنے سے بہت مدد ملتی ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کئی ایک سرگرم افراد جنھوں نے سنہ 1960 کی دہائی میں امریکہ کے جنوب میں شہری حقوق کے لیے نکالے گئے کئی جلوسوں میں شرکت کی ہو، وہ ایسے والدین کے بچے تھے جنھوں نے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کیا تھا اور شہری حقوق کی بات کی تھی، اُسی طرح جس طرح اُن جرمنوں نے کیا تھا جن کے والدین نے ہولوکوسٹ کے وقت کئی یہودیوں کی جانیں بچائی تھیں۔

ایسے لوگوں کو ایک مثالی کردار کے طور پر دیکھنا جنھوں نے اخلاقی بنیادوں پر قیام کیا ہو آپ میں بھی جرات پیدا کر سکتا ہے۔

ایک ابھرتے ہوئے ’مورل ریبل‘ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہمدردی کا جذبہ رکھتا ہو، دنیا کو دوسرے کے زاویے سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ مختلف قسم کا پس منظر رکھنے والے لوگوں سے ملتے رہنا اور ان کے ساتھ وقت گزارنے اور سمجھنے سے کافی مدد ملتی ہے۔

کسی گورے سکول کے ایک طالبِ علم کے لیے جو دیگر نسلی گروہوں کے لوگوں سے زیادہ ملاقاتیں کرتا ہے، ان کے محلوں میں، سکول میں اور سپورٹس کی سرگرمیوں میں، اُس کی مختلف اقلیتوں کے لوگوں سے زیادہ ہمدردی ہوتی ہے اور ان سے ایک مثبت رویہ رکھتا ہے۔

ایسے طالبِ علم کے بارے میں غالب امکان ہے کہ اگر اس کا ہم جماعت کسی نسلی گروہ کے لیے غلط زبان کرے گا تو وہ اس کی شکایت کرے گا، اگر کوئی نسلیت پسندی کا نشانہ بنے گا تو اُس سے ہمدردی کرے گا یا استاد کو اس واقعے سے آگاہ کرے گا۔

جو لوگ دوسروں کا زیادہ احساس کرتے ہیں تو ان کے بارے میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ اُس شخص کی مدد کریں گے جو کسی کی بدمعاشی کا شکار ہوا ہو گا۔

آخر میں اخلاقیات پسند باغی کو چند ایک مخصوص ہُنروں کا علم ہونا چاہیے جن کا اُسے استعمال کرنے کی مشق کرنا چاہیے۔

ایک ریسرچ کے ذریعے معلوم ہوا کہ ایسے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جو اپنے والدین کے ساتھ بحث کے دوران دلائل استعمال کرتے ہوئے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ جھنجلاہٹ کا مظاہرہ کریں، دباؤ کریں یا بد تمیزی کریں۔

یہ ایسے افراد ہوتے ہیں جو منشیات اور شراب خوری وغیرہ کے خلاف سخت مزاحمت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایسا کیوں ہے؟ وہ لوگ جو مؤثر طریقے سے دلائل دے سکتے ہیں اور اپنے دلائل پر کسی دباؤ کے باوجود قائم رہتے ہیں وہ دلائل دینے کی اس صلاحیت کو اپنے ہم عصر افراد کے ساتھ بہتر طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔

اخلاقیات پسند باغی واضح طور پر کچھ مختلف خصوصیات رکھتے ہیں جو انھیں اس قابل بناتی ہے کہ وہ جس بات کو درست سمجھتے ہیں ان کے لیے قیام کریں لیکن معاشرے کے باقی افراد کے متعلق کیا کہا جا سکتا ہے؟

کیا بزدل بن کر ایک جانب کھڑے ہو کر کسی برے کو برا نہ کہنے کی جرات نہ کرنے والے افراد بے کار لوگ ہیں؟

خوش قسمتی سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایسا کہنا درست نہیں۔ ایسا بہت ممکن ہے کہ سماجی دباؤ کے خلاف قیام کرنے کی صلاحیت کو پیدا کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہر شخص اخلاقیات پسند باغی بننا سیکھ سکتا ہے۔