عالمی وباؤں کی روک تھام کیسے کی جاتی ہے؟

    • مصنف, سٹیون ڈاؤلِنگ
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

اکتیس جنوری 2003 کو ژاؤ زوفین نامی مچھلی فروش کو چین کے بڑے شہر گوانجو میں واقع سن یاٹسین میموریل ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ وہ ایک ایسے خاص قسم کے نمونیہ میں مبتلا تھے جو گذشتہ نومبر سے چند لوگوں کو ہو چکا تھا۔

اب خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بیماری سب سے پہلے ہانگ کانگ سے متصل چینی علاقے فوشان میں ایک کسان کو لگی تھی۔ اس کی علامات زکام جیسی تھیں: پٹھوں میں درد، بخار، انتہائی زیادہ تھکاوٹ اور گلے میں دُکھن۔ اس کے بعد یا تو نمونیہ ہو جاتا تھا، یا بعض اوقات کوئی دوسرا بیکٹریل انفیکشن۔

ژاؤ کے بیمار پڑنے سے اس قدرے گمنام مرض نے دنیا بھر میں سراسیمگی پھیلا دی۔ خیال کیا جانے لگا کہ ان کے ہسپتال میں قیام کے دوران اس مرض کے جراثیم طبی عملے کے تیس ارکان کو منتقل ہوگئے تھے۔ ہسپتال کے ایک ڈاکٹر لیو جیانلن کو عملے کے نو ارکان کا علاج کرنا پڑا۔

لگ بھگ پندرہ فروری 2003 سے ان میں بھی بیماری کی ہلکی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں، مگر انھیں اس بیماری کی علامات نہیں سمجھا گیا جس کا وہ علاج کر رہے تھے۔ اس دوران وہ خاندان کے اندر ایک شادی میں شریک ہونے کے لیے ہانگ کانگ چلے گئے۔ یہیں سے اس مرض کے بین الاقوامی ایمرجنسی بننے کا آغاز ہو گیا۔

ڈاکٹر اور ان کی بیوی نے 21 فروری کو ہانگز میٹروپول ہوٹل کی نویں منزل پر واقع ایک کمرے قیام کیا۔ یہاں انھیں زیادہ عرصے کے لیے نہیں رہنا تھا۔ مگر اگلی صبح ڈاکٹر کو اندازہ ہوا کہ ان کی طبیعت ناساز ہے اور انھیں طبی امداد کی ضرورت ہے۔ وہ قریب ہی واقع کوانگ وا ہسپتال چل کر گئے۔

چونسٹھ برس کے ڈاکٹر نے یہ جانتے ہوئے کہ ان کی حالت کافی سنگین ہے ہسپتال والوں سے خود کو آئسولیشن میں (دوسروں سے الگ تھلگ یا تنہا) کرنے کو کہا۔ ان کی اس دور اندیشی کے نتائج خاصے دور رس تھے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو صورتحال کہیں زیادہ خراب ہو سکتی تھی۔

لیو جس مرض کے جراثیم ساتھ لے کر چل رہے تھے اس کی پہچان دنیا بھر میں سارس (سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم یعنی تنفس کے شدید آزار) کے نام سے ہوئی۔ عالمی رائے اس بات پر متفق ہے کہ ڈاکٹر کی دور اندیشی اور حاضر دماغی نے اس بیماری کو عالمی وبا بننے سے روک دیا۔ تاہم سارس پر فتح کو وہ خود نہ دیکھ سکے کیونکہ وہ دو ہفتے تک اس مرض سے نبرد آزما رہنے کے بعد پانچ مارچ کو زندگی کی بازی ہار گئے۔

اگرچہ اس بیماری کے اکّا دُکّا واقعات مارچ 2004 تک رپورٹ ہوتے رہے تھے، تاہم عالمی ادارۂ صحت نے بیس روز تک کوئی نیا کیس رپورٹ نہ ہونے کے بعد پانچ جولائی 2003 کو ہی ہنگامی حالت کے خاتمے کا اعلان کر دیا تھا۔

سارس سے انتیس ممالک میں مجموعی طور پر 8000 افراد متاثر اور کم سے کم 774 ہلاک ہوئے۔ ہلاکتوں کی شرح دس فیصد سے کچھ کم تھی مگر زکام جیسی موسمی بیماریوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔ اس کے سب سے زیادہ اثرات چین، تائوان اور کینیڈا میں ہوئے۔

عالمی وبا کووِڈ 19 کی طرح، جس کا اس وقت ہمیں سامنا ہے، سارس کی وبا بھی ہوائی جہاز کے ذریعے پھیلی تھی۔ ایک صدی قبل آنے والی سپینِش فلو کی وبا کو، جو مسافر کشتیوں اور ٹرینوں کے ذریعے پھیلی تھی، ایک جگہ سے دوسری جگہ تک پہنچنے میں کئی ہفتے اور مہینے لگے تھے۔ جبکہ حالیہ وبا ایک دن سے کچھ زیادہ وقت میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے تک پہنچ سکتی تھی۔ ہمارے سفر کی صلاحیت نے دنیا کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے، جس کا ایک منفی اثر یہ ہے کہ کسی مرض کے عالمی وبائی صورت اختیار کرنے کا امکان بے بھی حد بڑھ گیا ہے۔

وائرسی امراض اتنے ہے پرانے ہو سکتے ہیں جتنا کہ جاندار خلیے۔ انھوں نے انسانی ترقی کے ساتھ اپنی رفتار برقرار رکھی ہے، اور موقع اور سازگار ماحول میسر نے پر جانداروں کی دوسری انواع سے انسانوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ جوں جوں انسانی آبادی میں اضافہ ہوا، اور انسانوں نے جنگل (دوسرے جانداروں کے قدرتی مسکن) میں تجاوزات قائم کیں، ویسے ہی ان امراض کا خطرہ بھی بڑھتا چلا گیا۔ سارس اور جریانِ خون کے بخار والی بھیانک وبا ایبولا 21 ویں صدی کی گنجان آباد دنیا کے امراض ہیں۔

سارس چین میں شروع ہوا، مگر جن جگہوں پر اس نے سنگین وبائی صورت اختیار کی ان میں سے ایک ہزاروں میل دور کینیڈا کا شہر ٹورانٹو تھا۔ یہاں یہ مرض کوان سوئیچو کے ہمراہ آیا جو ٹورانٹو میں رہتی تھیں۔ وہ ہانگ کانگ گئی تھیں اورمیٹرو پول ہوٹل میں قیام کیا تھا۔ وہ بیمار پڑیں اور گھر پر ہی انتقال ہوا۔ مگر اس سے پہلے وہ اپنے بیٹے کو بیمار کر گئیں، جس سے یہ مرض دوسروں کو لگا۔ بعد میں بیٹا بھی اسی بیماری میں ہلاک ہوگیا۔

سارس انتہائی متعدی مرض تھا اس لیے اس میں مبتلا ہونے والوں کی ٹریکنگ یا نگرانی انتہائی اہم تھی۔ ہسپتال کے عملے کو بار کوڈ والے نئے شناختی کارڈ دیے گئے تاکہ ایک زون سے دوسرے زون جاتے وقت ان کی حرکات و سکنات پر نظر رکھی جا سکے۔

عالمی وباؤں کی روک تھام میں طبی حکام کے پاس تین بڑے ہتھیاروں میں سے ایک ٹریکنگ ہے جبکہ دوسرے دو آئسولیش یعنی تنہائی اور علاج معالجہ ہیں۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ سنگاپور اور جنوبی کوریا میں کوروناوائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں متاثرہ افراد کی ٹریکنگ بہت کامیاب رہی ہے۔ ٹریکنگ کی افادیت کا علم ہمیں سارس کی وبا کے دوران ہوا تھا۔

آئسولیشن یا تنہائی کے لیے قرنطینہ کی طبی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ یہ اصطلاح اٹلی کے قدیم شہر وینس میں مستعمل لفظ 'قوارینطینہ' سے بنائی گئی ہے اور اس کی نسبت انجیل میں بیان کردہ اس واقع سے ہے جس میں حضرت عیسٰی نے ایک بیاباں میں تنہا چالیس دن گزارے تھے۔ وائرس اور بیکٹیریا سے امراض پھیلنے کی سائنسی توثیق سے بہت پہلے وباؤں کے خلاف قرنطینہ کو ایک انتہائی کارگر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

کینیڈا میں طبی تاریخ اور علمِ خون کی ماہر جیکیلِن ڈفِن کہتی ہیں کہ اٹلی کے شہر میلان میں طاعون کے زمانے میں شہر کے دروازے بند کر دیے جاتے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ 'اگر کسی گھر میں طاعون پھیل جاتا تو اس وقت تک کسی کو نکلنے کی اجازت نہ ہوتی جب تک مکین تندرست نہ ہو جاتے یا مر نہ جاتے۔ یہ ہی سبب تھا کہ میلان میں ملک کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں کم لوگ ہلاک ہوئے۔'

ڈاکٹر ڈفِن اس وقت ٹورانٹو میں تھیں جب وہاں سارس کی وبا پھیلی: 'مجھے میئر کا فون آیا کیونکہ وہ اس بات پر افسردہ تھے کہ ٹورانٹو کو سفری انتباہ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا تھا تاکہ لوگ وہاں نہ جائیں۔

'میں اپنے دفتر میں بیٹھی اپنا کام دیکھ رہی تھی جب کینیڈا کے میڈیکل آفیسر برائے صحت ایئن گیمِل نے مجھ سے پوچھا کہ کیا قرنطینہ کبھی کارگر رہا ہے۔ میں نے کہا کہ ہاں۔ انھوں نے پھر پوچھا کہ اس نے کتنے لوگوں کی جان بچائی ہے۔ میں نے کہا کہ بیمار نہ پڑنے والوں کی گنتی نہیں کی جاتی۔'

سارس کا ایک پہلو ایسا تھا جس نے انسانوں کو اس سے لڑنے میں مدد دی۔ یہ انسانی جسم کے مدافعتی نظام کے لیے بالکل ہی اجنبی تھا۔ اس لیے جب یہ حملہ آور ہوا تو مدافعتی نظام پوری شدت سے حرکت میں آگیا کیونکہ اس وائرس کے خلاف اس کے اندر اینٹی باڈیز نہیں تھیں۔ جو لوگ اس کی زد میں آئے بہت تیزی سے بیمار پڑ گئے۔

یہ عمل سائٹوکائن سٹارم کہلاتا ہے۔ اس طرح اس وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد محدود ہوگئی۔ کیونکہ جو اس کی زد میں آیا وہ ایک دم سے بیمار ہو کر بستر پر لیٹ گیا اور عام لوگوں سے اس کا رابطہ کٹ گیا۔ اس کے بعد یا تو وہ تندرست ہوگیا یا ہلاک۔ اس طرح دوسروں کو متاثر کرنے کا امکان کم رہا۔

یہ عجیب بات ہے کہ کووِڈ 19 کے متاثرہ افراد کتنے دن انتہائی نگہداشت کے شعبے میں رکھے جاتے ہیں۔ کوروناوائرس کا انکوبیشن پیریڈ (جراثیم لگنے کے بعد علامات ظاہر ہونے تک کا عرصہ) کئی روز سے دو ہفتے تک ہوتا ہے۔ اور شدید بیمار مریضوں کے ٹھیک ہونے یا گزر جانے میں بھی کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ سنہ 2009 میں آنے والی سوائن فلو کی عالمی وبا سے ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور دنیا بھر میں تقریباً 1.4 ارب لوگ متاثر ہوئے تھے۔ سپینِش فلو کے مقابلے میں یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔

سنہ 2016 میں عالمی ادارۂ صحت نے جنوبی اور وسطٰی امریکا، ایشیا اور استوائی بحرالکاہل کے خطے میں میں پھیلنے والے زیکا بخار کو ایمرجنسی قرار دیا۔ اس میں بالغ افراد کو ہلکا سا بخار ہو جاتا تھا، لیکن حاملہ خواتین کو لگنے کی صورت میں نامولود بچوں پیدائشی نقائص کا موجب بن سکتا تھا۔

مگر سب سے زیادہ سنگین سنہ 2013/14 میں مغربی افریقہ میں آنے والی ایبولا کی وبا تھی جو ترقی پذیر دنیا کو شدید نقصان پہنچا سکتی تھی۔

ایبولا ایک ہولناک جرثومہ ہے۔ اس سے خونی بخار ہو جاتا ہے، اندرونی طور پر خون کا اخراج ہوتا ہے اور انتہائی شدید حالتوں میں جب اعضاء کام کرنا چھوڑتے چلے جاتے ہیں تو آنکھوں، ناک اور دوسرے سوراخوں سے خون رسنے لگتا ہے۔

انسانوں میں اس کا پہلا واقعہ سنہ 1976 میں زائر (موجودہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو) میں رپورٹ ہوا تھا۔ یہ ملک کے شمال میں واقع ایک گاؤں میں پیش آیا تھا جہاں دریائے ایبولا بہتا ہے۔ اسی نسبت سے اس مرض کا نام ایبولا پڑ گیا۔

ایبولا کہ بارے میں مفروضہ ہے کہ یہ جنگلی گوشت کے کاروبار کی وجہ سے چمگادڑوں سے انسانوں کے اندر منتقل ہوا ہے۔ زائر کی حکومت نے وبا کو محدود رکھنے کے لیے علاقہ پر قرنطینہ لاگو کر دیا تھا جس کی وجہ سے اس پر جلد ہی قابو پا لیا گیا۔ مگر ہلاکت خیزی کی شرح زیادہ رہی۔ 318 مصدقہ واقعات میں 280 افراد ہلاک ہوئے۔ اس طرح اموات کی شرح 88 فیصد رہی۔

اس کے بعد بھی کئی دہائیوں تک براعظم افریقہ کے جنوبی خطے، مثلا کانگو اور یوگینڈا میں یہ مرض محدود پیمانے پر پھیلتا رہا۔ ہر بار سینکڑوں واقعات رپورٹ ہوئے۔ اور سب سے زیادہ شرح اموات 2003 میں 90 فیصد تھی۔

البتہ اس کی سب سے بری وبا 2013 اور 2014 میں دیکھنے میں آئی۔ اس بار اس کا نشانہ مغربی افریقہ تھا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس بار یہ گینی میں ایک برس کے ایک بچے سے شروع ہوا اور لائبیریا اور سیرالیون تک پھیل گیا۔

گوینڈولن ایمر ان دنوں گینی اور سیرالیون میں ریڈ کراس کے لیے کام کرتی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'ہم نے یہ سیکھا کہ مریضوں کے علاج کے لیے ضروری ہے کہ طبی امداد کا سامان بروقت میسر آئے اور لوگوں کو رگ کے ذریعے پانی دیا جائے تاکہ ان کے جسم میں مایع کی کمی نہ ہونے پائے۔'

ایمر کہتی ہیں کہ امدادی سامان اور ویکسین کی تیاری نے ایبولا کے اثرات کم کر دیے ہیں، مگر یہ جادوئی چھڑی نہیں کہ گھمائی اور کام ہوگیا۔

ان کے بقول ایبولا نے عالمی وبا کو روکنے میں مددگار مثلث: نشاندہی، قرنطینہ اور علاج، کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ گنجان آباد مغربی افریقہ میں متاثرہ افراد کے رابطے میں آنے والوں کو ہمہ وقت نظر میں رکھنا سب سے اہم ثابت ہوا۔

کسی بھی وبا کی روک تھام میں مقامی طور پر با اثر افراد کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے کیونکہ لوگ ان پر بھروسہ کرتے اور ان کی بات مانتے ہیں۔

کنگز کالج لندن سے وابستہ ڈاکٹر الیکزینڈر کمار ایبولا کے دنوں میں سیرالیون میں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ذاتی تحفظ کے آلات یا پی پی ای کا استعمال طبی عملے کو اس مرض سے بچانے کے لیے ناگزیر تھا۔

اگرچہ وہاں کی گرمی اس لباس کے آڑے آتی تھی اور پھر اس کے پہنے سے علاج کے دوران انسانی لمس کا اثر بھی زائل ہو جاتا تھا۔ وہ کہتے ہیں: 'طب کے طالب علم کی حیثیت سے آپ کو سکھایا جاتا ہے کہ مریض سے گفتگو کرتے وقت اس کے جسم کو ہاتھ لگائیں۔ پی پی ای پہن کر آپ ایسا نہیں کر سکتے۔'

کمار کہتے ہیں کہ ایبولا کی وبا زیادہ خطرناک ہو سکتی تھی، مگر اس کے خلاف جو چیز سب سے زیادہ کارگر ثابت ہوئی وہ 'حکومتی عزم، میڈیا کی توجہ، اور تحقیق و اختراع تھی جس کے بل پر اس کا علاج اور ویکسین دریافت ہو سکی۔'

ہر عالمی وبا ایک کلاس روم کی طرح ہے جو ہمیں نئے سبق سکھاتی ہے۔ حالیہ کوروناوائرس کی وبا نے صحت سے متعلق اداروں کو پہلی بار یہ موقع فراہم کیا ہے کہ ایک ساتھ کئی ملکوں میں آئسولیشن کو کیسے لاگو کیا جاتا ہے۔

کمار کہتے ہیں، 'میں نے براعظم اینٹارکٹیکا میں نو ماہ کی آئسولیشن یا تنہائی کاٹی ہے۔ یہ بہترین اور بدترین کام ہے جو آپ کر سکتے ہیں۔'

کوروناوائرس کی وبا پر قابو پا لینے کے بعد جو نیا چیلنج درپیش ہوگا وہ آئسولیشن کے اثرات ہیں، جنھیں عالمی وبا سے ہلاک ہونے والے آخری مریض کے بعد بھی طویل عرصے تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔