فاسٹ فوڈ پر انسان اور روبوٹ کی جنگ

سان فرینسسکو میں ایک نئے فاسٹ فوڈ ریستوران ’کریئٹر‘ میں آپ کو کوئی دھواں، کٹائی، پسینہ یا گالیاں نہیں ملیں گی۔ ان کے بجائے آپ کو ایک دھیمی سی پھڑ پھڑانے کی آواز آئے گی، اور اگر بہت غور سے سنیں تو پیسنے اور تلنے کی بھی۔ یہ اس لیے کیونکہ یہاں کہ باورچی انسان نہیں روبوٹ ہیں۔
ریستوران کریئٹر گاڑی جتنے بڑے دو روبوٹ استعمال کرتا ہے جو ایک گھنٹے میں 120 برگر بناتے ہیں۔ یہ گوشت پیسنے اور برگر کو شکل دینے سے لے کر ٹماٹر کاٹنے، پنیر رگڑنے اور مسٹرڈ لگانے تک پورا کام کرتے ہیں۔ ہر برگر پر مختلف چٹنیاں، پنیر اور لوازمات لگائے جا سکتے ہیں، جبکہ مشین میں کئی قسم کے سینسر گوشت کے سینکنے پر مسلسل نظر رکھتے ہیں۔
روبوٹس ایک ایلگوردم کے ذریعے چلتے ہیں جو کہ مشین کے اندر حرارت کی پیمائش کرنے والے 11 سینسر سے اطلاعات لیتا ہے۔ اس کا مقصد ہے کہ برگر کی ہر ٹکی بالکل ویسی پکی ہو جیسی گاہک نے مانگی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
کریئٹر کے انجینئر ایلکس وارڈاکوسٹاس کہتے ہیں کہ مجموعی طور پر برگر روبوٹ میں 350 سینسر، 50 محرک پرزے اور 20 کمپیوٹر ہیں۔ برگر تیار کرنے سے لے کر، لوازمات کو ناپنے اور بن کو کاٹنے تک اس کا ہر جزو باقاعدگی سے کام کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کریئٹر جیسے ریستوران روبوٹ کا استعمال کر کے گاہکوں کے لیے ایک نئی پیشکش بنا رہے ہیں۔ اس وقت ایسے ریستوران زیادہ نہیں لیکن وقت کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔ اور جہاں روبوٹ سے کھانا پکانے کے خیال سے اکثر لوگوں کو بے ذائقہ اور کثیر پیداوار میں خوراک یاد آتی ہے، یہ مشینیں ہر گاہک کی پسند سے کھانا تیار کرتی ہیں۔
باقاعدگی سے پکانا
کریئٹر پر کھانا منگوانے والے ٹیبلٹ سے آپ پسند کر سکتے ہیں کہ آپ کا برگر کتنا پکنا چاہیے اور اس پر کونسی پنیر، چٹنی اور لوازمات استعمال ہونی چاہیے۔ ان میں سے چند اشیا، جلے ہوئے پیاز کا مربہ، دو قسم کی نمک، اور بحر اوقیانوس سے خاص چٹنی جس میں اوموبوشی آلوبخارا اور میکسکن مولی سوس ہیں۔
اس مینیو میں ایسے خاص برگر تو بالکل موجود ہیں لیکن ان کی قیمت پھر بھی بازار کے دام پر لگائی گئی ہے، جو کہ تقریباً چھ ڈالر۔ ایسا مزدوری کے خرچے کم کرنے کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہCreator
وارڈاکوسٹاس کا کہنا ہے کہ ’روبوٹ سے ہم ایسے کام مزید بہتر انداز سے کر سکتے ہیں جو ہم ہاتھ سے کرتے آ رہے ہیں۔ روبوٹس کی کھانا پکانے کی صلاحیت میں بہتری ایک باورچی سے زیادہ ہو سکتی ہے، جیسے کے گوشت کو سینکنے میں۔‘
اور لگتا ایسا ہے کہ ان کے انداز کو پسند کیا گیا ہے۔ تنقید نگاروں نے اس کے تازہ اور لذیذ ذائقے اور متواتر معیار کو پسند کیا ہے۔ تاہم کچھ نے اس میں رسیلے پن کی کمی پر شکایت کی ہے۔
دوسرا فائدہ ہے تیزی۔ فاسٹ فوڈ اب اور بھی فاسٹ ہو گیا ہے۔
بن کو بیچ میں سے کاٹ کے ایک کنویئر بیلٹ پر رکھ دیا جاتا ہے جہاں اس پر مختلف چٹنیاں لگائیں جاتی ہیں اور پھر تازہ ٹماٹر، پیاز اور سلاد کاٹ کر لگایا جاتا ہے۔ بیلٹ کی دوسری طرف گوشت کو پیس کر، بھون کر تیار کیا جاتا ہے اور انڈکشن پلیٹ کے ذریعے ایک وقت پر دونوں طرف سے پکایا جاتا ہے۔
ویسے تو اس پورے عمل میں پانچ منٹ لگتے ہیں، لیکن کیونکہ یہ روبوٹ ایک وقت پر ایک سے زیادہ برگر بنا سکتا ہے، پوری رفتار پر چلتے ہوئے یہ ہر 30 سیکنڈ بعد ایک تازہ پلیٹ تیار کر سکتا ہے۔
مسلسل کارکردگی
امریکہ کی دوسری طرف بوسٹن میں بھی ایک نیا ریستوران اپنی تمام خوراک روبوٹس کے ذریعے تیار کر رہا ہے۔ رستوران ’سپائیس‘ کی خاصیت اناج ہے اور یہ ایسے کھانے تیار کرتے ہیں جو کہ تیزی سے ’وؤک‘ توے پر پکا کر چاول یا کسکس کے اوپر پیش کیے جاتے ہیں۔ کھانے کا آرڈر ایک سکرین کے ذریعے ہوتا ہے اور بالکل ’کریئٹر‘ کی طرح روبوٹ بھی اس دکھاوے کا حصہ ہوتے ہیں۔ کنویئر بیلٹ پر قطار میں ہر پیالے میں اجزاء ڈالے جاتے ہیں اور نیچے سے وؤک کے ذریعے ان کو پکایا جا رہا ہوتا ہے، جس کے بعد ایک انسانی باورچی اس پر دیگر لوازمات ڈال دیتا ہے۔
یہ پورا عمل بھی تین منٹ کا ہوتا ہے۔ اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ معیاری کھانا سستے داموں پر گاہکوں کو دیا جائے اور اس پورے کام کو مشین کی رفتار سے تیز بنایا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری جانب کچھ روبوٹ روایتی کھانوں میں لوگوں کی دلچسپی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چینی کاروباری لی زمنگ کو اپنے ہونان صوبے میں بھی روایتی ہونانی کھانا بنانے والے بہت کم ریستوران ملے۔ سٹر فرائڈ کیومن بیف جیسے پکوان تیار کرنے کے لیے تازہ اجزاء بھی درکار ہوتے ہیں اور اس پیچیدہ عمل کو درستگی سے سرانجام دینے کے لیے اچھے باورچی بھی مشکل سے ملتے ہیں۔ لی نے ایسے روبوٹ تعمیر کرنے میں کئی سال لگائے جو کہ اس کھانے کو ترکیب کے عین مطابق لگاتار ویسے ہی بنا سکیں۔
روبوٹ چھلانگیں مار کر وؤک میں ناپے تولے اجزا ایک خاص ترتیب میں ڈالتے ہیں جو کہ گیس کی آنچ پر مخصوص وقت کے لیے پکائے جاتے ہیں۔
لی کہتے ہیں ان کے آٹھ ملازموں کی جگہ اب ان کے باورچی خانے میں تین روبوٹ اور دو انسانی ’ہیلپر‘ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ ہونانی کھانا اسی معیار پر دنیا میں کہیں بھی پہنچا سکتے ہیں۔
تیز اور تازہ
روبوٹ ریستوران ابھی بھی جدید ہیں اور مشین کو آپ کا کھانا بناتے ہوئے دیکھنے میں ایک خاص مزہ ہے۔ لیکن کیلیفورنیا کے زوم پیزا اس جدت کے دکھاؤ سے زیادہ اس سے نتیجے لینے پر غور کر رہے ہیں۔ زوم اپنے پیزا گاہک کے پاس جاتے ہوئے گاڑی کے اندر ہی تیار کرتے ہیں تاکہ سب سے تازہ اور سب سے تیز پتزا پہنچایا جا سکے۔ اس کمپنی نے روبوٹ کے ساتھ ان کے روبوٹک ساتھی بھی کام پر لگائے ہیں تاکہ پیزا بنانے کے عمل مکمل طور پر خود کار بنایا جا سکے۔
زوم اپنے روبوٹ کو ’ڈوبوٹ‘ کہتے ہیں اور یہ پیزا کے لیے آٹا 45 سیکنڈ کے باوجود محض نو سیکنڈ میں تیار کر لیتے ہیں۔ ’پیپے‘ اور ’جورجیو‘ نامی روبوٹ اس پر چٹنی لگاتے ہیں، ’مارٹا‘ اس چٹنی کو پھیلاتی ہے، اور بازو والے روبوٹ ’برونو‘ اور ’ونسینزو‘ پیزا کو تندور کے اندر اور باہر کرتے ہیں۔ اس میں لگے ہوئے سینسر حرارت کو برقرار رکھتے ہیں تاکہ پیزا بالکل صحیح طرح تیار ہو۔ اس میں لگی ہوئی مشین اعداد و شمار کا جائزہ لے کر اندازہ لگاتی ہے کہ ڈلیوری کرنے کے لیے ہر رات کتنا سامان چاہیے ہو گا، جبکہ ایک اور مشین پیزا تیار کرنے اور مقام پر پہنچنے کے وقت کا موازنہ لگاتی ہے۔
اپریل میں زوم نے اپنی ٹیکنالوجی کو لائسنس کرنے کا اعلان کیا۔ اگر ان کا کاروباری ماڈل چل گیا تو روبوٹ کے ہاتھوں بنے ہوئے پیزا شاید بہت عام ہو جائیں گے۔ ان کے مخالف ’لٹل سیزر‘ امریکہ کے سب سے بڑے پیتزا چین میں سے ہے اور اس دوران میں انھوں نے اپنے پیزا روبوٹ بھی تیار کر لیا ہے۔
لیکن فاسٹ فوڈ میں اتنی خود کاری کے باعث اس صنعت میں کام کرنے والے انسانوں کا کیا ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہZume Pizza
’ورلڈ پے‘ ایک رقم کی ادائگی کی کمپنی ہے جس کے فاسٹ فوڈ سیکٹر کے ماہر سٹیو نیوٹن ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’اس طرح کے کام کو ٹیکنالوجی کے سپرد کر دینے سے عملے کو بہتر کسٹمر سروس پر توجہ دینے کا موقع ملتا ہے۔‘
حال میں ورلڈ پے کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ برطانیہ کے صرف پانچ فیصد گاہک فاسٹ فوڈ سروس کی تیزی سے متمعن تھے جبکہ 58 فیصد ’خود کی خدمت آپ‘ والے کھوکھے پسند کرتے اگر اس سے سروس کی رفتار بڑھ جاتی۔
اس کا مطلب یہ ضروری نہیں کہ عملے میں کمی آئے، لیکن ان کو اس طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے وہ گاہک کی مدد کے لیے ہر وقت حاضر رہیں۔
نیوٹن کہتے ہیں ’کوئی کامیاب کاروبار اپنے عملے کو نوکری سے نہیں نکالے گا اگر اس سے گاہک کو نقصان پہنچے۔‘
کچھ ریستورانوں نے آرڈر لینے کا عمل مکمل طور پر سکرین سے کرنا شروع کر دیا ہے جس سے کام تیزی سے ہو سکتا ہے اور کم ملازموں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اور یہی فوائد روبوٹ والے باورچی خانوں سے بھی ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کے فاسٹ فوڈ ریستورانوں میں تقریباً 38 لاکھ لوگ کام کرتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر اس طرح کے غیر ماہرانہ کام کرتے ہیں جن کو آسانی سے خود کار بنایا جا سکتا ہے۔
انسانوں کا کیا ہو گا؟
رچرڈ سکلٹ ٹیکنالوجی میں کاروبار کرتے ہیں اور ’ڈجیٹل اینتھروپولوجی‘ کے بانی ہیں۔ یہ کمپنی جدوجہد کر رہی ہے کہ ٹیکنالوجی لوگوں کے لیے کام کرے بجائے کہ ان کی جگہ لے۔ سکلٹ کو ان دعوؤں سے اختلاف ہے جن کے مطابق ریستورانوں میں روبوٹس کی وجہ سے جتنی نوکریاں جا رہی ہیں اتنی ہی بن بھی رہی ہیں۔
وہ پوچھتے ہیں ’یہ کون سی نوکریاں ہیں جو یہ بنا رہے ہیں؟ اور کیا یہ اتنی ہی ہوں گی جتنی خود کاری کی وجہ سے جا رہی ہیں؟‘
’ٹیکنالوجی کو لوگوں کی زندگی میں اضافہ کرنا چاہیے نہ کہ ان کا متابدل بننا۔ مصنوعی ذہانت اور روبوٹس کی وجہ سے لوگوں کو فارغ وقت ملنا چاہیے تاکہ وہ ایک کاروبار کی کارکردگی بہتر کر سکیں۔‘

،تصویر کا ذریعہCreator
زوم جیسے کاروباروں کے مطابق وہ یہی کر رہے ہیں۔
ان کے ایک ترجمان کے مطابق ’ہمارا مقصد یہ ہے کہ تکرار، خطرے اور بیزاری والے کام کو خود کار بنا دیا جائے تاکہ ہمارے ملازم ایسے کام پر توجہ دے سکیں جو صرف انسان کر سکتے ہیں۔‘
ان کے مطابق، انسان ہمیشہ اس کاروبار کا اہم حصہ رہیں گے۔ ’کوئی روبوٹ آپ کو یہ نہیں بتا سکتا کہ پیتزا کا ذائقہ اچھا ہے کہ نہیں۔‘
زوم کو اپنے کھانے کے لیے کئی اچھی باتیں بھی سننے کو ملی ہیں۔
نیوٹن کہتے ہیں کہ گاہکوں کو چاہیے تیزی، آسانی اور ذاتی سروس۔ اس کی وجہ سے گاہک اپنے فون پر ٹیبل بُک کرنا، سکرین کے ذریعے آرڈر کرنا اور آن لائن پیسے دینے کو پسند کر رہے ہیں، اور یہ عین ممکن ہے کہ یہ خود کار باورچی خانوں کو بھی پسند کریں۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہو گا کہ ریستوران میں شاید مزید عملہ چاہیے ہو جو کہ سروس کو برقرار رکھ سکے، خاص طور پر ایسے گاہکوں کے لیے جو مشین سے زیادہ لوگوں سے سروس لینا پسند کرتے ہیں۔
وارڈاکوسٹاس بھی یہ کہتے ہیں کہ عملے کو باورچی خانے سے فارغ کرنے کی وجہ سے وہ کسٹمر سروس پر توجہ دے سکتے ہیں۔ ’ہمارا مقصد سب سے خود کار ریستوران بننا نہیں ہے بلکہ ایسا ریستوران جو کہ انسانوں کو سب سے زیادہ توجہ دے۔‘
لیکن روبوٹ باورچی صرف ایسے جدید فاسٹ فوڈ ریستورانوں کے لیے نہیں۔ برطانوی کمپنی ’مولی روبوٹکس‘ چاہتے ہیں کہ ان کو گھروں کے باورچی خانوں میں بھی لے آئیں۔ مولی کے ڈزائن میں دو میکانکی بازو ہیں جن کے انسانوں جیسے ہاتھ ہیں، جو کہ ایسے انسانی روبوٹ بنانے میں ماہر کمپنی ’شیڈو روبوٹ کمپنی‘ نے ان کے لیے بنائے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMoley Robotics
حرکت کو ریکارڈ کرنے والا پیچیدہ آلہ استعمال کر کے انسانی باورچی کو کام کرتے ہوئے دیکھ کر یہ ایک مشین سے ان کی نقل کروا سکتے ہیں۔ یہ روبوٹ انڈے پھینٹنے سے لے کر پیاز کاٹنے اور گوشت تلنے تک سارے کام آسانی سے کر سکتے ہیں۔ مولی کے مطابق ان کی لائبریری میں سینکڑوں ایسے پکوان ہیں جو لوگ ڈاؤن لوڈ کر کے استعمال کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ان کی ڈیوائس خریدنی پڑتی ہے جو تقریباً 10،000 پاؤنڈ کی ہے۔
اور جہاں یہ روبوٹس آج انسانی ترکیبات سیکھ رہے ہیں، شاید جلد مصنوعی ذہانت سے ریستوران کے مینیو بھی متاثر ہوں۔ امریکہ کی ایم آئی ٹی یونیورسٹی میں محققین نے اپنی بنائی ہوئی مشین کو ایک پیزا کے ڈیٹابیس پر چھوڑ دیا تاکہ یہ اس کو پکانے کی نئی ترکیبات بنا سکے۔ اس سے ملنے والے نتائج کو ایک باورچی نے اصلی پیزا کی شکل دے دی۔ اور اس کے جھینگے، مربے اور اطالوی ساسيج کا میل جنھوں نے کھایا انھوں نے کافی پسند کیا۔
ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ آج کے ناقابلِ پیشگوئی ماحول میں یہ ابتدائی روبوٹ باورچیوں سے گزارہ کر پائیں گے یا نہیں، لیکن اگر کر سکیں تو یہ ہمارے اور کھانے کے بیچ رشتہ ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔
جس طرح کچھ اور سرگرمیاں جو کبھی زندگی کا ضروری حصہ تھیں جیسا کہ لکڑی یا سوئی کا کام، شاید کھانا پکانا بھی ایسی چیز بن جائے جو لوگ صرف اپنی خوشی کے لیے کریں۔









