سیکس ایجوکیشن: جنسی تعلق کے بغیر نبھائی جانے والی شادیاں، مگر اس کا حل کیا ہے؟

    • مصنف, جسیکا کلین
    • عہدہ, بی بی سی ورک لائف

’شادی کے ابتدائی برسوں میں ہماری سیکس لائف بہت اچھی تھی۔۔۔ اور جب اُن کی عمر بڑھی (اب وہ 30 سال کے ہیں) تو ایسا لگنے لگا کہ اب وہ سیکس میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔‘

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ریڈ اِٹ‘ پر ’ڈیڈ بیڈرومز‘ نامی ایک کمیونٹی میں اس سے ملتے جلتے کئی تبصرے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس گروپ کی تفصیلات کے مطابق یہاں صارفین رومانوی رشتے یا شادی شدہ زندگی میں جنسی تعلقات کے فقدان جیسے مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں۔

اس گروپ میں ایسے پریشان کُن تبصرے موجود ہیں جو اُن لوگوں کی جانب سے بھیجے گئے ہیں جن کے تعلقات میں یا تو بالکل بھی کوئی سیکس نہیں یا پھر یہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایک صارف نے یہاں سوال پوچھا ہے کہ ’وہ میرے ساتھ سیکس کے بجائے اپنا ہاتھ کیوں استعمال کرتا ہے؟‘ ایک دوسرے صارف نے کہا کہ ’ہمیشہ دوسروں کے مشوروں کی تعریف کی جانی چاہیے مگر اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ ہم پہلے بھی یہ سب سُن چکے ہیں۔‘

معمر جوڑوں کے حوالے سے ایسی کہانیاں سُننا کوئی نئی بات نہیں جو ڈھلتی عمر میں اپنے تعلق کو جواں رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ تاہم اب ایسے جوڑے بھی یہ باتیں لکھ رہے ہیں جن کی عمریں محض 20 سے 40 سال کے درمیان ہیں۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ بچوں کی وجہ سے ان کی سیکس لائف متاثر ہوئی ہے تو کچھ خواتین سمجھتی ہیں کہ ان کے شوہر ہر وقت پورن تو دیکھ سکتے ہیں مگر اپنے پارٹنر میں کشش محسوس نہیں کر پاتے۔

ڈیڈ بیڈرومز نامی اس کمیونٹی میں نوجوانوں کی جانب سے ایسی شکایات عام ہیں جن میں رومانوی زندگی سے لے کر سیکس لائف جیسے موضوعات زیرِ بحث آتے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ نوجوانی میں انسان اپنے جنسی تعلقات کے اعتبار سے عروج پر ہوتا ہے تاہم دنیا بھر سے ایسی اطلاعات موصول ہونا حیرانی کا باعث ہیں کہ جوان عمر میں بھی لوگ ’سیکس سے کنارہ کشی‘ اختیار کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی کہانیاں خاص طور پر شادی شدہ جوڑوں سے متعلق ہیں۔

اور اس بات کا کچھ حد تک ثبوت اعداد و شمار سے بھی ملتا ہے۔ انڈیانا یونیورسٹی اور لوو ہنی نامی کمپنی کی جانب سے مشترکہ طور پر امریکہ میں 2021 کے دوران 18 سے 45 برس کے افراد کا سروے کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ گذشتہ سال کے دوران شادی شدہ بالغ افراد اور نوجوانوں میں ممکنہ طور پر جنسی نوعیت کے مسائل رپورٹ کیے گئے۔

سروے میں 25.8 فیصد شادی شدہ نوجوانوں نے اس حوالے سے شکایت کی۔ جنریشن زی (1990 کی دہائی کے وسط سے 2010 کی دہائی کے اوائل میں پیدا ہونے والے افراد) کے شادی شدہ جوڑوں میں 10.5 نے یہ شکایت کی جبکہ 21.2 فیصد درمیانی عمر کے افراد نے اس مسئلے کا ذکر کیا۔

کنزی انسٹیٹیوٹ کے محقق جسٹن لیملر نے کہا ہے کہ ضروری نہیں کہ شادی شدہ زندگی میں سیکس کا نہ ہونے کا باعث خواہش کی کمی ہو۔ ’اگر شادی میں ایک یا دونوں شریک حیات میں سیکس کی خواہش کم ہو جائے تو سیکس کم ہو جاتا ہے۔ خواہش کا فقدان سب سے بڑی وجہ ہے کہ شادی شدہ زندگیاں جنسی تعلقات کے بغیر گزاری جانے لگتی ہیں۔‘

تو آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ سیکس تھراپسٹ اور محقق اس کی کئی وجوہات پیش کرتے ہیں جو زندگی کے مختلف مراحل (یعنی عمر کا تقاضہ) ہو سکتے ہیں یا انٹرنیٹ بھی اس کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ مگر اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں ایک بات طے ہے کہ موجودہ نوجوان نسل صحت مندانہ جنسی زندگی کے حوالے سے کئی مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔

سیکس کے بغیر شادی کیسی ہوتی ہے؟

سیکس لیس میرج (یعنی وہ شادی جس میں میاں، بیوی کے درمیان سیکس نہ ہو) کی کئی تعریفیں کی گئی ہیں۔ سب سے سادہ تعریف کے مطابق ایسے جوڑے تو طویل مدت تک جنسی تعلق قائم نہ کریں۔ ایک دوسری تعریف کے مطابق اس سے مراد ایسی شادی ہے جس میں میاں، بیوی سال میں 10 سے کم مرتبہ جنسی تعلق قائم کریں۔

بی بی سی ورک لائف سے بات کرتے ہوئے بعض ماہرین کی مختلف آرا تھیں۔ نیویارک میں مقیم سیکس تھراپسٹ سٹیفن سنائڈر کا کہنا ہے کہ ’ہم سیکس لیس سے مراد ایسے جوڑوں کی لیتے ہیں جو سال میں چار مرتبہ یا اس سے بھی کم سیکس کرتے ہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’ایک جوڑا کہے کہ ہم تین، چار ماہ میں صرف ایک بار سیکس کرتے ہیں اور یہ بہترین ہوتا ہے۔‘

ماہر نفسیات اور سیکس تھراپسٹ کمبرلی اینڈرسن کے مطابق سیکس لیس میرج سے مراد سال میں 25 سے کم مرتبہ سیکس ہے۔ کچھ ماہرین سمجھتے ہیں کہ اس کی تعریف ہر شخص کے لیے الگ ہو سکتی ہے: اگر ایک جوڑا سیکس کی کثرت سے ناخوش ہے تو ایسا مسئلہ موجود ہے جسے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سیکس لیس یا کم سیکس والی شادیوں کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کیلیفورنیا میں مقیم سیکس تھراپسٹ کرسٹین لوزانو نے کہا کہ اگر جوڑے آپسی رابطے میں درپیش مسئلے پر بات نہ کریں تو خواہش کی کمی اور عدم توازن وقت سے ساتھ ساتھ مزید بڑھ سکتے ہیں۔

زیادہ سیکس کی خواہش والے پارٹنر کی خوداعتمادی بار بار سیکس سے انکار سننے کی صورت میں مجروح ہو سکتی ہے جبکہ سیکس سے انکار کرنے والے پارٹنر میں پچھتاوا بڑھتا رہتا ہے اور مجموعی طور پر ایسے جوڑے کے جنسی تعلقات وقت کے ساتھ خراب ہوتے چلے جاتے ہیں۔

مگر یہ بھی عین ممکن ہے کہ رومانوی زندگی کو طبی، ذہنی اور صحت کی مشکلات متاثر کریں۔ ایسی حالت میں رہنے والے مریضوں کے لیے سیکس ناممکنہ درد کا باعث، مشکل یا ایسی چیز بن جاتا ہے جس کی کبھی خواہش نہ کی جا سکے۔ مصروف زندگی، جس میں کام یا بچوں کا عمل دخل رہے، سے سیکس کی کثرت کم ہو سکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شریک حیات سے رابطوں کی کمی ازدواجی تعلق کو الجھا دے۔

شادی شدہ زندگیوں میں سیکس نہ ہونے کی یہ وجوہات کسی نسل سے تعلق نہیں رکھتیں۔ تاہم ماہرین سمجھتے ہیں کہ جنسی تعلقات کی کمی اور اس کے دورانیے جیسی چیزوں میں فرق پیدا ہوا ہے۔

سان فرانسسکو کی سیکس تھراپسٹ سیلسٹ ہرشمین، جو 20 سال سے اپنے کلائنٹس سے ملاقاتیں کر رہی ہیں، نے کہا ہے کہ ’وہ دورانیہ بہت کم ہو گیا ہے جس میں جوڑے بغیر سیکس کے زندگیاں گزارتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ماضی میں جوڑے شادی کے 10 سے 15 سال بعد آپس میں سیکس کرنا چھوڑ دیتے تھے۔ ’اب انھیں شادی سے تین سے پانچ سال بعد ایسی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے۔‘

اینڈرسن، جنھوں نے 30 سال تک بطور سیکس تھراپسٹ کام کیا ہے، نے کہا کہ اب بغیر سیکس کی شادی شدہ زندگیوں کے حوالے صورتحال بدل گئی ہے۔ ’30 سال قبل ہم اکثر ان جوڑوں کی سیکس لیس میرج کا علاج کرتے تھے جن کی عمریں 50 سال سے زیادہ ہوتی تھیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اکثر جوڑوں میں یہ شکایت ہارمونل تبدیلی یا عمر کے ساتھ بیماریوں کی وجہ سے ہوتی تھی۔

تاہم آج یہ شکایت لانے والے اکثر جوڑے 45 سال یا اس سے کم عمر کے ہیں۔ ’معمر جوڑوں کے مقابلے آج معاملات بہت مختلف ہیں۔‘

ذہنی دباؤ کتنا اثر انداز ہوتا ہے

بہت زیادہ ذہنی دباؤ سے کسی کی بھی سیکس لائف متاثر ہو سکتی ہے اور نوجوانوں میں عموماً یہ چیز دیکھی گئی ہے۔ لیملر نے کہا کہ ’جنسی تعلقات کی خواہش کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والی چیزوں میں سے ایک ذہنی دباؤ ہے۔ بڑی عمر کے افراد کے مقابلے میں نوجوان اس کا بہت زیادہ دباؤ لیتے ہیں۔‘

اس کی ایک وجہ زندگی کے مختلف مراحل ہو سکتے ہیں۔ نوجوان نئے نئے والدین بن رہے ہیں یا ان کی کم عمر کی اولاد ہے۔ یہ لوگوں کی زندگیوں میں ایک مصروف وقت ہوتا ہے۔

برطانیہ میں کونسلنگ نیٹ ورک ’ریلیٹ‘ کی سنہ 2018 کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ 30 سے 50 سال کی عمر کے 61 فیصد افراد کم سیکس کرتے ہیں کیونکہ ان کے چھوٹے بچے ایسا ہونے سے روکتے ہیں۔ جبکہ 31 فیصد افراد میں بچوں کے بعد سے جنسی تعلقات کی حواہش میں کمی آتی ہے۔

یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ نوجوانوں کو زندگی میں مختلف کامیابیوں کی تلاش ہوتی ہے، جیسے بڑھتی قیمتوں میں گھر خریدنا، تعلیمی قرضہ واپس کرنا اور مالی اعتبار سے خود کو مستحکم کرنا۔

دفاتر کے حالیہ ماحول میں ذہنی دباؤ بڑھتا ہے۔ مئی 2022 میں عالمی کنسلٹنسی فرم ڈیلوئٹ نے پانچ ممالک سے ڈیٹا جمع کیا۔ اس کے مطابق 38 فیصد نوجوان بڑے پیمانے پر ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ خواتین میں ذہنی تناؤ کا تناسب 41 فیصد جبکہ مردوں میں 36 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

تاہم نوجوانوں کے لیے کبھی بھی دفاتر کا ماحول مستحکم یا کم دباؤ والا نہیں رہا۔ لیملر نے کہا کہ ’مثلاً کئی لوگوں نے اپنا کیریئر کورونا کی وبا کے دوران شروع کیا۔‘ انھوں نے کہا کہ کووڈ 19 کی عالمی وبا نے بھی تناؤ میں اضافہ کیا ہے۔

سنائڈر کا کہنا ہے کہ ’ٹیکنالوجی میں تبدیلیوں کے دور میں لوگ بہت کڑی محنت کرتے نظر آتے ہیں۔ نوجوان اکثر کام میں مصروف پائے جاتے ہیں۔ اس سے وہ تھک سکتے ہیں اور اس لمبے دن کے بعد جوڑے سیکس کے لیے تھکے ہوتے ہیں۔‘

ماہرین کی رائے ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہے اور مالی استحکام کے گرد پریشانی پائی جائے تو یہ مسئلہ بڑھ سکتا ہے۔ لیملر نے کہا کہ ’مالی تشویش میں اضافہ اور ذہنی دباؤ سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور جنسی خواہش کم ہو سکتی ہے۔‘

سوشل میڈیا، پورنوگرافی اور گِرتی سیکس لائف

اس معاملے میں انٹرنیٹ کے اثرات کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے۔ سنائڈر کے مطابق سوشل میڈیا سیکس اور رومانوی تعلقات سے ’توجہ ہٹانے‘ کا کام کرتا ہے۔ مگر ہرشمین کا کہنا ہے کہ سیکس لیس میرج میں اس کا بڑا عمل دخل ہو سکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے نوجوان اپنی شخصیت کے حوالے سے بہت ’فکرمند‘ رہتے ہیں۔ یہ پہلی نسل ہے جس کی زندگی میں سوشل میڈیا کا کثرت سے استعمال ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لوگ خود کو مثالی انداز میں رکھنا چاہتے ہیں۔ یہاں ایسے فلٹر اور ٹچ اپس ہوتے ہیں جو اصل زندگی میں دستیاب نہیں۔

خود پر اس قدر توجہ سے لوگ اپنے جسم کے بارے میں عدم اعتماد کا شکار ہوتے ہیں۔ سنہ 2018 کے ڈیٹا کے مطابق 30 سال سے کم عمر کے 37 فیصد افراد جن کے رومانوی تعلقات میں سیکس کم تھا وہ اپنے جسم کے حوالے سے اعتماد کھو چکے ہیں۔ دوسری طرف 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے صرف 14 فیصد افراد نے ایسا ردعمل دیا۔

سوشل میڈیا کے علاوہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پورن نے بھی نوجوانوں کو کافی متاثر کیا ہے۔ ان میں سے کئی لوگوں کے بالغ ہونے کے دوران پورن آسانی سے آن لائن دستیاب ہونے لگا تھا۔ گذشتہ نسلوں کے مقابلے یہ بڑی تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔

سنائڈر نے کہا کہ ’آج کل بہت زیادہ پورن دیکھی جاتی ہے یعنی انھیں جنسی تجربہ حاصل کرنے کے لیے کسی دوسرے شخص کے پاس جانا نہیں پڑتا بلکہ یہ انھیں کسی ویڈیو سے میسر ہو جاتا ہے۔‘

اینڈرسن نے کہا کہ 45 برس سے کم عمر کے کئی مردوں کی شادی شدہ زندگیوں میں سیکس کا فقدان ہے اور وہ ’پورن کے باعث ایریکٹائل ڈسفنگشن (ایستادگی کی قوت سے محروم) کا شکار ہیں۔‘

یہ ایسی حالت ہے جس میں پورنوگرافی کے بغیر اور اصل زندگی میں کسی پارٹنر کے ساتھ ایستادگی کی حالت ناممکن یا بہت مشکل ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں وہ کسی پارٹنر کے بجائے اکیلے جنسی عمل کا انتخاب کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے

ان کے مطابق بہت سے مرد ایسی حالت میں اپنی تسکین پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں یا پھر وہ ایسی تصاویر اور ویڈیوز سے متاثر ہو چکے ہوتے ہیں جو اصل شادی شدہ زندگی میں ممکن نہیں۔

اینڈرسن نے کہا کہ ’میرے دفتر میں عموماً یہ تبصرہ کیا جاتا ہے کہ پورن مجھے کبھی مسترد نہیں کرتی یا پورن کبھی میری کارکردگی پر تنقید نہیں کرتی۔‘

کیا ہمیشہ یہ بیڈروم تنہا رہ جائیں گے؟

نوجوان اس بات کو بدل نہیں سکتے کہ وہ ملازمت میں اس وقت آئے جب معاشی بحران جاری ہے اور اس کے باعث وہ ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا یا پورن کے اثرات کو اتنی آسانی سے ختم بھی نہیں کر سکتے۔

یہ واضح ہے کہ سیکس کی کمی کے عنوان پر بہت سے لوگ آپس میں بات بھی نہیں کر سکتے، چاہے بات اس شخص کی ہو جس کے ساتھ وہ بیڈروم شیئر کرتے ہیں۔ اس طرح مسئلے کی سنجیدگی کو سمجھنا اور حل تلاش کرنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

ریڈ اِٹ پر ایک صارف نے لکھا کہ مصروف زندگی اور بے انتہا دباؤ سے یہ بات کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ’مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ اب کیا پوچھنا باقی ہے۔۔۔ مجھے چیزوں کو ٹھیک کرنا ہے، مگر یہ نہیں معلوم کیسے۔‘