آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
برطانیہ کی جیلیں جہاں پیسوں کے بجائے تمباکو اور مچھلی کرنسی ہے
- مصنف, کارل کیٹرمول
- عہدہ, بی بی سی کیپیٹل
جیل کی سلاخوں کے پیچھے قیدیوں کی اپنی ہی ایک عجیب سی دنیا ہے جہاں روز مرہ کی اشیا اور منشیات کی تجارت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ قرض کا ایک استحصالی چکر بھی یہاں موجود ہوتا ہے جس سے نکلنا قیدیوں کے لیے نہایت مشکل ہوتا ہے۔
یہ اقتباسات کارل کیٹرمول کی کتاب ’پریزن: اے سروائیول گائیڈ’ سے ہیں جو کہ ایبوری پریس نے شائع کی ہے۔
جیل میں کمائی
یہ دیکھنا مشکل نہیں کہ ملکہ کی قید (برطانوی جیل سسٹم) میں قید لوگ کیسے کچھ پیسے کماتے ہیں۔ جب جائز طریقے سے پیسے کمانا ناممکن ہوجائے تو لوگ ان غیر قانونی طریقوں کی جانب راغب ہوتے ہیں۔
کچھ دن قبل تک جیل میں تمباکو کی کچھ مقدار بطور کرنسی استعمال ہوتی تھی مگر اس پر پابندی کے بعد اب ان ’کاروباری’ قیدیوں کے، جنھیں بیرن کہا جاتا ہے، دن جا چکے ہیں جو گولڈن ورجینیا سگریٹ کے ڈبوں کے درمیان ایسے بیٹھے ہوتے تھے جیسے یہ سونے کے بسکٹ ہوں۔
اب ان کی جگہ نو دولتیے بیرن لے چکے ہیں جو کہ پیک شدہ مچھلی اور صابن کے تیل کے ٹن کے اتنے اونچے میناروں کے درمیان بیٹھتے ہیں کہ سیل کے کھڑکیاں تک چھپ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ مشہور کامک سیریز ایسٹیرکس اینڈ اوبیلکس کے گاؤں میں رہنے جیسا ہے جس میں ہر کسی کا اپنا اپنا چھوٹا سا کاروبار ہوتا ہے۔
ٹونا مچھلی کے ایک یا دو ٹنز کے بدلے باورچی خانے کا عملہ آپ کو جڑی بوٹیاں اور مصالحے سمگل کر دے گا۔
اگر آپ لانڈری والوں کو انرجی ڈرنک کا کین دیں تو وہ آپ کے کپڑے دھو دیں گے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو ملنے والی بیڈ شیٹ بالکل صاف ستھری ہو، تو آپ اس کے لیے متعلقہ شخص کو نوڈلز کا ایک پیکٹ دے دیں۔
نائی کا ریٹ تھوڑا زیادہ ہے۔ وہ ٹونا مچھلی اور شاور جیل کے بدلے میں حجامت بناتے ہیں اور کیوں کہ تمام قیدی اپنے ملاقاتیوں سے ملنے سے قبل خوبصورت نظر آنا چاہتے ہیں، اس لیے نائی کی کمائی کافی زبردست ہوتی ہے۔
میں مشورہ دوں گا کہ آپ قینچی خرید کر یہ کام خود شروع کر لیں لیکن خبردار رہیے گا کہ اس سے ٹونا مچھلی کے حصول کے لیے تصادم بھی ہوسکتا ہے (یہ کوئی مذاق نہیں ہے)۔
پھر اس کے بعد کچھ مزید مہنگی چیزوں کی باری آتی ہے۔ مقامی آرٹسٹ آپ کے لیے سالگرہ کارڈ، لو لیٹر یا پھر نیک تمناؤں کے کارڈ بنا سکتے ہیں۔
کوئی ہنرمند آپ کو ماچس کی تیلیوں سے درازیں بھی بنا کے دے سکتا ہے۔
جیل میں غیر قانونی شراب بھی مل سکتی ہے جو کہ اپنے معیار کے اعتبار سے 10 پاؤنڈ (تقریباً 2000 پاکستانی روپے) تک کی ہوسکتی ہے۔
منشیات، تمباکو اور سٹیریو سیٹ جیسی مہنگی چیزوں کی قیمت جیل سے باہر ادا کی جاتی ہے۔ 50 گرام تمباکو 500 پاؤنڈ (تقریباً 99 ہزار 500 روپے) تک کا ہوسکتا ہے۔
اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ خریدار کا جیل سے باہر موجود دوست ڈیلر کے جیل سے باہر موجود دوست کو ادائیگی کرتا ہے۔ جب ادائیگی کی تصدیق ہوجائے تب سامان خریدار کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔
درحقیقت کئی لوگ تو جیل صرف اس لیے جاتے ہیں کہ وہ کچھ پیسہ کما سکیں یا اپنا قرضہ ادا کر سکیں۔
وہ جس قدر ممکن ہو سکے منشیات نگل لیتے ہیں اور پھر جان بوجھ کر گرفتار ہوجاتے ہیں تاکہ جیل کے ونگ میں منشیات فروخت کر سکیں۔
یہ طرزِ زندگی آپ کی سوچ سے زیادہ پریشان کن ہے کیوں کہ شدید ضرورت یا مجبور کیے جانے کے بغیر ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔
قرض کا تبادلہ
جیسے جیل کے باہر ادھار دینے والی دکانیں، بکیز، بینکس ہوتے ہیں اسی طرح جیل میں ’بیرن’ ہوتے ہیں جو ڈبل ببل سکیم کے تحت پیسے ادھار دیتے ہیں۔
ڈبل ببل سکیم بالکل اپنے نام کی طرح ہوتی ہے جس میں آپ کچھ بھی ادھار لیں (مثلاً پنیر، تمباکو، دوائی، خوراک اور صابن تیل) تو آپ کو اگلے ہفتے اس کا دوگنا ادا کرنا ہوتا ہے۔
اگر آپ ادا نہ کر سکیں تو آپ قرض کے بھنور میں پھنس جائیں گے جہاں آپ سے کسی بھی صورت میں اسے ادا کرنے لیے کہا جائے گا، پھر وہ جیسے بھی ہو۔
یہ سب سے زیادہ نئے قیدیوں کے ونگ میں دیکھا جاتا ہے کیونکہ یہاں کے رہنے والوں کو سب سے زیادہ مسائل ہوتے ہیں اور یہی قیدی سب سے زیادہ معصوم ہوتے ہیں۔
انھیں پہلی مرتبہ کینٹین تک جانے کے لیے ایک سے دو ہفتے کا انتظار کرنا پڑتا ہے وہ بھی تب جب ان کے پاس پیسے ہوں۔
کئی لوگ ادھار لیتے ہیں اور چکا دیتے ہیں پر اگر آپ نے وقت پر ادائیگی نہ کی تو آپ کے ساتھ بہت برا ہو سکتا ہے۔ آپ کو مارا پیٹا جائے گا، آپ کی انگلیاں سیل کے دروازے میں پھنسا دی جائیں گی اور یہ سب صرف ابتدا ہو گی۔
انتہائی سنگین معاملات میں لوگ کھیرے کھا کھا کر خود کو کمزور کر لیتے ہیں، خود کو خطرے کے شکار قیدیوں کی فہرست میں شامل کروا لیتے ہیں یا پھر جیل تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر بیرن بےوقوف نہیں ہوتے۔ وہ قرض لینے والوں کے خاندان کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہیں اور اگر قرض لینے والا ادائیگی نہ کرے تو ان کے خاندان کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
بینک اور دیگر مالیاتی ادارے تو قرض کی واپسی کے لیے آپ کے گھر باوردی بیلف بھجوا سکتے ہیں مگر جیل کے بیرن یہی کام اپنے غنڈوں کے ذریعے کرواتے ہیں۔
اور سچ پوچھیں تو زیادہ فرق نہیں ہے۔