آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کی وہ جیل جسے قیدی چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے
انڈیا کے شہر جے پور کی سنگانر جیل میں قیدیوں کو رہنے کو جگہ تو ملتی ہے لیکن نہ ہی کھانا اور نہ کوئی رقم۔ اپنی گزر بسر کے لیے انھیں باہر جا کر کام کرنا پڑتا ہے۔ معصومہ آہوجہ کے مطابق وہ جیل سے باہر جا کر بطور مزدور، فیکٹری ملازمین، ڈرائیور حتی کہ یوگا کے استاد کا کام کرتے ہیں اور کمائی کرتے ہیں۔
رام چند سکول بس چلاتے ہیں۔ ان کی بیوی سگنا گارمنٹس فیکٹری میں کام کرتی ہیں۔ حال ہی میں ایک گرم دوپہر کے دوران میں نے ان دونوں کے ساتھ ان کے ایک کمرے کے گھر میں چائے پی۔
وہ مکان جس کی دیواریں پیلی اور چھت ٹین کی تھی، جس میں ایک فریج اور ٹی وی ہے جبکہ ایک کونے میں دیوتاؤں کی تصویروں اور اخباروں کے انبار کے ساتھ ایک لنچ باکس لٹک رہا تھا۔ ان کے دروازے سے آپ ایک نزدیکی ہائی وے پر چلتی گاڑیاں اور شہر کی جدید بلند عمارتوں کو دیکھ سکتے ہیں۔
ان کی کہانی کچھ ایسی ہے۔ رام چند اکیلے تھے جبکہ سگنا کے خاندان نے انھیں چھوڑ دیا تھا۔ ان کے پڑوسی ان کی شادی کرانا چاہتے تھے تاکہ وہ اکیلی نہ رہ جائے اور کوئی ہو جو رام چند کا خیال رکھ سکے، اس کے لیے کھانا اور روٹیاں بنا سکے اور پھر رام چند کو سگنا سے محبت بھی ہو گئی۔
بظاہر ان کے گھر اور کہانی میں کچھ مختلف نہیں، سوائے اس کے کہ وہ دونوں قتل کے ملزم ہیں اور جیل میں رہتے ہیں۔ ان کا گھر انڈیا کی مغربی ریاست راجستھان کے شہر جے پور کی کھلی جیل سنگانر میں واقع ہے۔
اس جیل میں کوئی سلاخیں اور دیواریں نہیں، دروازے پر کوئی سکیورٹی اہلکار نہیں، اور اس بات کی اجازت ہے بلکہ حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ قیدی باہر جائیں اور ہر روز کام کریں۔ 1950 میں قائم کی گئی یہ جیل 450 قیدیوں کے لیے ان کا گھر ہے اور راجستھان میں اس نوعیت کے 30 اداروں میں سے ایک ہے۔
میں سنگانر سمیتا چکرورتی کے ساتھ گئی،جو ملک بھر میں قیدیوں کے لیے کھلی جیلیں بنانے کی مہم کا حصہ ہیں۔ وہ اب راجستھان میں قیدیوں کے اعزازی کمشنر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں بھی نبھا رہی ہیں اور حال ہی میں انھیں قانونی نظام پر کام کرنے پر آگامی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔
سمیتا کہتی ہیں کہ ’کریمنل جسٹس سسٹم ایک واقعے کے بارے میں ردعمل دیتا ہے اور نہیں جانتا کہ ایک شخص کے ساتھ کیا کیا جائے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ جس مقصد کے تحت مہم چلا رہی ہیں وہ مقبول ہو رہا ہے۔ گذشتہ سال انڈیا کی چار دیگر ریاستوں میں کھلی جیلوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ جب میں سمیتا کے ہمراہ سنگانر گئی تو انھوں نے قیدیوں کو اپنے کام کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا اور پھر وہ سب بھیڑ کی صورت میں میری طرف آئے کیونکہ وہ بات کرنا چاہتے تھے۔
چونکہ اس جیل کی سکیورٹی پر کوئی مامور نہیں لہٰذا کوئی بھی یہاں داخل ہو سکتا ہے، لیکن میری جیسے ملاقاتی وہاں کم ہی آتے ہیں۔
میں جیل کے میدان کے سامنے بچوں کی ایک نرسری میں فرش پر بیٹھ گئی اور مرد اور خواتین قیدیوں کے ایک گروپ سے بات کرنے لگی۔ اب میں نے ان سے پوچھا کہ وہ یہاں کیوں ہیں تو زیادہ تر نے مختصرا کہا ’302‘۔ تعزیراتِ ہند کے مطابق دفعہ 302 قتل سے متعلق ہے۔ وہ اس کھلی جیل کو ’فارم‘ کہتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہاں رہنا کتنا آسان ہے اور وہ کتنے خوش ہیں۔
سنگانر پہنچنے تک ان سب کو بند جیلوں میں اپنی سزا کا دو تہائی حصہ گزارنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان جگہوں کے مقابلے یہ آزادی ہے۔ دراصل راجستھان حکومت کو ایسے قیدیوں کو نکالنا بھی پڑتا ہے جو یہاں سے نہیں جانا چاہتے۔ انھوں نے اپنی زندگی بنا لی ہوتی ہے- مستحکم نوکری، قریبی علاقے میں بچوں کے لیے سکول- ان چیزوں سے وہ اپنی سزا کے اختتام پر ہاتھ نہیں دھونا چاہتے۔
بہت سے قیدیوں کے مطابق انھیں ابھی بھی باہر کے لوگوں کو جیل کے بارے میں سمجھاتے ہوئے دقت ہوتی ہے۔ کچھ قیدی خواتین کے مطابق جیل کے اندر کسی مرد سے شادی کرنا آسان ہے کیونکہ جیل سے باہر مرد ان کے تجربات کو نھیں سمجھ سکتے۔ حتیٰ کہ کچھ قیدیوں کے لیے نوکری ڈھونڈنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ ان کا جیل کارڈ دیکھ کر انھیں نوکری دیتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔
انڈیا میں موجود کھلی جیلیں
2015 کے اختتام پر انڈیا میں اکتالیس لاکھ نو ہزار چھ سو تئیس قیدیوں میں سے تقریباً تین ہزار سات سو نواسی قیدی کھلی جیلوں میں رہ رہے تھے۔
دو ریاستوں راجستھان اور مہاراشٹر میں کھلی جیلوں کی تعداد 42 تھی، جو کہ کل جیلوں کا نصف ہے۔
اکیس مزید جیلیں انڈیا کی پندرہ دوسری ریاستوں میں موجود تھیں۔
ذریعہ: 2015 میں انڈیا کی جیلوں کے اعدادوشمار
لیکن پھر بھی وہ تقریباً ایک عام زندگی ہی گزار رہے ہیں: وہ موٹرسائیکلیں، سمارٹ فونزاور ٹی وی خریدتے ہیں۔ انھیں جیل کا یونیفارم نہیں پہننا پڑتا، اور وہ چھوٹے گھروں میں رہتے ہیں۔ ہر قیدی کو حکومت کی جانب سے سنگانر کی تنگ لین میں گھر الاٹ کیا گیا ہے، باقی سب کچھ ان پر منحصر ہے۔ جیل انھیں کھانا،پانی یا کوئی مالی امداد نہیں دیتی۔
لہذا ہر روز قیدی جیل چھوڑ کر روزگار کے لیے باہر جاتے ہیں: قتل کا مجرم بطور سکیورٹی گارڈ، فیکٹری ملازم اور دیہاڑی دار مزدور کے کام کرتا ہے۔ حتیٰ کہ میں ایک ایسے قیدی سے بھی ملی جو یوگا سکھاتا ہے اور جب کہ ایک اور قریبی سکول میں سپروائزر ہے۔
یہاں صرف ایک قانون ہے، مجھے بتایا گیا کہ یہاں ہر شام قیدیوں کی حاضری لگتی ہے۔ اس کے علاوہ سنگانر بمشکل ہی جیل لگتی ہے۔ سورج ڈھلنے ہر جیل کی منتخب گورننگ باڈی کے نمائندے جیل کے داخلی راستے پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک قیدی مائیکروفون پر ایک سے 450 نمبر بلاتے ہوئے حاضری لگانا شروع کرتا ہے۔ کبھی کبھی وہ کسی ایک نمبر پر رک کر کسی قیدی کو گھر کے باہر کوڑا کرکٹ چھوڑنے پر ڈانٹ بھی دیتا ہے۔
ہر کسی کو حساب دینا ہوتا ہے، یا بند جیل میں واپسی کا خدشہ ہوتا ہے۔