پہلا ٹیسٹ ڈرا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کراچی ٹیسٹ ڈرا ہوگیا۔ 313رنز کی شاندار اننگز کھیلنے والے یونس خان مین آف دی میچ قرار پائے۔ کھیل کے آخری دن پاکستان نے اپنی پہلی اننگز چھ وکٹوں پر765 رنز بناکر ڈیکلئر کردی جس کے بعد میزبان بولرز نے سری لنکا کی دوسری اننگز میں پانچ بلے بازوں کو آؤٹ کرکے میچ کو دلچسپ بنادیا تاہم سماراویرا اور پرسنا جے وردھنے آٹھ اوورز کھیل کر ٹیسٹ کو ڈرا کی طرف لے گئے۔ جب میچ دس اوورز پہلے ختم ہوا تو سری لنکا نے144 رنز بنائے تھے۔ سمارا ویرا24 اور پرسنا جے وردھنے7 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔ مالندا ورنا پورا کو دو رنز پر عمرگل نے کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے پرانا وتھانا جو پہلی اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوئے تھے دوسری اننگز میں بھی ناکام رہے اور نو رنز بناکر یاسرعرفات کی تھرو پر رن آؤٹ ہوگئے۔ تلکارتنے دلشن کو عمرگل نے آٹھ کے سکور پر فیصل اقبال کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔ پہلی اننگز میں غیرمتاثر کن بولنگ کے بعد دانش کنیریا نے دو اہم وکٹیں حاصل کرکے سری لنکن ڈریسنگ روم میں پریشانی پیدا کردی۔ پہلے انہوں نے22 رنز بنانے والے مہیلا جے وردھنے کو فیصل اقبال کے ہاتھوں کیچ کرایا اور پھر سنگاکارا کو بھی ایل بی ڈبلیو کرکے پویلین کی راہ دکھادی۔ سنگاکارا نے صرف 66 گیندوں پر دس چوکوں کی مدد سے65 رنز سکور کئے۔ اس وقت سری لنکا کا سکور ایک سو بیس رنز تھا اور اسے سترہ اوورز مزید کھیلنے تھے۔ اس سے پہلے پاکستان کی طویل اننگز میں متعدد ریکارڈز بنے۔ 765رنز ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کا سب سے بڑا سکور بھی ہے۔ 1987ء میں انگلینڈ کے خلاف اوول میں708 رنز بنائے تھے۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ میں سری لنکا کے خلاف بھی کسی ٹیم کا سب سے بڑا سکور ہے۔ 1986ءمیں بھارت نے کانپور میں سات وکٹوں پر676 رنز بنائے تھے۔ اس کے علاوہ پاکستانی سرزمین پر بھی یہ ٹیسٹ کرکٹ کا سب سے بڑا سکور ہے۔ سابقہ ریکارڈ پانچ وکٹوں پر699 رنز کا تھا جو 1989ءمیں پاکستان نے بھارت کے خلاف لاہور میں بنایا تھا۔ آج جب پاکستانی ٹیم نے اننگز شروع کی تو شائقین کی تمام تر دلچسپی صرف اس بات سے تھی کہ یونس خان ، برائن لارا کے چار سو رنز کا عالمی ریکارڈ توڑیں گے یا نہیں؟ لیکن وہ گزشتہ روز کے سکور میں صرف سات رنز کا اضافہ کرکے313 رنز پر دلہارا فرنینڈو کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ اس طرح وہ حنیف محمد کے337 رنز کے کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کے ریکارڈ کو بھی نہ توڑ سکے اور برائن لارا کا چار سو رنز کا ورلڈ ریکارڈ بھی محفوظ رہا۔ یونس خان نے768 منٹ کی طویل بیٹنگ میں568 گیندوں کا سامنا کیا اور 27 چوکے اور4 چھکے لگائے۔ ان کے آؤٹ ہونے پر پاکستان کا سکور596 رنز تھا۔ وکٹ کیپر کامران اکمل نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے چھٹی سنچری سکور کی۔ انہوں نے آٹھ چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست158 رنز بنائے جو ان کے ٹیسٹ کریئر کا بہترین انفرادی سکور بھی ہے۔ اس اننگز کے دوران انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں دو ہزار رنز بھی مکمل کرلئے۔ یاسر عرفات جن کا یہ دوسرا ٹیسٹ ہے نصف سنچری سکور کی وہ دو چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے50 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ | اسی بارے میں یونس خان کی ٹرپل سینچری مکمل24 February, 2009 | کھیل 499 کی اننگز کے پچاس سال 11 January, 2009 | کھیل حنیف،عمران،میانداد’ہال آف فیم‘ میں03 January, 2009 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||