BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2009, 20:54 GMT 01:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہاکی ٹیم کے لیے نیا کوچ اور مینیجر

 ہاکی
شاہد علی خان کا تعلق بھی پی آئی اے سے ہی ہے
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے سابقہ سٹارگول کیپر شاہد علی خان کو سینیئرہاکی ٹیم کے چیف کوچ ایاز محمود کی جگہ پاکستان ہاکی ٹیم کا نیا کوچ مقرر کر دیا ہے جبکہ ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری آصف باجوہ کو سینیئر ٹیم کے مینیجر کی اضافی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔

کامران اشرف اور شہباز سینیئر بدستور ٹیم کے اسٹنٹ کوچ رہیں گے۔

ایاز محمود کی تبدیلی کی وجہ ان کے ادارے پی آئی اے کی جانب سے انہیں کوچنگ کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے چھٹی نہ ملنا بتائی گئی ہے۔ کچھ دن قبل پاکستان کی جونیئر ہاکی ٹیم کے چیف کوچ قمر ابراہیم کو بھی اسی بنیاد پر تبدیل کر دیا گیا تھا۔

شاہد علی خان کا تعلق بھی پی آئی اے سے ہی ہے لیکن چونکہ ان کا تعلق پی آئی اے کے شعبۂ کھیل سے ہی ہے اس لیے انہیں اس ذمہ داری کے لیے اجازت ملنا آسان ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر قاسم ضیاء نے جمعہ کو نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں سینیئر ٹیم کی مینجمنٹ کی تبدیلی کے اعلان کے علاوہ ایشیاء کپ کے لیے سینیئر ٹیم کے کیمپ کے کھلاڑیوں میں مزید چھ کھلاڑی شامل کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے سے اعلان کردہ چونتیس کھلاڑیوں میں چار کھلاڑی سہیل عباس،وسیم احمد،ریحان بٹ اور سلمان اکبر ایسے ہیں جو ملک سے باہر لیگ کھیل رہے ہیں اور کیمپ کے کھلاڑیوں کی تعداد پوری کرنے کے لیے مزید کھلاڑی شامل کرنا ضروری تھا۔

آصف باجوہ اب مینیجر کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں گے

قاسم ضیاء کے مطابق ان چاروں کھلاڑیوں کو ایشیاء کپ کی ٹیم میں شامل ہونے کے لیے ایشیاء کپ سے کم از کم تین ہفتے پہلے کیمپ میں شامل ہونا ضروری ہو گا۔

ادھر نئے مقرر کردہ کوچ شاہد علی خان نے اس ذمہ داری کو ایک چیلنج قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایشیاء کپ کو جیتنا پاکستان کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ اس میں فتح سے پاکستان عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کر لے گا۔

نئے کوچ نے تسلیم کیا کہ چار سینیئر کھلاڑیوں کے ٹیم میں نہ ہونے سے پاکستان کی ٹیم مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی موجودگی سے مخالف ٹیموں پر بھی نفسیاتی دباؤ ہو گا دوسری صورت میں وہ ٹیمیں یہ سمجھیں گی کہ پاکستان کی جونیئر ٹیم کھیل رہی ہے اور اس کا ہماری ٹیم پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

1980 سے 1994 تک پاکستان کی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے گول کیپر شاہد علی خان کا کہنا تھا کہ انہیں ہاکی میں کوچنگ کا پندرہ سال کا تجربہ ہے اور وہ اس تجربے کو برؤئے کار لاتے ہوئے پاکستان کی ٹیم کی بہترین تربیت کرنے کی کوشش کریں گے۔ شاہد علی خان کا کہنا تھا کہ ہاکی ٹیم کی بہتری کے لیے جدید تربیت کے تقاضوں کا بھی خیال رکھنا ہو گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد