ہاکی ٹیم کے لیے نیا کوچ اور مینیجر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے سابقہ سٹارگول کیپر شاہد علی خان کو سینیئرہاکی ٹیم کے چیف کوچ ایاز محمود کی جگہ پاکستان ہاکی ٹیم کا نیا کوچ مقرر کر دیا ہے جبکہ ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری آصف باجوہ کو سینیئر ٹیم کے مینیجر کی اضافی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔ کامران اشرف اور شہباز سینیئر بدستور ٹیم کے اسٹنٹ کوچ رہیں گے۔ ایاز محمود کی تبدیلی کی وجہ ان کے ادارے پی آئی اے کی جانب سے انہیں کوچنگ کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے چھٹی نہ ملنا بتائی گئی ہے۔ کچھ دن قبل پاکستان کی جونیئر ہاکی ٹیم کے چیف کوچ قمر ابراہیم کو بھی اسی بنیاد پر تبدیل کر دیا گیا تھا۔ شاہد علی خان کا تعلق بھی پی آئی اے سے ہی ہے لیکن چونکہ ان کا تعلق پی آئی اے کے شعبۂ کھیل سے ہی ہے اس لیے انہیں اس ذمہ داری کے لیے اجازت ملنا آسان ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر قاسم ضیاء نے جمعہ کو نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں سینیئر ٹیم کی مینجمنٹ کی تبدیلی کے اعلان کے علاوہ ایشیاء کپ کے لیے سینیئر ٹیم کے کیمپ کے کھلاڑیوں میں مزید چھ کھلاڑی شامل کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سے اعلان کردہ چونتیس کھلاڑیوں میں چار کھلاڑی سہیل عباس،وسیم احمد،ریحان بٹ اور سلمان اکبر ایسے ہیں جو ملک سے باہر لیگ کھیل رہے ہیں اور کیمپ کے کھلاڑیوں کی تعداد پوری کرنے کے لیے مزید کھلاڑی شامل کرنا ضروری تھا۔
قاسم ضیاء کے مطابق ان چاروں کھلاڑیوں کو ایشیاء کپ کی ٹیم میں شامل ہونے کے لیے ایشیاء کپ سے کم از کم تین ہفتے پہلے کیمپ میں شامل ہونا ضروری ہو گا۔ ادھر نئے مقرر کردہ کوچ شاہد علی خان نے اس ذمہ داری کو ایک چیلنج قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایشیاء کپ کو جیتنا پاکستان کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ اس میں فتح سے پاکستان عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کر لے گا۔ نئے کوچ نے تسلیم کیا کہ چار سینیئر کھلاڑیوں کے ٹیم میں نہ ہونے سے پاکستان کی ٹیم مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی موجودگی سے مخالف ٹیموں پر بھی نفسیاتی دباؤ ہو گا دوسری صورت میں وہ ٹیمیں یہ سمجھیں گی کہ پاکستان کی جونیئر ٹیم کھیل رہی ہے اور اس کا ہماری ٹیم پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ 1980 سے 1994 تک پاکستان کی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے گول کیپر شاہد علی خان کا کہنا تھا کہ انہیں ہاکی میں کوچنگ کا پندرہ سال کا تجربہ ہے اور وہ اس تجربے کو برؤئے کار لاتے ہوئے پاکستان کی ٹیم کی بہترین تربیت کرنے کی کوشش کریں گے۔ شاہد علی خان کا کہنا تھا کہ ہاکی ٹیم کی بہتری کے لیے جدید تربیت کے تقاضوں کا بھی خیال رکھنا ہو گا۔ | اسی بارے میں ہاکی کھلاڑیوں کے کنٹریکٹ پرغور07 February, 2009 | کھیل ہاکی، کھلاڑیوں کی شرکت مشکوک31 January, 2009 | کھیل دو اہم کھلاڑیوں سے ٹیم محروم 31 January, 2009 | کھیل سکولوں کے لیے دس ہزار ہاکیاں 31 December, 2008 | کھیل ہاکی ٹورنامنٹ پاکستان میں ہو گا24 December, 2008 | کھیل ریحان بٹ، ایشیا کے بہترین کھلاڑی20 December, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||