عبدالرؤف کو کنٹریکٹ مل گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے میڈیم فاسٹ بالر عبدالرؤف کو بھی سنٹرل کانٹریکٹ دیے جانے والے کھلاڑیوں میں شامل کر لیا ہے۔ انہیں سی کیٹیگری میں سنٹرل کانٹریکٹ دیا گیا ہے۔عبدالرؤف کے شامل کرنے سے سنٹرل کانٹریکٹ دیے جانے والے کرکٹرز کی تعداد ستائیس ہو گئی ہے۔ چند دن پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ نے چھبیس کھلاڑیوں کو سنٹرل کانٹریکٹ دینے کا اعلان کیا تھا جن میں عبدالرؤف نہیں تھے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے پر ذرائع ابلاغ میں بہت تنقید کی گئی کیونکہ پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلیم الطاف کے مطابق کانٹریکٹ دینے کا سب سے اہم معیار کھلاڑی کی سنیارٹی کو رکھا گیا لیکن جن چھبیس کھلاڑیوں کو کانٹریکٹ دیے گئے تھے ان میں 19 سال کے نوجوان کھلاڑی بھی شامل تھے جبکہ 30 سالہ عبدالرؤف کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔
عبدالرؤف نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 405 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں جبکہ انہوں نے پاکستان کے لیے چار ایک روزہ میچز کھیلے ہیں جن میں انہوں نے آٹھ وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ان کی کارکردگی کے سبب 2008 کے ایشیاء کپ میں پاکستان نے بھارت کو شکست دی تھی۔ عبدالرؤف کو سنٹرل کانٹریکٹ نہ دینے پر پی سی بی کو کرکٹ حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا رہا جس کی بناء پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو انہیں کانٹریکٹ دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس سے پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلیم الطاف نے منگل چھ جنوری کو پریس کانفرنس میں ان کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا تھا جنہیں سن 2009 کے لیے پی سی بی کے سنٹرل کانٹریکٹ میں شامل کیا گیا۔ سلیم الطاف نے سنٹرل کانٹریکٹ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ سنٹرل کانٹریکٹ دیتے ہوئے کھلاڑیوں کی سینیارٹی کو مد نظر رکھا گیا ہے۔
ہمیشہ کی طرح اس سال بھی تین کیٹیگریز اے بی اور سی میں کانٹریکٹ دیے گئے۔ گزشتہ سال چھ کھلاڑی اے کیٹیگری میں تھے لیکن اس سال نو کھلاڑیوں کو اے کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔ فاسٹ بالر شعیب اختر کو کرکٹ بورڈ کی گزشتہ انتظامیہ نے گزشتہ سال سپیشل کیٹیگری دی تھی اور نا صرف شعیب اختر نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے بلکہ اس معاہدے کے سبب ان کے کرکٹ بورڈ کے درمیان ہونے والی کشیدگی ان پر پانچ سال کی پابندی پر منتج ہوئی اور عدالت تک معاملہ پہنچا۔
کرکٹ بورڈ کی نئی انتظامیہ نے شعیب اختر کو اے کیٹیگری میں رکھا ہے۔ ان کے علاوہ کامران اکمل، سلمان بٹ،عمر گل اور دانش کنیریا کو بھی اے کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔ آئی سی ایل میں شامل ہونے والے محمد یوسف اور ڈوپنگ کے معاملے میں ملوث محمد آصف گزشتہ برس اے کیٹیگری کے کرکٹر تھے اس سال انہیں کانٹریکٹ ہی نہیں دیا گیا۔ ان تمام کیٹیگریز میں کھلاڑیوں کو پہلے سے حاصل مراعات میں کوئی کمی بیشی نہیں کی گئی البت اے کیٹیگری کے لیے ٹیسٹ میچ کی فیس ڈھائی لاکھ سے بڑھا کر ساڑھے تین لاکھ کر دی گئی ہے۔ سلیم الطاف کے مطابق کانٹریکٹ کی ایک شق کے مطابق کرکٹرز کو ایک خاص مدت تک ان کانٹریکٹ پر دستخط کرنا ہوں گے۔ سنٹرل کانٹریکٹ حاصل کرنے والے کھلاڑی: بی کیٹیگری: یاسر حمید،فیصل اقبال،محمد حفیظ،سہیل تنویر | اسی بارے میں آصف: امارات داخلے پر پابندی 11 January, 2009 | کھیل 499 کی اننگز کے پچاس سال 11 January, 2009 | کھیل سری لنکا کا دورہ اٹھارہ جنوری سے09 January, 2009 | کھیل بھارت رخنے نہیں ڈال رہا، اعجاز بٹ04 January, 2009 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||