آئی سی سی کی نئی ڈوپنگ پالیسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے مختصر مدت کے نوٹس پر کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ لینے کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ٹیسٹ مقابلوں کے دوران کیے جانے والے ٹیسٹ کے علاوہ ہوں گے اور ان کے لیے کسی بھی کھلاڑی کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ ورلڈ انٹی ڈوپنگ ایجنسی سے مطابقت رکھنے والی یہ پالیسی یکم جنوری سنہ 2009 سے نافذ العمل ہوگی۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لوگارٹ کے مطابق ’ آئی سی سی کرکٹ میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کو قطعی برداشت نہیں کرتی اور یہ نیا کوڈ اس عزم میں تقویت بخشے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب ممنوعہ ادویات استعمال کرنے والوں کے لیے بچ پانا مزید مشکل ہوگیا ہے‘۔ اس پالیسی کے تحت اور انہیں آئی سی سی کو اپنے سفری منصوبوں کے بارے میں بھی مطلع کرنا ہوگا۔ اگر کوئی کھلاڑی ڈوپ ٹیسٹ دینے میں ناکام رہتا ہے تو یہ اس کی ذمہ داری تصور کی جائے گی اور اگر ایسے واقعات اٹھارہ ماہ کے عرصے میں تین بار پیش آئے تو اسے جرمانے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس نئی پالیس کے تحت ممنوعہ دوا استعمال کرنے والے کھلاڑیوں پر جرمانے اور پابندی عائد کرنے کے حوالے سے بھی آئی سی سی کو مزید اختیارات دیےگئے ہیں۔ | اسی بارے میں 2008، ٹیسٹ کرکٹ کے سوا سب کچھ26 December, 2008 | کھیل آصف ڈوپنگ سماعت لندن میں17 December, 2008 | کھیل آصف، انتیس نومبر کو سماعت11 November, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||