وجندر کمار، ابھرتے باکسر کی کہانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نوجوان وجندر کمار باکسنگ کے چمپیئن ہیں لیکن کرکٹ کے دیوانے ہندوستان میں اپنی ایک انفرادی شناخت بنانا ان کے لیے آسان نہیں۔ بہت کم ہی لوگ جانتے ہوں گے کہ وہ ایک انتہائی باصلاحیت باکسر ہیں اور ان کے کوچ کو ان سے کافی توقعات ہیں۔ بائس سالہ وجندر نے بیجنگ اولمپکس کے لیے کوالیفائی کیا ہے اور چند دن بعد ہی وہ میڈل کے لیے میدان میں لڑتے نظر آئیں گے۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے وجندر اور ان کے اہل خانہ نے بڑی محنت کی ہے۔ وجندر کے والد ایک بس ڈرائیور تھے جنہیں اپنے بیٹے کی کوچنگ کے لیے وقت سے زیادہ کام کرنا پڑا۔ اپنی لگن اور محنت سے وجندر نے کامن ویلتھ اور ایشین گیمز کے علاوہ جرمنی، پاکستان اور سکاٹ لینڈ جیسے ممالک میں ہونے والے باکسنگ مقابلوں میں کئی تمغے حاصل کیے ہیں۔ لیکن ان کے ان کارناموں سے کم ہی لوگ واقف ہیں۔ وہ کہتے ہیں’ جب سبھی لوگ کرکٹ کی ہی باتیں کرتے ہیں تو میرا خون کھول جاتا ہے۔‘ وجندر کا کہنا ہے کہ جس ملک میں کرکٹ کا جنون ہو وہاں باکسر بننا آسان نہیں ہے۔’ لوگ سوچتے ہیں کہ باکسر پاگل اور پر تشدد ہوتے ہیں۔‘ ہندوستان میں مختلف زمروں میں بہت سے باکسر ہیں جنہوں نے اپنے ملک کا نام روشن کیا ہے لیکن ابھی تک بھارت کو باکسنگ میں اولمپک میڈل نہیں ملا ہے۔ دو ہزار تین میں محمد علی قمر نے لائٹ ویٹ مقابلے میں مانچسٹر کے دولت مشترکہ کے کھیلوں میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ پھر دو ہزار چھ میں اسی زمرے میں میلبورن میں وجندر نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا جہاں سے ان کی کامیابی کا سفر شروع ہوا۔
وجندر کا تعلق ہریانہ کے بھوانی علاقے سے ہے جہاں کرکٹ کی ہی طرح باکسنگ بھی مقبول ہے۔ لوگ صرف کرکٹ کا ہی نہیں باکسنگ کے مقابلوں کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ یہاں باکسنگ کے کئی سکول ہیں جہاں مقامی لڑ کے اور لڑکیاں شام کو عام طور پر باکسنگ کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔ آٹھ برس قبل وجیندر نے بھوانی باکسنگ کلب میں کوچنگ لینی شروع کی تھی۔ اس کلب کی شروعات جگدیش سنگھ نے کی تھی۔ جگدیش کا کہنا ہے’ اس بار میرے چار شاگرد بیجنگ اولمپک میں حصہ لینےگئے ہیں اس لیے میڈل حاصل کرنے کا اس بار زیادہ موقع ہے، یہ بھارت کی باکسنگ کے لیے بہترین وقت ہے۔‘ جگدیش کو وجیندر سے سب سے زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔ خود باکسر کا کہنا ہے کہ اگر وہ بیجنگ میں میڈل حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو وہ انڈیا کے پہلا پیشہ ور باکسر بننے کی کوشش کریں گے۔ اور اگر وہ ہار گئے تو بھی کوئی بات نہیں کیونکہ وہ ایک پرفیشنل ماڈل بھی ہیں اور اس پیشے میں اپنی قسمت آزمائیں گے۔ | اسی بارے میں بھارتی ہاکی ٹیم اولمپکس سے باہر10 March, 2008 | کھیل ساؤتھ ایشین گیمز کے لیے باکسرز23 July, 2006 | کھیل انڈیا: اولمپک مشعل ریلے ختم 17 April, 2008 | انڈیا ’چین مخالف مظاہرہ کی اجازت نہیں‘03 April, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||