آصف معاملہ: کمیٹی تحقیقات کرے گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے محمد آصف کے ساتھ دبئی ائر پورٹ پر پیش آنے والے واقع کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اس تین رکنی کمیٹی کے چئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی ہیں۔ باقی دو اراکین میں پی سی بی کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشن ذاکر خان اور ڈائریکٹر ہیومن ریسورس ندیم اکرم شامل ہیں۔ دریں اثناء محمد آصف نے اس واقعے پر پوری قوم سے معافی مانگی ہے اور کہا ہے کہ جو کچھ ہوا اس پر وہ شرمندہ ہیں۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ یہ کمیٹی پیر کے دن سے اپنا کام شروع کر دے گی۔ انہوں نے اس کمیٹی کو فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی یعنی حقائق معلوم کرنے والی کمیٹی کا نام دیا ہے۔ پی سی بی کے چئرمین کے مطابق اس کمیٹی کا کام ہے کہ اس تمام واقع سے متعلق حقائق تلاش کرے اور اس پر رپورٹ مرتب کر کے پاکستان کرکٹ بورڈ کو پیش دے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس رپورٹ کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو بھی دیں گے کیونکہ ڈوپنگ کی پالیسی میں پی سی بی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ساتھ ہے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ محمد آصف نے انہیں بتایا ہے کہ ان کے پاس جوشے تھی وہ کئی مہینوں پہلے حکیم سے لی گئی دوا تھی جو انہوں نے کہنی کے درد کے لیے لی تھی اور انہیں یاد بھی نہیں تھا کہ یہ دوا ان کے پرس میں ہے اور وہ نہیں جانتے کہ اس میں افیون تھی یا نہیں۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ محمد آصف کا بیان اپنی جگہ لیکن وہ اس تمام معاملے کی تحقیق کروانا چاھتے ہیں اور کمیٹی کو چاھیے کہ اس حکیم کو بھی بلوائے جس سے یہ دوا لی گئی تھی۔ ڈاکٹر نسیم اشرف با با یہ واضح کرتے رہے کہ محمد آصف پر کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی اور انہوں نے خاص طور پر کہا کہ محمد آصف کو دبئی سے نکالا نہیں گیا بلکہ انہیں ان کے ملک بھیجا گیا ہے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف کے اس بیان کے برعکس خلیج ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محمد آصف کو دبئی سے نکالا گیا ہے اور ان سے برامد ہونے والی ممنوعہ شے کی مقدار بہت کم ہونے کے سبب ان پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔خلیج ٹائمز نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ چونکہ محمد آصف کو دبئی سے نکالا گیا ہے لہذا ان پر یو اے ای میں داخلے پر تا حیات پابندی لگنے کا امکان بھی ہے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے اس پریس کانفرنس کو صرف اپنی بات کہنے تک محدود رکھا اور صحافیوں کے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا۔ انہوں نے اس اہم بات کی وضاحت بھی نہیں کی کہ چونکہ محمد آصف پر کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی اور اگر کمیٹی نے انہیں بے قصور قرار دیا تو کیا یو اے ای کی حکومت سے احتجاج کیا جائے گا؟ ڈاکٹر نسیم اشرف کی میڈیا سے گفتگو سے اس معمے کو حل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملی کہ آخر ہوا کیا تھا جبکہ مبصرین کرکٹ کو اس کمیٹی کے اراکین پر بھی اعتراض ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورنگ باڈی میں شامل اشخاص پر مشتمل ڈسپلنری کمیٹی پہلے ہی سے موجود ہے تو پھر ان افراد کی کمیٹی بنانے کا کیا جواز ہے جو پی سی بی کے تنخواہ دار ملازم ہیں جبکہ کمیٹی کے ایک رکن ندیم اکرم محمد آصف کی حراست کے بعد دبئی گئے اور وہاں کئی روز گزارے لیکن وہ کوئی حقیقت جانے بناء ہی واپس آ گئے تو اب وہ کون سے حقائق معلوم کریں گے۔ بہرحال یہ کمیٹی اس گتھی کو کس حد تک سلجھا سکے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اس سارے واقعے کے سبب محمد آصف نہ تو بنگلہ دیش میں ہونے والا سہ فریقی ٹورنامنٹ کھیل سکے اور نہ ہی وہ 24 جون سے پاکستان میں ہونے والا ایشیاء کرکٹ کپ کھیل سکیں گے کیونکہ بقول ڈاکٹر نسیم اشرف کے اتنے دن حراست میں رہنے سے وہ فٹ نہیں رہے۔ | اسی بارے میں آصف کیس کی سماعت22 جون کو13 June, 2008 | کھیل محمد آصف کی رہائی کا فیصلہ19 June, 2008 | کھیل تمام ٹیسٹ درست تھے: محمد آصف20 June, 2008 | کھیل آصف رہا ، وطن واپس پہنچ گئے 20 June, 2008 | کھیل تمام ٹیسٹ درست تھے: محمد آصف20 June, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||