آصف کا کیس اٹارنی جنرل کے پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فاسٹ بولر محمد آصف پر مبینہ طور پر مشکوک شے رکھنے کے الزام کا معاملہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد اٹارنی جنرل کو بھیج دیا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر میڈیا سہیل منصور نے بی بی سی کو بتایا کہ معاملہ اس وقت اٹارنی جنرل کے پاس ہے اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام شواہد مکمل ہیں تو وہ فوراً فیصلہ سنا سکتے ہیں تاہم ضرورت پڑنے پر وہ فریقین کے وکلاء کا موقف سن سکتے ہیں۔ سہیل منصور نے کہا کہ توقع ہے کہ منگل تک صورتحال واضح ہوجائے گی تاہم انہوں نے محمد آصف کی میڈیکل رپورٹ یا ان کے قبضے سے برآمد ہونے والی ممنوعہ شے کی رپورٹ کے بارے میں کچھ بتانے سے انکار کردیا۔ دبئی میں موجود پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز ندیم اکرم نے بی بی سی کو بتایا کہ اس معاملے کو باقاعدہ مقدمے کے طور پر چلانے کی بابت باضابطہ طور پر انہیں ابھی تک نہیں بتایا گیا ہے۔ محمد آصف گزشتہ ایک ہفتے سے دبئی میں زیر حراست ہیں۔ بھارت سے پاکستان آتے ہوئے دبئی ائرپورٹ پر ان کے بٹوے سے ممنوعہ شے برآمد ہوئی تھی جس کے بعد چیف پراسیکیوٹر محمد علی رستم نے ان سے تفتیش کی تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ محمد آصف کی رہائی کے لیے پاکستان سفاتخانے کی مدد سے کوششوں میں مصروف ہے تاہم متحدہ عرب امارات کے سخت قوانین کے سبب اسے ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ اس نے دو روز قبل محمد آصف کو ضرورت کے لیے کچھ رقم بھی بھجوائی ہے۔ محمد آصف کے معاملے پر پاکستانی ٹی وی چینلز اور اخبارات متضاد خبریں دیتے آئے ہیں، کبھی ان پر مبینہ طور پر نشے کی حالت میں ائرپورٹ پر جھگڑا کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور کبھی انہیں رہا کرا کر جہاز میں بھی بٹھادیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں آصف کا بیان قلمبند، رہائی میں تاخیر05 June, 2008 | کھیل آصف: رہائی میں تاخیر، ٹیم سے باہر04 June, 2008 | کھیل محمد آصف دبئی میں زیرِ حراست03 June, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||