آسٹریلیا کی یونس خان میں دلچسپی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ساؤتھ آسٹریلیا نے پاکستانی بیٹسمین یونس خان کو09- 2008 ء کے سیزن میں کھیلنے کی پیشکش کی ہے۔ ساؤتھ آسٹریلیا کو ڈیرن لیمین اور میتھیو ایلیٹ جیسے تجربہ کار بیٹسمینوں کا خلاء پر کرنے میں مشکلات در پیش ہیں اور وہ کسی ورلڈ کلاس بیٹسمین کو اپنے سکواڈ میں شامل کرنا چاہتی ہے۔ گزشتہ سیزن میں مایوس کن کارکردگی کے بعد ساؤتھ آسٹریلیا آخری دو ٹیموں میں سے ایک تھی۔ ساؤتھ آسٹریلیا کے کوچ مارک سوریل کے مطابق مختصر مدت کے معاہدے کے لیے یونس خان موزوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بین الاقوامی کھلاڑی کو حاصل کرنا اس وقت ساؤتھ آسٹریلیا کی نئی حکمت عملی ہے جس سے مقامی کھلاڑیوں کو بھی فائدہ ہوگا۔اس سلسلے میں آئی پی ایل کی مثال سب کے سامنے ہے۔ مارک سوریل کا کہنا ہے کہ ساؤتھ آسٹریلیا کی طرف سے کھیلنے سے یونس خان کی پاکستانی ٹیم کے ساتھ مصروفیات متاثر نہیں ہوں گی۔ یونس خان ساؤتھ آسٹریلیا سے کھیلنے سے متعلق فی الحال کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ جب معاہدہ ہوجائے گا اسی وقت وہ کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ بات چیت تو بہت پہلے سے جاری ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے یونس خان کے آسٹریلیا میں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو آگاہ کیا تھا تاہم غلطی سے ساؤتھ آسٹریلیا کی جگہ ویسٹرن آسٹریلیا کا نام سامنے آگیا تھا۔ یونس خان اس وقت آئی پی ایل کے سلسلے میں بھارت میں ہیں۔ان کی خدمات راجستھان نے حاصل کی ہیں لیکن وہ ذاتی مصروفیات کے سبب آئی پی ایل کے ابتدائی میچوں میں حصہ نہ لے سکے۔ اب جب آئی پی ایل اختتامی مرحلے پر ہے راجستھان کی ٹیم میں شین وارن، شین واٹسن، سہیل تنویر اور گریم سمتھ کی موجودگی میں یونس خان کے لیے حتمی سکواڈ میں جگہ بنانا مشکل نظر آتا ہے۔ | اسی بارے میں ’کھلاڑیوں کا ڈوپ ٹیسٹ ہو گا‘21 May, 2008 | کھیل ’پاکستانی کھلاڑی محتاط رہیں‘20 April, 2008 | کھیل یونس خان کی’قربانی‘12 April, 2008 | کھیل یونس خان: کھیلنے سے انکار؟08 April, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||