شعیب اختر کو کانٹریکٹ ملے گا ؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاسٹ بولر شعیب اختر کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کا نیا سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرسکیں گے؟ یہ سوال اس وقت کرکٹ کے حلقوں میں بڑی اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت کے دور ے سے لے کر اب تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیار شعیب اختر کی فٹنس، اور ڈسپلن کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بار ے میں مختلف نوعیت کے بیانات دے چکے ہیں۔ ان بیانات سے سے لگتا ہے کہ اس سال پاکستان کرکٹ بورڈ جن کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ دینے والا ہے ان میں شاید شعیب اختر شامل نہیں ہونگے۔ نئے سال کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان پچیس جنوری کو کراچی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے گورننگ بورڈ کے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ نئے سینٹرل کنٹریکٹ انہی کھلاڑیوں کو دئے جائیں گے جن کی کارکردگی اور فٹنس کی بنیاد پر ٹیم میں شمولیت یقینی ہوگی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت حسین نغمی نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا ہے کہ شعیب اختر نے بھارت کے دورے میں ایک مرتبہ بھی پانچ اوورز کا کوئی سپیل نہیں کرایا اور ان کی فٹنس پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ شعیب اختر کی جانب سے ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے۔ | اسی بارے میں کرکٹ نہیں چھوڑ رہا: شعیب اختر13 January, 2008 | کھیل بولنگ کمزور نہیں ہے، انضمام23 June, 2006 | کھیل شعیب اختر: تنازعوں تا ڈوپنگ 16 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||