BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 November, 2007, 13:51 GMT 18:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگس:ٹینس کی دنیا کو الوداع
مارٹینا ہنگس
ریٹائرمنٹ کی تصدیق کرتے ہوئے مارٹینا ہنگس کے چہرے سے فکرمندی عیاں تھی
ٹینس کی مایہ ناز کھلاڑی مارٹینا ہنگس نے اس اعتراف کے بعد کہ اس سال ومبلڈن کے دوران ان کا نشہ آور ادویات کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا ٹینس کی دنیا سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے۔

تاہم سؤٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والی ٹینس سٹار نے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی نشہ آور ادویات استعمال نہیں کیں اور یہ کہ ان پر اس قسم کے الزامات ’بھیانک‘ ہیں۔

ستائس سالہ مارٹینا ہنگس نے ایک بیان میں کہا: ’میرا ٹیسٹ پازیٹو تھا لیکن میں نے کبھی بھی نشہ نہیں کیا اور میں سو فیصد بے قصور ہوں۔‘

میں یہ اعلان اس لیے کر رہی ہوں کیونکہ میں ممنوعہ ادویات کے سدباب کے ادارے (اینٹی ڈوپنگ) کے اہلکاروں سے نہیں الجھنا چاہتی۔‘

پانچ مرتبہ ’گرینڈ سلیم‘ جیتنے والی اور ومبلڈن کی چیمپئن نے ومبلڈن کے تیسرے راؤنڈ میں شکست کے بعد بین الاقوامی ٹینس فیڈریشن کے زیراہتمام ممنوعہ ادویات کا ٹیسٹ دیا تھا۔

بیان میں ان کا کہنا تھا: ’جب مجھے بتایا گیا کہ میں ٹیسٹ میں ناکام ہوگئی ہوں تو مجھے بہت حیرت ہوئی اور شدید صدمہ پہنچا۔‘

’ لیکن اب اگلے سات سال اینٹی ڈوپنگ کے خلاف لڑنے کی مجھے خواہش نہیں ہے۔ مجھے الجھن ہو رہی ہے اور غصہ آ رہا ہے اور اس قسم کے الزامات کے بعد کھیلنے کو میرا جی نہیں چاہ رہا۔ اور عمر اور اپنی صحت کے مسائل کی وجہ سے میں نے بین الاقوامی مقابلوں کے علاوہ پروفیشنل ٹینس سے بھی ریٹائر ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘

اس شاندار کیرئر کا اختتام ہو گیا ہے جس کا آغاز انیس سو ستانوے میں ہوا تھا

مارٹینا ہنگس کے اس اعتراف کے باوجود دوسری جانب ڈوپنگ کے عالمی ادارے ’ڈبلیو ٹی اے‘ کے سربراہ لیری سکاٹ نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم کو نہیں معلوم کہ مارٹینا ہنگس کبھی کسی ٹیسٹ میں ناکام ہوئی تھیں۔

انہوں نے کہا: ’ مارٹینا نے جس پازیٹو ٹیسٹ کا ذکر کیا ہے اس کے بارے میں ہمیں کوئی باقاعدہ اطلاع نہیں ہے اس لیے ہم اس پر تبصرہ کرنے کی حیثیت میں نہیں ہیں۔ تاہم اینٹی ڈوپنگ کے معاملے میں یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ ہر کھلاڑی اس وقت تک بے گناہ ہوتا ہے جب تک اس پر الزام ثابت نہ ہو جائے۔‘

مارٹینا ہنگس کے اعتراف اور دوسری بار ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد ایک عظیم کھلاڑی کے اس شاندار کیرئر کا اختتام ہو گیا ہے جس کا آغاز انیس سو ستانوے میں ہوا تھا۔

اُس سال انہوں نے صرف سولہ برس تین ماہ اور چھبیس دن کی عمر میں آسٹریلین اوپن میں کامیابی حاصل کر کے اپنا پہلا گرینڈ سلیم جیتا تھا اور اسی سال مارچ تک وہ دنیا کی نمبر ون خاتون ٹینس کھلاڑی بن چکی تھی۔

جولائی میں وہ ومبلڈن سنگلز جیتنے والی کم عمر ترین کھلاڑی بن گئی تھیں اور پھر ستمبر میں انہوں نے یو ایس اوپن بھی جیت لیا تھا۔

انیس سو اٹھانوے اور پھر انیس سو نناوے میں بھی انہوں نے اپنے آسٹریلین اوپن کے ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کیا لیکن بعد میں بار بار زخمی ہونے کے بعد انہوں نے دو ہزار تین میں پہلی مرتبہ ٹینس سے ریٹائر ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔

کھلاڑیومبلڈن، مساوی انعام
ومبلڈن میں خواتین کومردوں کے برابر انعام
مارٹینا ہنگسمارٹینا ہنگس
تین سال کے وقفے کے بعد کامیابی کے ساتھ واپس
آندرے اگاسی ایک باب ختم
آندرے اگاسی بیس سال کھیل کر ریٹائر ہو گئے
اعصام الحقاعصام کا عمدہ آغاز
پاکستانی کھلاڑی ومبلڈن کے دوسرے راؤنڈ میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد