ومبلڈن : مساوی انعام کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آل انگلینڈ لان ٹینس اور کروکیٹ کلب نےاعلان کیا ہے کہ ومبلڈن مقابلوں میں خواتین کو بھی مردوں کے برابر انعام دیا جائےگا۔ انگلینڈ نے امریکہ اور آسٹریلیا کے طرز پر جیتنے والے سے لیکر پہلے راؤنڈ میں ہارنے والے مرد و خواتین کے لیے برابر کی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل صرف فرنچ اوپن مقابلے میں ہی جیتنے والے مرد و خواتین کوانعام کی مساوی رقم دی جاتی تھی۔ کھلاڑی اورانگلینڈ کلب کے افسران، مرد اور خواتین کھلاڑیوں کے درمیان اس امتیازی سلوک پر ایک عرصے سےنکتہ چینی کرتے رہے تھے۔ آل انگلینڈ کلب کے چیئرمین ٹم فلپ نے اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چمپئنز کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اختلافات کو ختم کر دیا جائے۔’ہمارا یقین ہے کہ برابر کا انعام دینے سے کھیل میں بہتری کے ساتھ ساتھ خواتین کھلاڑیوں کو ومبلڈن میں جوشاندار کردار ہے اس کا بھی صحیح حق ادا ہوگا۔‘ مسٹر فلپ کا کہنا تھا کہ اس سے ان خواتین کو بھی حوصلہ ملےگا جو ٹینس میں اپنا کیریئر بنا ناچاہتی ہیں۔’مختصرا یہ کہ ٹینس، خواتین کھلاڑی اور ومبلڈن سب کے لیے اچھا ہوا ہے۔‘ ومبلڈن تین بار چمپئن رہنے والی وینس ولیم نے اس فیصلے پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا’ دنیا کا عظم ترین ٹینس ٹورنامنٹ ایک اور عظیم بلندی پر پہنچ گیا ہے۔‘ روس کی کھلاڑی ماریہ شراپوا کا کہنا تھاکہ یہ فیصلہ خواتین کھلاڑیوں اور کھیل کے اہم مقام کے درمیان رشتے کو مضبوط کرےگا۔ تین بار ومبلڈن چمیئن رہنے والے جان میکنر نے بھی اس فیصلے کو سراہا ہے۔’ میرے خیال سے جب مرد و خواتین ایک ہی ٹورنامنٹ میں کھیل رہے ہوں تو انعام میں امتیازی سلوک قطعی درست نہیں ہے۔‘ گزشتہ برس برطانوی حکومت سمیت کئی تنظیموں نے بھی اس امتیازی سلوک کو ختم کرنے کی آواز اٹھائی تھی۔ | اسی بارے میں سیرینا دوسرے راؤنڈ میں | کھیل ومبلڈن نتائج: تصاویر میں | کھیل ومبلڈن: ثانیہ مرزاہارگئیں23 June, 2005 | کھیل فیڈرر اور ڈیونپورٹ فائنلز میں02 July, 2005 | کھیل ومبلڈن: فیڈرر کی شاندار کامیابی 09 July, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||