BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 October, 2007, 07:27 GMT 12:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دوسرا دن، پاکستان 140 پر چار آؤٹ

جب انضمام الحق بیٹنگ کرنے آئے تو تماشائیوں اور جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں نے تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا
قذافی سٹیڈیم لاہور میں جاری جنوبی افریقہ اور پاکستان کے درمیان دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز پاکستان کی ٹیم نے جنوبی افریقہ کی ٹیم کے پہلی انگز کے سکور 357 رنز کے جواب میں 140 رنز بنائے اور اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔

دوسرے دن کا کھیل ختم ہونے پر مصباح الحق اور انضمام الحق دونوں دس دس رنز پر کھیل رہے تھے۔

پاکستان کی ٹیم کے اوپنرز نے پاکستان کی ٹیم کو ایک اچھا آغاز فراہم کیا اور سلمان بٹ اور کامران اکمل نے گراؤنڈ کے چاروں طرف خوبصورت شارٹس کھیلے۔

پاکستان کی پہلی وکٹ نوے کے سکور پر گری جب سلمان بٹ ہیرس کی گیند پر گریم سمتھ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔انہوں نے اڑسٹھ گیندوں پر چالیس رنز بنائے جن میں سات چوکے شامل تھے۔

سلمان بٹ کے بعد یونس خان کھیلنے آئے لیکن ان کا قیام وکٹ پر بہت قلیل رہا۔ وہ صرف تین رنز بنا سکے اور اینڈرے نیل کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ یوں پاکستان کی دوسری وکٹ 93 کے سکور پر گری۔

یونس کے آؤٹ ہونے کے بعد محمد یوسف کھیلنے آئے۔

کامران اکمل 52 رنز بنا کر سمتھ کے ہاتھوں ہیرس کا گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ اس وقت پاکستان کا سکور ننانوے رنز تھا۔

محمد یوسف بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہیں ٹھہر سکے۔ انہوں نے پچیس رنز بنائے اور انہیں سٹین نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔ اس وقت پاکستان کا سکور 123 رنز تھا۔

کامران اکمل کے آؤٹ ہونے کے بعد انضمام الحق اپنے کیرئر کا آخری میچ کھیلنے آئے۔انضمام جب گراؤنڈ میں داخل ہوئے تو نہ صرف سٹیڈیم میں موجود تماشائیوں نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا بلکہ جنوبی افریقہ کی ٹیم نے دو طرف قطار بنا کر تالیاں بجاتے ہوئے انضمام کو خراج تحسین پیش کیا۔

انضمام الحق
لاہور کا ٹیسٹ انضمام الحچ کا آخری ٹیسٹ ہے

انضمام الحق کو پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ سکور کرنے والا کھلاڑی بننے کے لیے بیس رنز درکار ہیں۔ منگل کو جب وہ کھیلنے آئے تو ان کا 119 ٹیسٹ میچز میں سکور 8813 تھاجبکہ جاوید میاں داد کا سکور 124 ٹیسٹ میچز میں 8832 رنز تھا۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے پال ہیرس نے دو اور انڈرے نیل نے ایک وکٹ حاصل کی۔

آج کا کھیل آٹھ اوورز پہلے کم روشنی کے سبب ختم کر دیا گیا۔

اس سے قبل جنوبی افریقہ کی ٹیم اپنی پہلی انگز میں357 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

صبح جب کھیل شروع ہوا تو مارک باؤچر نے نو سکور سے اور اینڈرے نیل نے بغیر کسی رن کے بیٹنگ کا آغاز کیا۔

پاکستان کو پہلی کامیابی میچ کے آغاز ہی میں حاصل ہوگئی جب اینڈرے نیل، عمرگل کے پہلے اوور کی پانچویں گیند پر فارورڈ شارٹ لیگ پوزیشن پر مصباح الحق کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔اینڈرے نیل کوئی سکور نہ بنا سکے اور یوں جنوبی افریقہ کی ساتویں وکٹ کل کے سکور 259 پر گری۔ان کے بعد پال ہیرس کھیلنے آئے۔

پال ہیرس اور مارک باؤچر کے درمیان آٹھویں وکٹ کی شراکت میں 88 رن بنے اور جنوبی افریقہ کا سکور 347 تک پہنچ گیا۔اس موقع پر عمر گل کی گیند پر شعیب ملک نے شارٹ کور کی پوزیشن پر ہیرس کا کیچ لیا۔اس کے بعد جلد ہی جنوبی افریقہ کی تمام ٹیم آؤٹ ہو گئی۔

تین سو پچاس کے سکور پر سٹین آؤٹ ہوئے، انہیں دنیش کنیریا نے بولڈ کیا۔

ان کے بعد نتینی کھیلنے آئے لیکن اس موقع پر 54 رنز پر کھیل رہے مارک باؤچر جو کہ اعتماد سے بیٹنگ کر رہے تھے کنیریا کی گیند کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے اونچی شارٹ کھیل کر لونگ آن پر کھڑے فیلڈر عبدالرحمن کے ہاتھوں میں اپنا کیچ دے دیا۔

پاکستان ٹیم
سلمان بٹ، کامران اکمل، یونس خان، انضمام الحق، محمد یوسف، مصباح الحق، شعیب ملک، عبدالرحمن، عمر گل، محمد آصف، دنیش کنیریا، فیصل اقبال(بارہویں کھلاڑی)

جنوبی افریقن ٹیم
گریم سمتھ، ہرشل گبز، اے بی ڈولیئر، ژاک کیلس، ایش ویل پرنس،ہاشم آملہ، مارک باؤچر، اینڈرے نیل، پال ہیرس، مکایا نتنی، ڈیل شٹین، پال ڈومنی(بارہویں کھلاڑی)

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد