BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 July, 2007, 20:39 GMT 01:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آسٹریلیا انڈر 19 سکیورٹی بریفنگ

کراچی سٹیڈیم
آسٹریلیوی وفد پاکستان کے مختلف سٹیڈیمز کا دورہ کر رہا ہے
آسٹریلیا کرکٹ کی اے ٹیم اور آسٹریلیا انڈر 19 ٹیموں کی سکیورٹی اور ان کے دورے میں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان آنے والے وفد کو وزارتِ داخلہ کی جانب سے جمعرات کو بریفنگ دی جائے گی۔

آسٹریلیا کی اے اور انڈر 19 کرکٹ ٹیمیں ستمبر میں پاکستان کے دورے پر آنے والی ہیں۔

سکیورٹی وفد میں آسٹریلیا کرکٹ کے جنرل منیجر ٹیم آپریشنز مائیکل براؤن، پلیئرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو پال مارش، کرکٹ منیجر جیف آلرڈائس، ٹیم منیجر سٹیو برنارڈ، سکیورٹی مینیجر ریگی ڈ کسن اور بائیومکینک ایکسپرٹ ڈیرل فوسٹر شامل ہیں۔

سکیورٹی وفد کو وزارتِ داخلہ میں بریفنگ ایک ایسے موقع پر دی جارہی ہے جب وفاقی دارالحکومت لال مسجد کے واقعے کے بعد چیف جسٹس کے جلسے سے قبل ہونے والے خود کش حملے کی وجہ سے شہ سرخیوں میں ہے۔

آسٹریلیوی وفد نے بدھ کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر میرپور میں واقع کرکٹ سٹیڈیم کا دورہ کیا۔ اس وفد نے منگل کو لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور مقامی پولیس حکام سے بریفنگ لینے کے علاوہ لاہور اور شیخوپورہ کے سٹیڈیمز کا بھی دورہ کیا تھا۔

مائیکل براؤن نے لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی سکیورٹی ٹیم کا دورہ معمول کا حصہ لیکن بہت اہم ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کے اس دورے کا تعلق صرف انڈر19 اور اے ٹیموں کی سکیورٹی اور دیگر سہولتوں سے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آسٹریلوی سینئر ٹیم کے دورے کی سکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین دوبارہ پاکستان آئیں گے۔

آسٹریلوی ٹیم آئندہ سال مارچ میں پاکستان کے دورے پر آئے گی ۔دس سال کے عرصے میں یہ آسٹریلوی ٹیم کا پاکستان کا پہلا دورہ ہوگا۔ اسے2002ء میں پاکستان آنا تھا لیکن سکیورٹی کے خدشات کی بناء پر اس نے یہاں آنےسے انکار کردیا تھا اور پاکستان کو وہ سیریز مجبوراً کولمبو اور شارجہ میں کھیلنی پڑی تھی۔

آسٹریلوی ٹیم سے قبل جنوبی افریقی ٹیم کو بھی پاکستان کے دورے میں دو ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کھیلنی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس دورے کا جو شیڈول جاری کیا ہے اس میں پشاور میں بھی ون ڈے انٹرنیشنل میچ رکھا گیا ہے۔ گزشتہ سال بھارت کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل کے موقع پر آئی سی سی میچ ریفری کرس براڈ نے پشاور کے ارباب نیاز سٹیڈیم کو سہولتوں کے اعتبار سے بین الاقوامی کرکٹ کے لئے ناموزوں قرار دے دیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کو یقین ہے کہ آنے والے کرکٹ سیزن میں سکیورٹی کا مسئلہ درپیش نہیں ہوگا اور جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کی ٹیمیں معمول کے مطابق پاکستان آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ٹیم کو پاکستان آنے میں تشویش نہیں ہونی چاہئے۔ بین الاقوامی کرکٹ کے لیے پاکستان اتنا ہی محفوظ ہے جتنا کوئی اور ملک۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد