BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مونٹی کی دس وکٹیں،انگلینڈ فاتح
اولڈ ٹریفرڈ کی وکٹ پر پنیسر کا سامنا کرنا مشکل ہوگیا
سٹیو ہارمیسن کی دو سوویں وکٹ اور مونٹی پنیسر کی ایک سو ستاسی رنز کے عوض دس وکٹوں کی وجہ سے انگلینڈ تیسرے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر سیریز میں دو صفر کی برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

میچ کے آخری دن چندرپال (116 ناٹ آؤٹ) کی شاندار اننگز کی بدولت مہمان ٹیم کو امید ہونے لگی تھی کہ وہ شاید 455 رنز کا ریکارڈ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے، لیکن لنچ کے بعد ہارمیسن کے ایک ہی اوور میں ٹیلر اور فیڈل ایڈورڈ کے آؤٹ ہونے کے بعد اس کے امکانات کم ہو گئے۔

ویسٹ انڈیز کی امیدوں پر اس وقت مکمل پانی پھر گیا جب مونٹی نے کوری کالیمور کو آؤٹ کر دیا۔ لنچ سے پہلے کے سیشن میں مونٹی انگلینڈ کو دنیش رامدین اور ڈیرن سامی سے چھٹکارا دلا چکے تھے۔

تیسرے ٹیسٹ میں فتح سے مائیکل وان انگلینڈ کے کامیاب ترین کپتان بن گئے ہیں۔ ان کی قیادت میں یہ انگلینڈ کی اکیسویں فتح ہے۔

جمعہ کو ڈرہم کے میدان میں ویسٹ انڈیز سیریز کے چوتھے اور آخری میچ میں صرف اپنی عزت کی خاطر کھیلے گا، تاہم تیسرے میچ میں اپنی کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں کسی خاص شرمندگی کا سامنا بھی نہیں ہونا چاہیے۔

یہ چندر پال کی پندرہویں ٹیسٹ سینچری ہے

آخری روز 301 رنز پانچ کھلاڑی آؤٹ پر جب انہوں نے کھیل کا آغاز کیا تو ویسٹ انڈیزکی حالت یقیناً خراب تھی لیکن پھر وہ وقت بھی آیا کہ چندر پال کی اننگز کے دوران ایسا لگا کہ وہ میچ جیت بھی سکتے ہیں۔

بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے تجربہ کار چندر پال کی اننگز محتاط بیٹنگ کی شاندار مثال تھی، خاص طور پنیسر کی بولنگ کے خلاف جن کی گیندیں خطرناک طریقے سے سپِن ہو رہی تھیں۔

اسی لیے اس وقت کسی کو حیرت نہیں ہوئی جب بائیں ہاتھ سے سلو سپِن کرانے والے پانیسر کے دوسرے ہی اوور میں رامدین کی کچھ نہ چلی اور وہ وکٹوں کے پیچھے کیچ ہو گئے۔

رامدین کے بعد سامی یہ تہیہ کر کے میدان میں اترے کی وہ فتح کے لیے پُرامید رہیں گے۔ اور انہوں ایسا کیا بھی، خاص طور پر سٹیو ہارمسن کو دو اور خود پنسیر کو ایک چوکا مار کر۔ کئی مرتبہ قسمت نے بھی سامی کا ساتھ دیا ، خاص طور اس وقت جب اینڈریو سٹراس گلی میں ان کا کیچ نہ لے سکے۔انگلینڈ کو سامی سے چھٹکارا تب ملا جب پنیسر نے اپنی ہی گیند پر انکا ایک مشکل کیچ لے لیا۔

سامی کے آؤٹ ہونے کے بعد ویسٹ انڈیز کی جلد ہی چھٹی ہو جاتی اگر کالنگوڈ سلِپ میں ایک آسان کیچ نہ چھوڑ تے۔

چندپال، جنہوں نے 176 گیندوں پر اکاسی رنز کے ساتھ دن کا آغاز کیا تھا، کی احتیاط پسندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے سو رنز مکمل کرنے کے لیے مزید ستاون گیندوں کا سامنا کیا۔ یہ ان کی پندرہویں ٹیسٹ سینچری ہے۔

دوسری جانب ٹیلر نے بھی ان کا خوب ساتھ دیا اور جب تک ٹیلر وکٹ پر رہے انگلینڈ قطعاً دعوٰی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ لنچ کے بعد میچ جیت جائے گا۔

اور شاید جیسا ہونا چاہیے تھا ویسا ہی ہوا اور ویسٹ انڈیز کی شکست پر مہر مونٹی پانیسر نے ہی ثبت کی۔جب کالیمور کے بلے کو چھوتی ہوئی گیند شارٹ لیگ کی جانب گئی تو ایئن بیل ایک عمدہ کیچ لینے کے لیے تیار کھڑے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد