تنازعہ سچن تندولکر پر حق کا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کھیلوں کی مصنوعات بنانے والی کمپنی ایڈی ڈاس نے تجارتی امور کے حقوق کے کمیشن ’ایم آر ٹی پی سی‘ میں سچن تندولکر کو اشتہارت کے لیے استعمال کرنے پر اپنی مخالف کمپنی نائیکی اور بھارتی کرٹ بورڈ کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔ ایڈی ڈاس کا کہنا ہے کہ سچن تندولکر نے صرف ان کے ساتھ اشتہار کا معاہدہ کر رکھا ہے اور معاہدے کے تحت ذاتی طور پر وہ کسی دوسری کمپنی کے اشتہارت نہیں کر سکتے۔ ایڈی ڈاس نے کمیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ سچن تندولکر کو بھی اسی بارے میں ہدایت جاری کرے۔ نائیکی نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے ساتھ ایک معاہد کیا تھا جس کے تحت کھلاڑی کھیل کے دوران کپڑوں پر نائیکی کے لوگو استعمال کرتے ہیں۔ ایڈی ڈاس کا کہنا ہے کہ کھلاڑی کھیل کے بعد ذاتی اشتہارات میں حصہ نہیں لے سکتے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری نرجن شاہ سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’اس کی تفصیلات ابھی ہمیں معلوم نہیں ہیں اور بورڈ کا قانونی شعبہ اس بارے میں غور و فکر کر کے اپنی حکمت عملی تیار کرےگا‘۔ ایڈی ڈاس نے اپنی درخواست میں کرکٹ بورڈ، نائیکی، سچن تندولکر اور ان کی مینیجر کمپنی آئی کونکس کو کمیشن کے سامنے جواب کے لیے طلب کیا ہے۔ کمپنی کے وکیل شیلندر کے کپور نے کہا کہ آئی کونکس اور تندولکر کوصرف بیان دینے کے لیے بلایا گيا ہے جبکہ کرکٹ بورڈ اور نائیکی کے خلاف درخواست دی گئی ہے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ اس معاملے پر آئندہ سماعت جولائی میں ہوگی تب کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ نے ٹیم کے یونیفارم کے لیے نائیکی کے ساتھ پانچ برس کا ایک معاہدہ کر رکھا ہے۔ دو ہزار پانچ میں اس کی نیلامی ہوئی تھی جسے نائیکی نے تقریباً دو کروڑ روپے میں حاصل کیا تھا۔ اس بولی میں ایڈی ڈاس دوسرے اور ریباک تیسرے نمبر پر رہا تھا۔ | اسی بارے میں ’ادائیگی نہ کریں‘ | کھیل تندولکر:گاوسکر کا ریکارڈ برابر کر دیا11 December, 2004 | کھیل بحث، تندولکر کےنمبر کی | کھیل تندولکر کو چوٹ لگ گئی02 May, 2007 | کھیل فیراری مصیبت بن گئی11 August, 2003 | کھیل پی سی بی کو آئی سی سی کی وارننگ24 December, 2003 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||