BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 December, 2003, 18:03 GMT 23:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی سی بی کو آئی سی سی کی وارننگ

کھلاڑیوں کے ملبوسات پر کئی قسم کے لوگو ہوتے ہیں

ایک غیر رجسٹرڈ کمپنی سے کھلاڑیوں کی کٹ ( ملبوسات ) کا معاہدہ کرنا پاکستان کرکٹ بورڈ کے لئے مہنگا سودا ثابت ہوا ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو سختی سے متنبہ کیا ہے کہ وہ نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستانی ٹیم کی شرٹس سے ایشیایورپ نامی کمپنی کا لوگو ہٹالے کیونکہ مذ کورہ کمپنی کا کرکٹ کے سامان کی تیاری سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ کمپنی آئی سی سی سے رجسٹرڈ نہیں ہے۔

آئی سی سی کی پاکستان کرکٹ بورڈ کو دی گئی وارننگ اس لئے غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ ون ڈے سیریز میں بھی مذکورہ کمپنی کا لوگو استعمال کیا تھا۔ اس وقت بھی آئی سی سی نے پی سی بی پر یہ بات واضح کردی تھی کہ ٹیم کے کھلاڑی کسی ایسی کمپنی کا تشہیری نشان ( لوگو ) اپنی شرٹس پر آویزاں نہیں کرسکتے جو اس سے منظورشدہ نہ ہو۔

اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے جنرل منیجر کرکٹ آپریشنز ذاکرخان نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ مذکورہ کمپنی سے معاہدہ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے موقع پر ہوا ہے لہذا آئی سی سی کو سیریز کے دوران اس کی اطلاع دی گئی ہے اور تمام معاملات بخوبی طے پاجائیں گے، لیکن آئی سی سی کی تازہ ترین وارننگ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے اس صورتحال کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔

بین الاقوامی کرکٹ اس وقت جس تیزی سے کمرشل روپ اختیار کرتی جارہی ہے اس میں کھلاڑی اور امپائرز کی شرٹس اسپانسرز سے سجی نظرآتی ہیں لیکن یہ تمام اسپانسرز آئی سی سی سے منظورشدہ ہوتے ہیں۔ کھلاڑی ( اب امپائرز بھی ) اپنی شرٹس کی آستینوں پر جو شولڈر لوگو ( تشہیری نشان ) استعمال کرتے ہیں وہ اس کمپنی کا ہوتا ہے جو کھیلوں کا سامان تیار کرکے انہیں فراہم کرتی ہو۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا ایک عرصے سے اے جے اسپورٹس نامی کمپنی سے معاہدہ رہا جو ختم ہونے پرتجدید نہیں کیاگیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے جنرل منیجر مارکیٹنگ زاہد بشیر نے لندن کی ایک کمپنی ایشیایورپ سے معاہدہ اس دعوے کے ساتھ کیا کہ یہ کمپنی پاکستان کرکٹ بورڈ کو سابقہ کمپنی سے زیادہ رقم ادا کرے گی لیکن یہ معاہدہ کرتے وقت یہ بات نظرانداز کردی گئی کہ مذکورہ کمپنی آئی سی سی سے منظورشدہ نہیں۔ جس کا پتہ اس وقت چلا جب آئی سی سی نے پی سی بی کو لکھے گئے خط میں سختی سے واضح کردیا کہ پاکستانی کرکٹرز اس کمپنی کا لوگو استعمال نہیں کرسکتے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے مینوفیکچررز کی تبدیلی کی آئی سی سی کو اطلاع نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ون ڈے والے دن یعنی 29 نومبر کو دی، حالانکہ یہ معاہدہ پہلے ہوچکا تھا اور آئی سی سی کے قواعد و ضوابط کے تحت اسے اسپانسر کی تبدیلی کی اطلاع سیریز سے قبل دی جانی چاہیئے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم نے نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں غیر رجسٹرڈ کمپنی کی کِٹ استعمال کرکے آئی سی سی کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی جس کی زیادہ سے زیادہ سزا 25 ہزار روپے جرمانہ ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو رمیز راجہ نے تسلیم کیا ہے کہ آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو غیررجسٹرڈ کمپنی کا لوگو استعمال نہ کرنے کے لئے کہا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی سے رجسٹریشن اس کمپنی کی ذمہ داری ہے پاکستان کرکٹ بورڈ کی نہیں۔ لیکن مبصرین کا یہ سوال ہے کہ کھلاڑیوں کی کِٹ کے لئے معاہدہ کرتے وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی کے قواعد وضوابط کے بارے میں معلومات رکھنی چاہئیں تھیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا چاہیئے تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے جنرل منیجر مارکیٹنگ کی اسپانسرشپ کے بارے میں آئی سی سی کے قوانین سے لاعلمی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ شولڈر لوگو کے لئے انہوں نے موبائل فون کی ایک بین الاقوامی کمپنی سے معاہدہ کرنے کی نوید کرکٹ بورڈ کو سنائی تھی جس پر انہیں بتایاگیا کہ شولڈر لوگو اس کمپنی کا چسپاں ہوتا ہے جو کِٹ اور کھیلوں کا سامان تیار کرتی ہے۔

ظاہر ہے کہ موبائل فون کمپنی کرکٹ کا سامان تیار نہیں کرتی، دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم ون ڈے سیریز کے لئے جو کِٹ پاکستان پہنچی تھیں وہ کھلاڑیوں نے غیرمعیاری قرار دے کرمسترد کردیں جس پر پاکستان کرکٹ ٹیم نے سابقہ مینوفیکچرر کی کِٹس استعمال کیں لیکن اس پر نئے مینوفیکچرر ( اسپانسر) کا لوگو چسپاں کیا گیا۔ جب پاکستان ٹیم نیوزی لینڈ روانہ ہوئی تو اس وقت بھی کھلاڑیوں کے پاس مکمل کٹ نہیں تھیں۔ اسی قسم کی صورتحال کا سامنا بھارت میں سہہ فریقی ون ڈے ٹورنامنٹ کھیلنے والی پاکستان اے کرکٹ ٹیم کو بھی کرنا پڑا ہے جس کی کٹس کسٹم کلیئرنس نہ ہونے کی وجہ سے پہلے میچ تک کھلاڑیوں تک نہیں پہنچ سکی تھیں اور انہیں مقامی طور پر تیار کردہ کٹس استعمال کرنی پڑیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے جنرل منیجر مارکیٹنگ اس سے قبل جیو ٹی وی کو دیئے گئے نشریاتی حقوق کے تنازعہ میں بھی ذرائع ابلا غ کی زبردست تنقید کی زد میں رہے تھے اور پی سی بی کے نئے چیئرمین کی جانب سے ان پر استعفی دینے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد