وولمر قتل:’تحقیقات پر پورا اعتماد ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے آنجہانی کوچ باب وولمرکے ’قتل‘ کے بعد جمیکا بھیجے جانے والے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے سینئر افسر زاہد حفیظ چوہدری نے باب وولمر کے قتل کے سلسلے میں جمیکن پولیس کی تحقیقات پر مکمل اعتماد ظاہر کیا ہے۔ زاہد حفیظ چوہدری نے بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ جمیکن پولیس جو تحقیقات کررہی ہے انہیں اس پر مکمل اعتماد ہے لیکن وہ یہ بات واضح کردیں کہ وہ یہاں ان تحقیقات میں مدد کرنے کے لیے موجود ہیں لیکن انہیں’شیئر‘ نہیں کر رہے ہیں اس کے علاوہ وہ اس مرحلے پر یہ بتانے سے معذرت کرتے ہیں کہ انہیں جائے وقوعہ دکھایا گیا یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا احترام کرتے ہوئے وہ اس سلسلے میں اپنا مؤقف نہیں دینا چاہتے لیکن وہ ایک بات ضرور کہیں گے کہ اس پورے معاملے میں ابھی تک کوئی مشکوک نہیں ہے۔ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ’تمام تحقیقات معمول کے تحت ہو رہی ہیں۔ وہ لوگ ڈیٹا جمع کر رہے ہیں۔ وہ اس عمل کو مکمل کرنے میں مصروف ہیں اور ہم مل کر ان کے ساتھ کام کررہے ہیں اور حکومت پاکستان اور حکومت جمیکا کو ایک دوسرے پر مکمل بھروسہ ہے‘۔ زاہد حفیظ چوہدری سے پوچھا گیا کہ کیا پولیس نے تفتیش کے حوالے سے کچھ سوالات کیے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ سفارت کار ہیں اور تحقیقات میں مدد کے لیے آئے ہیں لہذا ان سے اس طرح کے سوالات نہیں کیے جاسکتے جیسا کہ ان لوگوں سے کئے جارہے ہیں جو اس واقعے سے تعلق رکھتے ہیں یا جن کی گواہی اس ضمن میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ زاہد چوہدری نے کہا کہ خود ان کے ذہن میں جو سوالات تھے وہ انہوں نے جمیکن پولیس کے افسران سے پوچھے ہیں جن کا انہیں تسلی بخش جواب ملا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابھی تک کسی بھی مرحلے پر پاکستانی ٹیم کے کسی بھی کھلاڑی کو نہ حراست میں لیا گیا، نہ روکا گیا اور جو کچھ ہوا وہ معمول کی تحقیقات کا تقاضا تھا۔
ان کے مطابق پاکستانی ٹیم نے رضاکارانہ طور پر ان تحقیقات میں مدد کی کیونکہ جمیکن پولیس کو ان لوگوں کی مدد اور تعاون درکار تھا جن کی وولمر تک رسائی تھی لہذا انہیں اس عمل میں شامل کیا گیا۔ زاہد چوہدری کے مطابق جمیکن حکومت نے پاکستانی ٹیم کی جانب سے تحقیقات میں تعاون کو بے حد سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ یہاں آئے تھے تو پہلی بات ان کے پیش نظر یہ تھی کہ پاکستانی ٹیم کو شیڈول کے مطابق یہاں سے روانہ کیا جائے جو ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرے اسٹیونسن اور اسد مصطفٰی خود اپنی مرضی سے یہاں رکے ہیں ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ باب وولمر کی میت بھی روانہ کی جانی ہے اور دیگر سامان بھی ہے اس لیے یہ دونوں یہاں موجود ہیں۔ زاہد چوہدری کا کہنا ہے کہ یہاں کے ماحول میں قیاس آرائیوں کا زور ہے۔افواہیں گردش کر رہی ہیں اور ضرورت اس بات کی تھی کہ ان افواہوں کا خاتمہ کیا جائے۔ جمیکن حکومت بھی یہی چاہتی ہے لہذٰا ہم نے انہیں یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ ہم مل کر کام کررہے ہیں اور انہیں جو بھی مدد درکار ہے وہ فراہم کر رہے ہیں۔ زاہد چوہدری نے کہا کہ وہ جمیکن حکومت کے شکرگزار ہیں جس نے سارے معاملے میں انہیں شریک رکھا ہے۔ ہر معاملے کی معلومات بروقت فراہم کی ہے اور انہیں کوئی مسئلہ درپیش دکھائی نہیں دیتا اور نہ ہی پریشانی نظرآتی ہے۔ |
اسی بارے میں پیگیسز ہوٹل پر میڈیا کی یلغار27 March, 2007 | کھیل وولمر باپ جیسے تھے: یونس خان26 March, 2007 | کھیل ’تفتیش میں وقت لگ سکتا ہے‘27 March, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||