BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 January, 2007, 17:06 GMT 22:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عبدالرحمٰن،شبیر کو تیاری کی ہدایت

بولرز کے فٹنس مسائل کے پیش نظر شبیر احمد کو جنوبی افریقہ بھیجا جا رہا ہے
شعیب اختر اور عمرگل کے ان فٹ ہونے کے بعد فاسٹ بولر شبیراحمد اور لیفٹ آرم سپنر عبدالرحمن کو جنوبی افریقہ بھیجا جا رہا ہے۔

ہمسٹرنگ کا شکار شعیب اختر اور ٹخنے کی تکلیف میں مبتلا عمرگل وطن واپس آ رہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شبیر احمد اور عبدالرحمٰن کو کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنوبی افریقہ جانے کے لیے تیار رہیں۔

شبیراحمد مشکوک بولنگ ایکشن کی وجہ سے آئی سی سی کی ایک سالہ پابندی مکمل کرکے گزشتہ ماہ کرکٹ کے میدان میں واپس آئے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے دورے کے لیے اعلان کردہ ٹیم میں سلیکٹرز نے کم میچ پریکٹس کی بنیاد پر انہیں ٹیم میں شامل نہیں کیا تھا۔ تاہم اب پاکستانی فاسٹ بولرز کے فٹنس مسائل کے پیش نظر شبیر احمد کو جنوبی افریقہ بھیجا جا رہا ہے۔

30 سالہ شبیراحمد10 ٹیسٹ میچوں میں51 اور 32 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں33 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔26 سالہ عبدالرحمٰن نے ابھی تک کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا ہے تاہم تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں وہ چھ وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

شعیب اختر جنہیں دوسرے کرکٹ ٹیسٹ سے قبل جنوبی افریقہ بھیجا گیا تھا پورٹ الزبتھ ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں چار وکٹیں حاصل کرنے کے بعد ایک بار پھر ان فٹ ہوگئے۔ اسی دوران وہ کوچ باب وولمر کے ساتھ ٹیم کے پریکٹس سیشن اور ڈریسنگ روم میں بھی الجھ پڑے۔

شعیب ایک اننگز کے بعد ہی ان فٹ ہوگئے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ شعیب اختر کو ٹیم میں شامل کرانے کے لیے جلد بازی کا مظاہرہ کیا گیا حالانکہ انہوں نے تجویز پیش کی تھی کہ تقریباً نو ماہ سے کوئی ٹیسٹ نہ کھیلنے والے شعیب اختر کو مکمل فٹنس کے لیے تین چار فرسٹ کلاس میچز کھلائے جائیں۔

پاکستانی ٹیم منیجمنٹ شعیب ملک کے بارے میں بھی کوئی فیصلہ نہیں کرسکی ہے جو ٹیسٹ سیریز شروع ہونے سے قبل ہی ان فٹ ہوچکے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ٹیم منیجمنٹ نے وکٹ کیپر کامران اکمل کی مایوس کن کارکردگی کو دیکھتے ہوئے دوسرے وکٹ کیپر ذوالقرنین کو جنوبی افریقہ میں ہی روکنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پہلے انہیں ٹیسٹ سیریز کے اختتام پر وطن واپس بھیجا جارہا تھا۔

ٹیسٹ سیریز کے اختتام پر عاصم کمال، شاہد نذیر، فیصل اقبال اور دانش کنیریا کو وطن واپس بھیج دیا جائے گا جبکہ ون ڈے سیریز کے لیے شاہد آفریدی، عمران نذیر، عبدالرحمٰن اور عبدالرزاق کی پاکستانی ٹیم میں شمولیت کا امکان ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد