امریکی دشمن کے لئے خلاء بھی نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریک نے خلاء میں اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر نئی اور سخت پالیسی پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اس کے ’دشمن‘ بُرے عزائم کے ساتھ خلاء میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔ اسی پالیسی کی تفیصل اس دستاویز سے ملی ہے جس پر صدر جارج بش نے دستخط کر دیئے ہیں۔ دستاویز کےمطابق امریکہ کے لئے خلاء میں کسی عمل کی آزادی اتنی ہی اہم ہے جتنا فضائی یا سمندری طاقت کے استعمال کی آزادی کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس دستاویز کے تحت خلائی ہتھیاروں پر پابندی کی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا جائے گا۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اس پالیسی میں یہ نہیں کہا گیا کہ خلاء میں ہتیار نصب کیئے جائیں۔ کچھ فوجی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خلاء میں ہتھیاروں کے حوالے سے مذاکرات سے انکار کی وجہ سے عالمی سطح پر یہ شکوک پیدا ہو سکتے ہیں کہ امریکہ خود خلاء کے لئے ہتھیار تیار کرے گا۔ دس صفحات پر مشتمل دفاعی نوعیت کی یہ دستاویز واضح کرتی ہے کہ قومی سلامتی کا انحصار بہت زیادہ حد تک خلائی صلاحیتوں پر ہے۔ اس دستاویز میں امریکہ کی تجارتی خواہشات کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور خلائی سیکٹر میں امریکیوں کی ’ممکنہ کاروباری سرگرمیوں‘ کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ پالیسی میں سن دو ہزار ایک میں پنٹاگون کی جانب سے ظاہر کردہ ان خدشات کا بھی ذکر ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ترقی سے دشمن امریکی سیٹلائٹس کے مدار میں خلل پیدا کر سکتے ہیں۔ صدر بش نے نئی خلائی پالیسی کی اس دستاویز پر اگست کے مہینے میں دستخط کئے تھے لیکن اس کی اشاعت اب کی گئی ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں صدر ریگن نے دفاعی شیلڈ کا خیال پیش کیا تھا تاکہ امریکہ کی طرف آنے والی جوہری میزائلوں کو راستے ہی میں روک کر تباہ کیا جا سکے۔ | اسی بارے میں ’کہیں دہشت گرد خلاء میں نہ چلے جائیں‘09 January, 2006 | آس پاس خاتون خلائی سیاح واپس پہنچ گئیں29 September, 2006 | نیٹ سائنس خلائی شٹل کی لینڈنگ مؤخر20 September, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||