خلائی شٹل کی لینڈنگ مؤخر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی شٹل ’ایٹلانٹس‘ کے گرد ایک پراسرار چیز کی موجودگی کے بعد اس کی لینڈنگ چوبیس گھنٹے کے لیے مؤخر کردی گئی ہے۔ پروگرام کے مطابق اس شٹل کو بدھ کو زمین پر اترنا تھا لیکن اب اُسے خلائی مدار میں ہی روک دیا گیا ہے۔ نئے پروگرام کے مطابق توقع ہے کہ یہ شٹل جمعرات کو کینیڈی خلائی مرکز پر ( 10.15 GMT) پر اترے گی۔ ’ایٹلانٹس‘ کے گرد ویڈیو کیمرے میں ایک ناقابل شناخت چیز تیرتے ہوئے دیکھی گئی جس بارے میں انجنیئرز تحقیقات کر رہے ہیں۔ کیمرے میں نظر آنے والے آثار کی بنیاد پر کہا جارہا ہے کہ یہ ایک سیاہ اور چھوٹی سی کوئی چیز ہے۔ یہ چیز اس وقت نظر آئی جب انجنیئرز شٹل کی واپسی سے قبل اس کا معائنہ کر رہے تھے۔ ماہرین کے مطابق شٹل کی لینڈنگ موخر ہونے کے بعد جہاں اس پراسرار چیز کا پتہ چلایا جائے گا وہاں فلوریڈا میں جس جگہ اُسے اترنا تھا وہاں موسم کی خرابی سے بچنے کے لیے وقت بھی مل جائے گا۔ خلائی شٹل کی انتظامیہ نے مزید تحقیقات کی ضرورت کے پیش نظر خلابازوں کو ’روبوٹ آرم‘ اور ٹیلی ویژن کیمرے کا اینٹینا بند کرنے سے روک دیا ہے۔ سپیس شٹل کے پروگرام مینیجر وان ہیل نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آخر یہ کیا چیز ہے؟ اور کہیں یہ زیادہ خطرہ تو نہیں جسے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ’ہم خلا میں اپنا سفر جاری رکھنے سے قبل یقین کرنا چاہتے ہیں کہ ہم محفوظ ہیں‘۔ سمجھ میں نہ آنے والی اس چیز کے علاوہ موسم کی خرابی کی وجہ سے بھی خلائی ادارہ ناسا اس کی لینڈنگ کا وقت تبدیل کرنے پر غور کر رہا تھا۔ ایٹلانٹس ایک تعمیری مشن پر تھا اور خلائی سٹیشن کے ساتھ ’سولر ونگز‘ نصب کرکے واپس آرہا تھا۔ اس شٹل نے اتوار کے روز خلائی سٹیشن چھوڑ دیا تھا تاکہ وہاں سویوز کرافٹ کے لیے جگہ خالی ہوسکے۔ ’سویوز کرافٹ‘ میں ایک خلائی سیاح خاتون انوشا انصاری بھی سوار ہیں اور یہ شٹل بدھ کو ( 0524GMT) خلائی سٹیشن پر اترنی ہے۔ | اسی بارے میں شٹل: خلا میں مرمت کامیاب 02 August, 2005 | نیٹ سائنس ڈسکوری مرکز پر پہنچ گئی 22 August, 2005 | نیٹ سائنس مس انصاری: پہلی خاتون خلائی سیاح18 September, 2006 | نیٹ سائنس روشنی سے چلنے والا خلائی جہاز 21 June, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||