اور انگلینڈ ورلڈ کپ جیت گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب بھی فٹبال کا عالمی کپ قریب آتا ہے یا اس کا ذکر ہوتا ہے تو مجھے انگلینڈ میں سنہ چھیاسٹھ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ وہ اس لیے بھی کہ اس ورلڈ کپ کو نہ صرف انگلینڈ نے جرمنی کو چار دو سے شکست دے کر اپنی تاریخ میں پہلی بار کپ جیتا بلکہ اس لیے بھی کہ ان ستانوے ہزار تماشائیوں میں جنہوں نے ویمبلی( wembley ) میں یہ میچ دیکھا میں بھی میں شامل تھا۔ یہ میچ انگلینڈ میں فٹ بال کی تاریخ کا ایک اہم دن تھا اور نہ صرف سٹیڈیم میں موجود لوگ والہانہ نعرے لگا رہے تھے، گانے گا رہے تھے بلکہ پورے ملک کے ہرشہر اور ہر گلی میں ایک جشن کا سماں تھا۔ انگلینڈ ورلڈ کپ جیت چکی تھی۔ انگلینڈ کی یہ جیت اضافی وقت میں اس وقت ہوئی جب نوے منٹ کے کھیل میں انگینڈ اور جرمنی نے دو دو گول کرکے کھیل برابر کر دیا تھا۔ کھیل کے بارہویں منٹ میں جرمنی کے ہیلمٹ ہیلر( Helmut Heller ) نے انگلینڈ پر گول کر دیا اور اس کے صرف چار منٹ بعد ہی جیف ہرسٹ ( Geoff Hurst) نے گول برابر کر دیا۔ کھیل ختم ہونے میں ابھی بارہ منٹ باقی تھے کہ انگلینڈ کی طرف سے مارٹن پیٹرز ( Martin Peters) نے بھی ایک گول داغ دیا۔ تماشائیوں نے چاروں طرف سے انگلینڈ انگلینڈ کے نعرہ لگانا شروع کر دیے لیکن میچ ختم ہونے میں ایک منٹ باقی تھا کہ داہنے بازو پر کھیلنے والےجرمن وولفگینگ ویبر جب دو دو کے سکور پر اضافی وقت کا آغاز ہوا تو جیف ہرسٹ نے زوردار کک لگائی، بال گول کے کھمبے سے ٹکرا کر لائین پر گری اور اندر نہیں گئی لیکن ریفری نے انگلینڈ کے حق میں گول دے دیا۔اس پر جرمن ٹیم اور تماشائی برہم ہو گئے۔ ریفری کا فیصلے کو غلط کہا گیا لیکن اس کا فیصلہ آخری بھی تھا۔ ہرسٹ کو ایک اور موقع ملا تو انہوں نے اس کا بھی پورا فائدہ اٹھایا اور فائنل میں اپنا تیسرا گول بھی کر دیا۔ اس طرح کسی بھی ورلڈ کپ کے فائنل میں ہیٹ ٹرک کرنے والے یہ پہلے کھلاڑی بن گئے۔ انگلینڈ نے یہ فائنل چار دو سے جیت کر کپ حاصل کر لیا۔ برطانیہ کی ملکہ الزبتھ نے جب جولز رمٹ (Jules Rimet ) ٹرافی انگلینڈ کے کپتان بوبی مور ( Bobby Moore) کے حوالے کی تو سٹیڈیم تالیوں اور نعروں سے گونج اٹھا۔
یہ ٹرافی ورلڈ کپ شروع ہونے سے پہلے کسی ایک نمائش سے چوری کر لی گئی تھی اور کچھ دنوں بعد ایک کتے نے ، جس کا نام پکل ( Pickle) تھا ایک پارک میں اخبار میں لپٹی ہوئی پائی تھی۔ سٹیڈیم سے جب میں باہر نکلا تو راستہ چلنا مشکل تھا۔چاروں طرف شور وغل اور جشن کا سماں۔ نہ صرف لندن بلکہ برطانیہ کے ہر شہر، ہر گلی کوچے میں لوگوں نے چراغاں کیا ہوا تھا اور سڑک پر ہر کار اور بس اپنا ہوٹر بجا رہی تھی۔ رات گئے تک یہی سماں تھا۔ چھ میل پیدل چل کر جب میں بیز واٹر ( Bayswater ) آیا جہاں میں دو پونڈ ہفتہ پر ایک کمرے میں رہتا تھا تو ریڈیو پر یہ خبر سنی کہ برطانیہ کے وزیراعظم ہیرلڈ ولسن ( Harold Wilson ) فاتح ٹیم سے ملنے ان کے ہوٹل جا رہے ہیں۔ یہ رائل گارڈن ہوٹل جو کہ ہائی سٹریٹ کنزنگٹن (high street kensington ) میں اب بھی موجود ہے وہاں ٹیم ٹھہری ہوئی تھی۔ میں اپنے کمرے سے نکل کر رات کے گیارہ بجے پیدل چلتا ہوا جب ہوٹل کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہوا تو اس وقت انگلینڈ کی ٹیم ہوٹل کی گیلری میں موجود تھی اور ان کے ساتھ ہیرلڈ ولسن کپ اٹھائے ہوئے کھڑے تھے۔تماشائیوں کا ایک ہجوم تالیاں بجا کر اور نعرے لگا کر ٹیم کو مبارکباد دے رہا تھا۔
اس ٹورنامنٹ میں سولہ ٹیموں نے حصہ لیا تھا جس میں بتیس میچ کھیلے گئے اور نواسی گول ہوئے۔ اس ورلڈ کپ میں پرتگال کے سیاہ فام کھلاڑی یوسبیو (Eusebio) نے نو گول کیے، یعنی سب سے زیادہ گول۔ بہت ہی کمال کے کھلاڑی تھے۔ ان کی تیزرفتاری، برازیل کے جادوگر کھلاڑی پیلے سے کچھ کم نہ تھی۔ اسی ورلڈ کپ میں مجھے یاد ہے کے جب برازیل کی ٹیم کو پکاڈلی سرکس انگلینڈ کے ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے کپتان بوبی مور یہاں لندن میں کینسر کے مرض میں مبتلا ہو کر جوانی میں ہی انتقال کر گئے۔ انگلینڈ کے گول کیپر گورڈن بینکس کار کے حادثے میں اپنی ایک آنکھ گنوا بیٹھے اور فٹبال کو خیرآباد کہا۔ فائنل میں ہیٹ ٹرک کرنے والے جیف ہرٹس اب سر جیف ہرٹس ہیں جبکہ جرمنی کے کپتان فرانسس بیکنبور (Francis Backenbaur ) اس وقت جرمنی میں فٹبال کے چیف ہیں۔ سنہ چھیاسٹھ کے ورلڈ کپ کے تمام میچ ویمبلی سٹیڈیم میں کھیلے گئے سوائے فرانس اور یوراگوئے کے میچ کے جو کہ وائٹ سٹی سٹیڈیم میں کھیلا گیا۔ اب اس جگہ پر بی بی سی ٹی وی اور ریڈیو کے سٹوڈیوز ہیں۔ ورلڈ کپ پہلی بار 1930 میں کھیلا گیا تھا اور انگلینڈ نے صرف ایک بار جیتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انگلینڈ اس ورلڈ کپ میں تاریخ دہرا سکتا ہے یا نہیں۔ | اسی بارے میں انگلینڈ کے تماشائیوں کو تنبیہ25 June, 2006 | کھیل ورچوئل ریپلے: انگلینڈ بمقابلہ ایکواڈور24 June, 2006 | کھیل انگلینڈ کے رونی فِٹ ہیں12 June, 2006 | کھیل ’وہ کرکٹر جنہیں گھٹنے لے بیٹھے‘03 June, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||