’جلد بازی نہیں کروں گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کا کہنا ہے کہ شعیب اختر کی تازہ ترین سکین رپورٹ حوصلہ افزا ہے اور ان کا سٹریس فریکچر ٹھیک ہو رہا ہے۔ باب وولمر کا کہنا ہے کہ’ اب ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ اس کے ٹخنے پر بوجھ ڈال سکیں مطلب یہ کہ وہ دوڑ سکتے ہیں اور دن میں چار پانچ اوورز کرا سکتے ہیں لیکن میں شعیب کی ٹیم میں واپسی کے لیئے جلد بازی نہیں کرنا چاہتا‘۔ وولمر نے بتایا کہ شعیب اختر کو مکمل طور پر میدان میں واپسی کے لیئے ابھی بھی تین چار ہفتے درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ فاسٹ بولر کی واپسی کے لیئے جلد بازی کے حق میں نہیں کیونکہ اس سے شعیب کا کریئر داؤ پر لگ سکتا ہے۔ رانا نویدالحسن کی فٹنس کے بارے میں باب وولمر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کے مطابق وہ ایک ہفتے آرام اور علاج کرائیں گے جس کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ وہ کھیلنے کے قابل ہیں یا انہیں سرجری کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔ پاکستانی ٹیم کے کوچ کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ بہترین کارکردگی کا تقاضہ کرتی ہے لہذا انگلینڈ کے خلاف کامیابی کے لئے پاکستانی ٹیم کو غیرمعمولی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
باب وولمر نے واضح کیا کہ دانش کنیریا سپن بالنگ کے شعبے میں پاکستان کی اولین ترجیح ہیں تاہم اگر پاکستانی ٹیم دوسرے سپنر کی حکمت عملی بناتی ہے تو اس ضمن میں مشتاق احمد کی بیک اپ کے طور پر موجودگی خوش آئند ہے جو کاؤنٹی کرکٹ میں اچھی بولنگ کررہے ہیں۔ وولمر کے مطابق پاکستانی کرکٹ ٹیم جس تواتر سے کھیل رہی ہے اس میں کھلاڑیوں کی تھکاوٹ اور زخمی ہونے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ’ آج کی کرکٹ بہت بدل گئی ہے۔ پہلے ٹیسٹ میچ میں ایک دن کا آرام ہوتا تھا اور میچز کے دوران طویل وقفہ ہوتا تھا۔ اب میچوں کے درمیان صرف تین دن کا آرام ملتا ہے اور سال میں چالیس ون ڈے کھیلنے پڑ رہے ہیں اسی لیئے کھلاڑی تھک جاتے ہیں اور ان فٹ بھی ہوتے ہیں۔ اس لیئے کوشش ہے کہ بولرز کو جتنا ممکن ہوسکے روٹیشن کے تحت موقع دیں‘۔ | اسی بارے میں دورۂ انگلینڈ، تربیتی کیمپ شروع12 June, 2006 | کھیل شعیب کے ٹخنے میں’فریکچر‘04 June, 2006 | کھیل شعیب کی فٹنس، سوالیہ نشان برقرار01 June, 2006 | کھیل انگلینڈ میں جیت ففٹی ففٹی: وولمر30 May, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||